|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مغربی تہذیب‘ اسلام دشمنی کےعمیق اسباب
بدقسمتی سےاو
آئی سی کا اب تک کا کردار امریکہ اور مغرب کےحوالےسےزیادہ اعتماد افزا او رجاندار نہیں رہا۔ اب اسےامید افزا اور جاندار بنانا مقصود ہےتو مسلمان وزرائےخارجہ کی سوچ میں خوداعتمادی اور
آزادی عمل پیدا ہونی ضروری ہےورنہ اندیشہ ہےکہ وزرائےخارجہ بعض فرسودہ کلیشےکےاعادےسےزیادہ کچھ نہیں کر سکیں گےلیکن میری دانست میں خاکوں کی اشاعت ایک خیرمستور بھی ثابت ہو رہی ہےجس نےعالم اسلام کو جھنجھوڑا ہےنیز امہ کےتصور کو مضبوط کیا ہی۔ ہمارےاکثر وبیشتر لبرل دانشور یہ کہنےکےعادی ہیں کہ امہ کا تصور بےمعنی ہےاور امہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔وہ خاکوں کی اشاعت پر سامنےوالےردعمل کو دیکھیں جو مراکش سےانڈونیشیا تک بالکل یکساں ہےتو انہیں بآسانی سمجھ
آ جائےگا کہ عالم اسلام ایک مخصوص معنوں میں ایک فطری اور عملی اکائی کی حیثیت رکھتا ہی۔ ظاہر ہےکہ او
آئی سی کےارکان کی تعداد 58 ہی۔ ان کےاپنےاپنےقومی مفادات ہیں۔ ان میں اختلافات بھی پائےجاتےہیں۔ ان کےدرمیان مسلح تصادم بھی ہو جاتےہیں لیکن فکر وعمل کےاشتراک اوراتحاد کی ایک زیریں لہر بھی پورےعالم اسلام میں موجود ہی۔ مجھےبتایا ہےکہ جب معاصر مسائل پر دنیا کےمختلف ملکوں اور براعظموں میں بسنےوالےمسلمانوں کےردعمل کا سروےکیا گیا توان کےجوابات میں حیرت انگیز مماثلت پائی گئی۔ وہ ایک ہی طرح سوچتےتھےاس لیےامہ کو محض ایک واہمہ کہنا اب کسی ہوشمند مسلمان کیلئےممکن نہیں ہونا چاہیی۔ جیسا کہ عرض کیا خاکوں کی اشاعت عالم اسلام کیلئےایک خیرمستور ثابت ہوئی ہےجو ان کی سوچ اور عمل میں یکجائی اور یکجہتی پیدا کرنےکا باعث بنےگی اور شاید اسی وجہ سےاو
آئی سی بھی ایک زیادہ فعال تنظیم بن سکی۔
|