|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
ترکان احرار او ریہود نواز
آسٹروی جج
اور یہ بات بھی ہےکہ مذکورہ برآمدی اعداد وشمار میں ڈینش باشندوں کی ملکیت مقامی پیداوار یا سروسز‘ کمیونیکیشن‘ خدمات او رشپنگ شامل نہیں‘ جن سےڈنمارک کو 8 ارب کرونر سالانہ کی
آمدنی ہوتی ہی۔ ان دنوں ڈینش شپنگ کمپنیوں کےجہاز مسلم ممالک کی بندرگاہوں میں لنگرانداز ہوتےوقت ڈینش پرچم اتار دینےپر مجبور ہیں۔
ایک طرف ڈینش وزیرخارجہ یہ کہتےہیں کہ پشاورکےعالم مولانا یوسف قریشی کی طرف
سےکارٹونسٹ کو قتل کرنےوالےکیلئے10لاکھ ڈالر کا انعام قابل مذمت او رغیراسلامی ہی‘
دوسری طرف وہ نبی رحمتکےتوہین آمیز خاکےبنانےاور شائع کرنےکےگھنائونےجرم کی مذمت
کرنےاورمعافی مانگنےتک کےروادار نہیں۔ یہ اہل مغرب کی بدترین منافقت اور دوغلےپن کا
اظہار ہی‘ جو ان کی صلیبی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہی۔ آزادی اظہار رائےکا ڈھنڈورا
پیٹنےوالوں کےجھوٹ کی ہنڈیا آسٹریا کےایک جج نےبیچ چوراہےمیں پھوڑی ہےجس نےباضمیر
برطانوی مورخ ڈیوڈاورنگ کو محض اس بناءپر 17سال بعد 3سال قید کی سزا دی ہےکہ اس
نےنازیوں کےہاتھوں یہودیوں کےمفروضہ قتل عام ”ہولو کاسٹ“ کی تردید کی تھی۔ یاد
رہےکہ Holoaust (مکمل طور پر جلا دیئےگئی) یہودیوں کی گھڑی ہوئی ایک ایسی اصطلاح
ہےجو یہ ظاہر کرتی ہےکہ جرمن چانسلر ایڈولف ہٹلر کےعہد اقتدار میں 60لاکھ یہودی
نظربندی کیمپوں کی بھٹیوں میں ہلاک کر دیئےگئےتھی۔ یہ مبالغہ آمیز پرواپیگنڈا
یہودیوں نے”مظلوم“ بن کر فلسطین پر قبضےکا ”حق“ حاصل کرنےکیلئےکیا تھا‘ جس کی
ڈیوڈارونگ نے1989ءمیں تردید کرنےکی جسارت کی تھی‘ چونکہ یورپ وامریکہ کے”فرنگ کی رگ
جاں پنجہ یہود میں ہی“ اس لیےیورپ کےکئی ممالک نےیہودی جھوٹ ”ہولوکاسٹ“ کی تردید کو
جرم قرار دےرکھا ہےاو راسی ”جرم“ کی پاداش میں بیچارےڈیوڈ ارونگ کو ہتھکڑی لگا کر
آسٹریا کی عدالت میں پیش کیا گیا ہی۔ اس کےباوجود اہل مغرب کا آزادی‘ اظہار
رائےکاراگ الاپنا اور اس کی آڑ میں انبیائےکرام کےتوہین آمیز خاکےشائع کرنےپر اصرار
انتہائی شرمناک ہی۔
|