|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مغرب کی اسلام مخالف انتہاپسندی
عالمی برادری اس پر حیران ہےکہ اتنا عظیم کارنامہ انجام دینےوالےمجاہدین کو عالمی ہیروز کےطور پر پیش کرنےکی بجائےامریکی ومغربی میڈیا نےانہیں ”مذہبی جنونی“ ”انتہاپسند“ اور دہشت گرد قرار دےکر ان کےخلاف بدترین قسم کا میڈیا ٹرائل اور میڈیاوار شروع کر دی۔ گویا امریکیوں نےطےکر لیا کہ 1990ءکےبعد سےان کا حریف صرف اور صرف اسلام ہی۔ کمیونسٹ حریف کےخلاف تو اس نےمحض سردجنگ شروع کی تھی جبکہ عالم اسلام کےخلاف ہمہ جہتی گرم جنگ کا
آغاز کر دیا گیا ہی۔ مغربی میڈیا نےاسلام‘ بانی اسلام‘ شعائر اسلامی اور مسلم اقدار وروایات کےخلاف بدبودار پراپیگنڈہ کا ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا۔ حالیہ دنوں میں ڈنمارک اور کئی دیگر یورپی ممالک کےاخبارات میں بتکرار وباصرار شائع ہونےوالےخاکےایک تو مغربی اخبار نویسوں کی اسلام سےلاعلمی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں اور دوسر ایہ ان کےخبث باطن کو ظاہر کرتےہیں۔
ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت یقینا سہواً نہیں ہوئی بلکہ انہیں عمداً باربار
شائع کیا گیا۔ اس پر آزادی اظہار رواداری‘ بین المذاہب ہم آہنگی ‘ تہذیبوں کےمابین
مکالمےاور برداشت کےچیمپئن مغربیوں نےمعذرت تک کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ یکم فروری
2006ءکو ان کارٹونوں کو ڈنمارک کےعلاوہ ناروی‘ فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی‘ اسپین‘ نیوزی
لینڈ اور آئرلینڈ کےاخبارات نےبھی شائع کیا۔ اپنی اس شریرانہ اور مفسدانہ اشتعال
انگیزی کی وکالت کرتےہوئےالٹا چور کوتوال کو ڈانٹےکےمصداق ان اخبارات کےذمہ داران
نےیہ موقف اپنایا کہ ”ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا مقصد یہ دکھانا ہےکہ ایک
سیکولر معاشرےمیں مذہبی کٹرپن کی گنجائش نہیں ہی۔ سب سےپہلےیہ گستاخانہ خاکےڈنمارک
کےایک کثیرالاشاعت اخبار نےکارٹون سازی کےمقابلےکا باقاعدہ انعقاد کروا کر تیار
کروائی۔ اس مقابلےمیں اخبار کو سو سےزائد کارٹون موصول ہوئےاور ان میں سےاخبار نے12
گستاخانہ خاکےشائع کیی۔ یہ کتنی شرمناک اور گھنائونی حرکت تھی کہ اخبار نےاسلام
بیزاری اور مسلم دشمنی کےکٹر صلیبی جنگی جنونی جذبات سےمغلوب ہو کر ایک ایسا
گستاخانہ خاکہ شائع کیا جس میں نبی رحمت‘ محسن انسانیت کو ایک ایسا عمامہ
پہنےہوئےدکھایا گیا جو بموں اور میزائلوں سےبھرا ہوا تھا۔ اس پر ابتداءمیں ڈنمارک
کےاسلامی مراکز کےعہدیداران نےاحتجاج کیا۔ اخبار کےایڈیٹر نےصحافتی اخلاقیات
سےانحراف کرتےہوئےانتہائی ڈھٹائی کےساتھ اس احتجاج کو مسترد کر دیا اسی پر بس نہیں
بلکہ جب ڈنمارک کےمسلمانوں نےاخبار کےایڈیٹر سےملاقات کرنا چاہی تو اس نےملاقات
سےبھی انکار کر دیا۔ شروع میں ڈنمارک کی حکومت کا رویہ بھی انتہائی ناشائستہ اور
ناپسندیدہ رہا۔ حکومت نےمسلمانوں کی تالیف قلب کرنےکی بجائےاخبا رکی مکمل حمایت اور
اس کےعملےکو تحفظ دینےکےعزم کا اعادہ کیا۔ ڈنمارک کےوزیراعظم اینڈرسن نے3فروری
2006ءکو سفارتکاروں کےایک اجتماع سےخطاب کرتےہوئےانتہائی بھونڈےخیالات کا اظہار
کیا۔ انہوں نےکہا ڈنمارک کی حکومت نےجس حد تک ہو سکتا تھا آزادی رائےاور آزادی
اظہار کےبارےمیں اپنا موقف واضح کر دیا ہےاور وہ اس پوزیشن میں نہیں ہےکہ اپنےملک
کےاخبارات کو وارننگ دےسکیں تاہم انہوں نےکہا کہ وہ اس پر مطمئن ہیں کہ اخبار
نےمعذرت کر لی ہی۔ خبر ونظر کی دنیا سےتعلق رکھنےوالےارباب بصیرت جانتےہیں کہ
مذکورہ اخبار کےمدیر کی معذرت انتہائی ڈھیلی ڈھالی اور گول مول تھی۔ بعدازاں اس
اخبارات کےساتھ یورپی یونین کےدیگررکن ممالک نےعجیب وغریب اور ناقابل فہم قسم کا
اظہار یکجہتی کیا۔ آزادی رائےکےساتھ اس صیہونی دانشور اور صحافی انتہاپسندی کےجذبات
سےسرشار ہو کر صرف اور صرف اسلام کی تذلیل اور مسلمانوں کی اہانت کیلئےبطور ایک
ہتھیار کےاستعمال کر رہ اہی۔ ابھی ڈنمارک کےاخبار کا زخم تازہ ہی تھا کہ پیرس
سےشائع ہونےوالےاخبار ”فرانسواسواغ“ نےاس گستاخانہ خاکےکو دوبارہ شائع کیا۔ اخبار
کےمالک نےگستاخانہ خاکےشائع کرنےوالےایڈیٹر کو برطرف کر دیا اور مسلمانوں اور ان
تمام لوگوں سےمعذرت کی گستاخانہ خاکےکی اشاعت سےجنہیں صدمہ پہنچا تھا۔ فرانسواسواغ
کےعلاوہ جرمنی کے”ڈائی ویلٹ“ اٹلی کے”لاس ٹیمپا“ اور سپیش کا ”ایل پیریڈیکو“ بھی اس
مذموم مہم میں شامل ہو گی۔ اس کےبعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ ان گستاخانہ خاکوں کی
اشاعت کیا واقع آزادی اظہار سےتعلق رکھتی ہی۔ سی این این‘ بی بی سی اور اسی طرح
کےدیگرمغربی نشریاتی اداروں نےمسلمانوں کو اپنےتئیں سمجھانےکی کوشش کی کہ وہ ان
گستاخانہ خاکوں پر برافروختہ ہونےکی بجائےیہ سمجھنےکی کوشش کریں کہ گستاخانہ خاکہ
کیا ہوتا ہی۔
|