kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش

 

ہولوکاسٹ کا انکار؟


 

 

میں مسلمانوں کےنقطہ نظر یا عمومی زاویےسےبھی اس بحث کا قائل نہیں کہ 60 لاکھ یہودی مارےگئےتھےیا 60 ہزار یا صرف 60‘ میری نظر میں ایک شخص کا بھی صرف اس کےمذہب کی بنیاد پر قتل کیا جانا قابل قبول نہیں ہی‘ نہ ذاتی فعل کےطور پر اور نہ ریاست کےاقدام کےطور پر۔ مسلمانوں کو خاص طور پر اس بحث سےدور رہنا چاہیی۔ایک عیسائی شخص نےیا عیسائیوں کی ایک سیاسی جماعت نےیہودیوں کو زہریلی گیس سےہلاک کیا اور اگر پوری عیسائی دنیا اس بات کی گواہی دیتی ہےکہ یہ تاریخی حقیقت ہےتو ٹھیک ہےیہ لوگ اور ان کےگواہ موقع واردات پر موجود تھی‘ مسلمان وہاں موجود نہیں تھےہاں اگر یورپی عیسائیوں میں کچھ لوگ اس سےاتفاق نہیں کرتےتو ان کےساتھ مغربی حکومتوں کو وہی روشن خیال میانہ روی برتنا چاہیےجو وہ مسلمانوں کےمعاشروں میں پید اکرنا چاہتےتھی۔ آخر ہر شعبےمیں مغرب کو ماڈل بنانےپر اصرار کیا جاتا ہےتو اس شعبےمیں ماڈل بننےکا بوجھ ترکی اور پاکستان پر کیوں رہی؟
ہٹلر اور نازی پارٹی کا موقف یہ تھا کہ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست یورپی یہودیوں کی جرمن دشمن طاقتوں سےسازباز تھی۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان نژاد امریکی شہریوں کو ملک بھر سےپکڑ کر کیمپوں میں رکھا گیا تھا ان پر کوئی الزام نہیں تھا کہ انہوں نےماضی میں کبھی بھی امریکی شہری ہوتےہوئےامریکہ سےاپنی وفاداری پر داغ آنےدیا تھا لیکن امریکیوں کو شک تھا کہ کیونکہ جاپان سےان کا رشتہ رہا ہےاس لیےان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ نازیوں کو بھی یہودیوں پر شک تھا او ربقول ان کےیہودی پہلی جنگ عظیم میں غداری کر چکےتھےچنانچہ اس دفعہ جنگ میں یہودوں کو پکڑ کر قید کیا گیا لیکن صدر Franklin Roosevelt کوڈیموکریٹ پارٹی اور ہٹلر کی نازی پارٹی میں یہ فرق اہمیت رکھتا ہےکہ امریکی صدر نےمعصوم امریکی شہریوں اور عورتوں اور چھوٹےچھوٹےبچوں کو کیمپوں میں قید رکھا‘ زہریلی گیس کےکمروں میں موت کےگھاٹ نہیں اتارا جبکہ ہٹلر نےیہ گھنائونا اقدام کیا جس کیلئےاس کی مذمت جائز ہی۔ا مریکیوں نےاس اقدام پر جنگ کےبعد اس پر اظہار افسوس نہیں کیا تھا۔ ہاں جنگ کےتقریباً 50برس بعد معافی مانگ لی گئی تھی جو کہ امریکیوں کی فراخدلی کا جیتا جاگتا ثبوت ہےاگر بعض منکروں کو کسی ثبوت کی ضرورت ہی۔ نازیوں کےظلم ہوئے65 برس ہو گئی۔ میں نےخود تحقیق نہیں کی ہےلیکن کہا جاتا ہےکہ امریکی اور مغربی میڈیا میں 60لاکھ یہودیوں کی ہلاکت کا ذکر اس وقت ہوا جب جرمنی پر قبضےکےبعد زہریلی گیس کےکمروں کا انکشاف ہوا جنہوں نےظلم کیےوہ مر گئی‘ جن پر ظلم ہوئےوہ بھی مر گئی۔ 11 ستمبر کےحملےمیں جو مسلمان شامل تھےوہ مر گئی۔ ان کا جن ممالک سےتعلق تھا انہوں نےمعافیاں مانگ لیں اور اپنی تمام سہولتیں امریکیوں کےحوالےکر دیں۔ ان حملوں میںکوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن جس طرح آسٹریا کا یہ قصور تھا کہ ہٹلر وہاں پیدا ہوا تھا اسی طرح پاکستان کا قصور یہ تھا کہ طالبان پاکستان سےگئےتھی۔

 

Go to Page:

*    *    *

tohin-e-risalat, sher angaiz mawad ki ashat, izhar ki azadi ya sher angezi, panja-e-yahood or europe, yahudioN ki sharartain, sazish ke muharrikat, maghrib ki islam mukhalifat, holocaust ka inkar, denark ka khaka, tahziboN ka tasadam, salibi jangoN ka naya silsila, shatim rasool ki saza or muafi, denmark ka boycott, jang, war, pyena round table conference, salahud din ayyubi, talash-e-aman, naqli qurran ki taqseem, pur tashaddud ahtajaj ke muashi muzimmarat, fikri pasmandgi ka shikar europian media

 

Download the PDF version for Offline Reading.(Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is needed for view and read these Digital PDF E-Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)