kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش

 

مغربی مفکرین کا فکری انتشار

 

 

عیسائیت پر آسانی سےغلبہ پا لینےسےحاصل ہونےولای خوداعتمادی اور اپنی مادی‘ عسکری اور استعماری سبقت کےپیش نظر یہی خیال کیا گیا کہ اسلام پر بھی آسانی سےوہ اپنی گرفت مضبوط کر لینےمیں کامیاب ہو جائیں گےتاہم راقم الحروف کےخیال میں مغرب کو اپنےنامزد وسائل اور طاقت کےاستعمال کےباوجود اس ضمن میں بہت جزوی اور نہایت سطحی کامیابی کےسوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اسلامی ممالک میں مغرب کی عقلیت پرستی اور مادہ پرستی کم از کم ان طبقات ومفکرین پر اپنا رعب اوردبدبہ بالکل نہیں جما سکی جو اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات تصور کرتےہیں۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہےکہ یہ طبقات ومفکرین تعمیری نوعیت کی معقولیت پسندی یا مادی رہن سہن کےمخالف نہیں لیکن اسلام کی عطاکردہ روحانی واخلاقی اقدار کو مادیت پر مقدم جانتےہیں اور عقلیت پرستی کو بھی قرآنی بصیرت کا محکوم رکھتےہوئےانسانی اعمال کی حدود اللہ کےاندر رہنےکا پابند سمجھتےہیں۔
آزادی اظہار رائےپر بھی اسی اصول کا اطلاق کرتےہوئےاسلامی معاشروں میں اس کی بھی حدود وقیود متعین ہیں۔ دور جدید میں عملی اعتبار سےاگرچہ مسلمان اسلام کو بحیثیت نظام کےنافذ کرنےمیں ناکام رہےہیں تاہم نظریاتی اعتبار سےمسلمانوں کی اسلام سےوالہانہ وابستگی‘ پیغمبراسلام حضرت محمد سےوالہانہ عقیدت اور مغربی افکار کو صرف جزوی اعتبار سےقبول کرنا اب مغربی مفکرین کیلئےفکری بےچینی اور انتشارکا سبب بن رہا ہی۔ یہ بےچینی وانتشار خصوصاً دائیں باز وکی جماعتوں اور مفکرین میں بہت زیادہ دیکھنےمیں آ رہا ہی۔ دائیں بازو کےزیراثر ذرائع ابلاغ اسلام کےمتعلق کوئی مثبت بات سننےکیلئےتیا رنہیں اور اسلام کےمتعلق ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سےجانےنہیں دیتی۔ یہاں اپنےپاکستانی قارئین کو یہ بتانا ضروری ہےکہ ڈنمارک میں اس وقت دائیں بازو کی جماعت برسراقتدار ہےاور جیلانڈ پوسٹن پچھلےکئی برسوں سےاسلام اور مسلمانوں کی توہین اور اسلامی ممالک کےخلاف زہر اگلنےمیں سرگرم رہا ہی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ دائیں بازو کےمفکرین او رجماعتیں اس خصوصیت کےساتھ اسلام کےخلاف کیوں سرگرم عمل ہیں۔ اس سوال کا جواب یہ ہےکہ کمیونزم کےزوال کےبعد بائیں باز وکی فکر وطاقت کو مغرب میں بھی پسپائیت اختیار کرنا پڑی سرمایہ دارانہ نظام کی جیت نےجوکہ دائیں بازو کی جماعتوں کا فلسفہ اور ایجنڈا لےکر کامیاب اور فاتح ٹھہرا۔ دائیں بازو کےمفکرین وجماعتوں کو ایک نئی طاقت بخشی۔ عقلیت پرستی او رمادہ پرستی کی سوچ کو تمام دنیا میں رائج کرنےکیلئےگلوبلائزیشن کےذریعےسےاب نئےاہداف دیئےگئےاور اس فلسفہ زندگی کا نیا ایڈیشن نیو لبرل ازم کےعنوان سےموسوم وجاری کیا گیا۔ اب یہ ایڈیشن اہل مغرب او رمغربی فکر کیلئےوہی حیثیت رکھتا ہےجو قرآن کریم کو اسلام اور مسلمانوں کیلئےحاصل ہی۔ اس ایڈیشن کی سب سےبڑی خصوصیت یہ ہےکہ اس میں عقلیت پرستی مادہ پرستی اور مادرپدر آزادی اپنی انتہائی شکل میں سامنےآئی ہی۔ تمام دنیا کو ہر اعتبار سےصرف ایک منڈی تصور کیا گیا ہی۔ انسانوں کو صرف ایک صارف کےطورپر دیکھا گیا ہےتمام انسانی مساعی انسانی خوشیاں ومسرتیں لطف راحتیں اور کامیابیاں صرف اور صرف زیادہ سےزیادہ مادی اشیاءخدمات کےصرف onsume کرنےسےمتعلق بنائی گئی ہیں۔ انسانی زندگی کا مقصد انفرادی سطح پر زیادہ سےزیادہ معاشی سرگرمیوں میں ملوث ہونا اور اجتماعی سطح پر اپنےملکوں کی معیشت کو بہتر سےبہتر بنانا قرا ردیا گیا ہی۔ اخلاقی اور روحانی اقدار کیلئےاس نئےفکری نظام میں کوئی جگہ نہیں۔ روحانی اقدا رکی غیرموجودگی کےباعث پیدا ہونےوالی خلا کو فحش لچرٹی وی پروگراموں فلموں بےہنگم موسیقی نشہ آور ادویات کےاستعمال کثرت شراب نوشی جوا عورت کی آزادی کےنام پر لی گئی جتنی آزدی ہم جنس پرستی اور اسی نوعیت کی دیگر خباثتوں اور وحشیانہ پن سےپر کرنےکی کوشش کی گئی ہی۔ اس معاشرتی نظام کی بھی ایک زندہ مثال خود ڈنمارک ہی۔
ان حالات میں اسلام اس نئےمغربی فکری تہذیبی وثقافتی غلبےکی راہ میں نہ صرف ایک رکاوٹ ہےبلکہ ایک متبادل تعمیری اور جاندار فکری وعملی نظام اور انفرادی واجتماعی زندگی کیلئےایک مکمل ضابطہ حیات پیش کرنےکےباعث اس مغربی فکر کا متبادلہ ومدمقابل ہی۔ وہ مسلمان جو اسلام کےدیئےہوئےضابطہ حیات کو عملاً اپنی زندگی میں اختیار کرتےہیں وہ نہ صرف اس نیو لبرل ازم دی ہوئی لعنتوں کو مسترد کرتےہیں بلکہ حقیقی نفرت کی نگاہ سےدیکھتےہیں اور مغرب کےنظریاتی حملوں کا جواب اس بات سےدیتےہیں کہ صرف مسلمانوں ہی کی نہیں بلکہ خود اہل مغرب اور تمام کرہ ارض کےانسانوں کی بقاءاو رنجات اسلام کےروحانی واخلاقی اقدا رپر مبنی نظام کو اختیار کرنےمیں ہی۔

 

Go to Page:

*    *    *

tohin-e-risalat, sher angaiz mawad ki ashat, izhar ki azadi ya sher angezi, panja-e-yahood or europe, yahudioN ki sharartain, sazish ke muharrikat, maghrib ki islam mukhalifat, holocaust ka inkar, denark ka khaka, tahziboN ka tasadam, salibi jangoN ka naya silsila, shatim rasool ki saza or muafi, denmark ka boycott, jang, war, pyena round table conference, salahud din ayyubi, talash-e-aman, naqli qurran ki taqseem, pur tashaddud ahtajaj ke muashi muzimmarat, fikri pasmandgi ka shikar europian media

 

Download the PDF version for Offline Reading.(Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is needed for view and read these Digital PDF E-Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)