|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مغرب کی اسلام مخالف انتہاپسندی
وہ اس پر زور دیتےرہےکہ عالم اسلام کےشہریوں کو مغربی حکومتوں کےموقف کو سمجھنےکی کوشش کرنی چاہیےاور ساتھ ہی تمسخر اڑاتےہوئےصحافیانہ
آزادی کا استعمال اس رائےکو پلانٹ کرنےکیلئےکیا کہ چونکہ مسلمان ملکوں میں شہریوں کو اظہاری اور صحافتی
آزادی اس حد تک حاصل نہیں جتنا کہ یورپ اور مغربی ملکوں کےشہری اس سےمحظوظ ہو رہےہیں۔ جن اخبارات کےایڈیٹروں نےمعذرت کی ان کی مذہبی انتہاپسندی کا بھی عالم یہ تھا کہ معذرت کرتےہوئےبھی وہ یہ کہتےرہے”ہم اس بات پر پشیمان نہیں کہ ہم نےگستاخانہ خاکےکیوں بنوائےاور شائع کیےلیکن ہم صرف اس پر معذرت کر رہےہیں کہ اس سےمسلمانوں کو تکلیف ہوئی ہی‘ ‘ نظری قسم کی بحثیں شروع کر دی گئیں۔
البتہ اس بحثوں کےدوران وہ یہ بھول گئےکہ ہر شخص کی
آزادی دوسرےکی ناک پر ختم ہو جاتی ہی۔ مغربی اخبارات میں شائع ہونےوالےیہ گستاخانہ خاکےبھی یوں محسوس ہوتا ہےکہ ایک خاص پلاننگ کےتحت یورپی یونین کےرکن ممالک نےشائع کیےتاکہ جب امریکی صدر بش دنیا کےدورےپر نکلیں تو انہیں نہ خوشگوار حالات وواقعات کا سامنا کرنا پڑی۔ عالم یہ ہےکہ اس وقت پاکستان سمیت عالم اسلام کےتمام ممالک میں یورپی یونین کےاخبارات کےغیردانشمندانہ اور غیرذمہ دارانہ رویوں کےخلاف احتجاج باقاعدہ ایک تحریک کےروپ میں ڈھل چکا ہی۔ یہ ایک حقیقت ہےکہ ناموس رسالت کےتحفظ کی اس تحریک کو لاٹھی ‘گولی‘ کرفیو اور ریاستی مشینری کےکسی بھی قسم کےتشدد سےدبایا نہیں جا سکتا۔ یوں تو صدر بش اور ان کا حواری یورپ دنیابھر کےمسلمانوں کو تحمل‘ رواداری اور برداشت کے”سرمن“ دیتےنہیں تھکتےلیکن وہ
آزادی اظہار کو انتہاپسندانہ نظریات کےفروغ کیلئےاستعمال کرنےوالےمغرب کےگٹر پریس کی کھلےالفاظ میں مذمت بھی کرنےسےکتراتےہیں۔ ان کا یہ رویہ اور یہ روش ظاہر کرتی ہےکہ صدر بش ہوں یا مغربی ممالک کےان کےحواری حکمران‘ دونوں مغربی‘ صلیبی انتہاپسندوں سےخائف اور ہراساں ہیں۔ اخباری اطلاعات کےمطابق ہندوستان پہنچنےسےقبل امریکی صدر بش نےمختلف ٹی وی چینلز کےنمائندوں سےگفتگو کرتےہوئےایک بار پھر حکومت پاکستان کو انتہاپسندی اور دہشت گردی کےخاتمےکیلئےجملہ توانائیاں بروئےکار لانےکی تلقین کی ہی۔ انہوں نےبھارتی لابیوں کو خوش کرنےکیلئےپاکستان میں دہشت گردوں کےگرین کیمپوں کا بھی تذکرہ کیا ہےجبکہ حقیقت یہ ہےکہ پاکستان میں ایک بھی ایسا کیمپ موجود نہیں۔ صدر بش کےاس بیان سےیہ
آشکار ہوتا ہےکہ پاکستانی وزارت خارجہ اور دیگر حکومتی ارباب حل وعقد امریکی حکام کو دہشت گردی کےخلاف جاری اپنی سرگرمیوں سےبکمال وتمام
آگاہ کرنےسےقاصر رہےہیں۔ دہشت گردی کیوں جنم لیتی ہی؟ انتہاپسندی کو بال وپر پھیلانےکےمواقع کیوں ارزاں ہوتےہیں۔ اس کا جواب صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نےایک امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور امریکی جریدےنیوزویک کو انٹرویو دیتےہوئےبخوبی دیا تھا۔ انہوں نےکہا تھا کہ ”اسلام امن پسند اور انسانیت کی ترقی اور خوشحالی کا داعی دین ہی‘ اسلام کا جدیدیت سےکوئی تصادم نہیں مغرب تک اسلام کی حقیقی تصویر ان کی عدم مساعی اور لاعلمی کےباعث نہیں پہنچی“ سچ تو یہ ہےکہ امریکی حکام‘ عوام اور اس کےحلیف مغربی ممالک کےمقتدر طبقات اور شہریوں کو اپنی سوچ اور رویوں میں تبدیلی پیدا کرنا چاہیی۔ ان کےتھنک ٹینکس اپنےعوام کےسامنےاسلام کی حقیقی تصویر پیش نہیں کر رہی۔ اسلام ترقی‘ جدید سائنس اور نئےعلوم کا کسی طور بھی مخالف نہیں۔ امریکا اور مغرب کےذمہ داران کو بھی یہ سمجھنےکی کوشش کرنا چاہیےکہ عالم اسلام کےشہریوں کی اکثریت جنگ سےنفرت کرتی اور امن سےمحبت کرتی ہےلیکن جب کوئی عالمی طاقت پیشگی حملہ کی ڈاکٹرائن کےتحت افغانستان اور عراق ایسےمسلم ممالک کےنہتےاور معصوم شہریوں پر وسیع پیمانےپر تباہی پھیلانےوالےبموں اور میزائلوں کی بارش کر کےان کےگھروں او رشہریوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیں گےتو ردعمل میں وہ چیخنی‘ رونےاور چلانےکا حق تو رکھتےہیں۔ا مریکا ومغرب کےذمہ داران کو بھی تنگ نظری چھوڑنا ہو گی۔ ان کےمیڈیا کو اسلام مخالف انتہاپسندانہ نظریات ترک کرنا ہوں گےاور یہ باور کرنا ہوگا کہ ان کےاس عمل کی وجہ سےدنیا میں انتہاپسندی جنم لےرہی ہی۔ یہی انتہاپسندی بقول صدر مملکت بعدازاں دہشت گردی کو جنم دیتی ہی۔
|