|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
سازش کےمحرکات
5مئی 2005ءکی بلڈربرگ گروپ کی کانفرنس کےحوالےسےویبسٹرگرفین نےاپنےآرٹیکل میں لکھا ہے”اس بات کےناقابل تردیدی شواہد موجود ہیں کہ (توہین رسالت پر مبنی) گستاخانہ خاکوں کےذریعےاشتعال پھیلانےکا منصوبہ اس کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا‘ گریفین کا کہنا تھا کہ ”اس اشتعال کا مقصد واضح تھا‘ اب تک مسلمان امریکہ‘ برطانیہ اور اسرائیل کیلئےنفرت کےجذبات رکھتےتھےمگر خاکوں کی اشاعت کےبعد ڈنمارک‘ ناروی‘ فرانس اور جرمنی مسلمانوں کی شدید نفرت کا ٹارگٹ بن چکےہیں۔ یوں سیموئیل ہینلسٹن کےتہذیبوں کےتصادم کےنظریےکو ایک حقیقت ثابت کرنےکیلئےراہ ہموار ہو گئی ہی۔ گرفین کےمطابق ”یورپ اب ایران کےخلاف جنگ کرنےکیلئےپہلےکی نسبت زیادہ حمایت فراہم کرنےکی پوزیشن میں
آ گیا ہی۔ فلسطین میں جمہوری طریقےسےمنتخب ہونےوالی قیادت حماس کےحوالےسےیورپ کا وہ رویہ بہت کچھ سمجھا رہا ہےجو اس نےفلسطین کو دی جانےوالی تمام امداد روک کر اپنایا ہی۔“
بحوالہ The MUhammad (PBUH) artoon Rerniting Europ for Bush war on iran by
webster griffin) ویبسٹرگریفین نےایک اور اہم نقطےکی طرف ا?شارہ کیاہےاس کےمطابق
شام‘ ایران اور لبنان میں ڈنمارک کےسفارت خانےجلائےجا چکےہیں۔ یہ سب اچانک نہیں ہوا
بلکہ کرایوں پر بھرتی کیےہوئےمظاہرین نےیہ سب کچھ کیا ہی۔ بیروت میں اقوام متحدہ
کےاہلکاروں نےبھی سی این این کو یہ بتایا کہ ”ہمیں پرتشدد مظاہروں کا پہلےسےعلم
تھا“ یہ تمام تر صورتحال یورپی عوام کو یہ باور کرانےمیں کامیاب ہو گئی ہےکہ مغرب
اور مسلم دنیا کےساتھ تہذیبوں کا تصادم اب ایک طےشدہ امر بن چکا ہی۔ جرمنی‘ فرانس‘
بلجیم اور دیگر یورپی ممالک نے2003ءمیں ایران پر حملےکا بش اور بلیئر کا منصوبہ
مسترد کر دیا تھا۔ اسی وقت سےامریکی وبرطانوی اٹلانٹک انٹیلی جنس یورپی حکمران کو
سبق سکھانےکا تہیہ کر چکی تھی۔ جرمنی چانسلر شیروڈر کی جگہ مسز مرکل لائی گئیں جو
وال اسٹریٹ اور سٹی آف لندن کی کٹھ پتلی ہیں۔ فرانس میں صدر شیراک سےیورپی یونین کا
آئین تسلیم کرانےجیسی غلطی کرا کےان کی صدارت کو انتہائی کمزور کر دیا گیا۔ صدر
شیراک اس حالت پر پہنچ گئےہیں کہ انہوں نےایران کےخلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنےتک
دھمکی دےدی ہی۔ یہ وہی شیراک تھےجو 2003ءمیں ایران پر بش وبلیئر حملےکےسب
سےبڑےمخالف تھےاور صرف ایک اس کی مخالفت پر حملہ رکوانےکی اکلوتی وجہ قرار دی جا
سکتی ہی۔ اب وہ دن ہوا ہوئےکہ جب صدر شیراک تہذیبوں کےتصادم کےنظریےکی مخالفت کر
رہےتھی۔ (بحوالہ: ویبسٹر گریفین‘ ایضاً) جیلنڈر پوسٹن نامی ڈنمارک کےاخبار میں
توہین آمیز خاکوں کا چھپنا کوئی اسی غلطی نہیں جو نادانستہ طور پر سرزد ہوئی۔ یہ
ایک گہری سازش ہےمسلمانوں کو گھیرنےکی۔ ایسےمیں سوال یہ پیدا ہوتا کہ مسلمان وہ کون
سا راستہ اختیار کریں جو اپنےاثر کےلحاظ سےموثرترین اور ردعمل کےلحاظ سےاینٹ کےجواب
میں پتھر ہو۔ اکثر یہی جواب سننےمیں آئےگا کہ مسلمان سوائےچیخنےچلانےکےاور کر بھی
سکتےہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ مسلمانوں کےپاس ایک دو نہیں کئی ہتھیار ہیں جن کا
بہترین استعمال ہی ڈنمارک کےاخبا رسےشروع ہونےوالی خباثت بھری سازش کا جواب ہی۔ ان
میں سےایک ہتھیار وہ ہےجس کےاستعمال کا ملائیشیا کےسابق وزیراعظم مہاتیرمحمد نےکچھ
عرصہ قبل مشورہ دیا تھا۔ مہاتیر محمد کا کہنا تھا ”اب گلےشکوےکرنےکا وقت گزر چکا
ہےوہ وقت آ چکا ہےکہ ”ڈالر“ کو دفن کر دیا جائی۔ مہاتیر کا یہ مشورہ ان کی
دوراندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہی۔ اصلی رہنما آنےوالےحالات کو پہلےسےہی بھانپ
لیتےہیں۔ گریفین کےالفاظ میں ڈالرکا گرنا ہی ا نٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (imf) اور
وولفوٹز کےورلڈبینک کا گر جانا ہےجو دنیابھر کی سازشوں کو پروان چڑھانےکیلئےعظیم
ترین انجمنوں کا کام کر رہےہیں۔
|