|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
ہولوکاسٹ کا انکار؟
میں مسلمانوں کےنقطہ نظر یا عمومی زاویےسےبھی اس بحث کا قائل نہیں کہ 60 لاکھ یہودی مارےگئےتھےیا 60 ہزار یا صرف 60‘ میری نظر میں ایک شخص کا بھی صرف اس کےمذہب کی بنیاد پر قتل کیا جانا قابل قبول نہیں ہی‘ نہ ذاتی فعل کےطور پر اور نہ ریاست کےاقدام کےطور پر۔ مسلمانوں کو خاص طور پر اس بحث سےدور رہنا چاہیی۔ایک عیسائی شخص نےیا عیسائیوں کی ایک سیاسی جماعت نےیہودیوں کو زہریلی گیس سےہلاک کیا اور اگر پوری عیسائی دنیا اس بات کی گواہی دیتی ہےکہ یہ تاریخی حقیقت ہےتو ٹھیک ہےیہ لوگ اور ان کےگواہ موقع واردات پر موجود تھی‘ مسلمان وہاں موجود نہیں تھےہاں اگر یورپی عیسائیوں میں کچھ لوگ اس سےاتفاق نہیں کرتےتو ان کےساتھ مغربی حکومتوں کو وہی روشن خیال میانہ روی برتنا چاہیےجو وہ مسلمانوں کےمعاشروں میں پید اکرنا چاہتےتھی۔
آخر ہر شعبےمیں مغرب کو ماڈل بنانےپر اصرار کیا جاتا ہےتو اس شعبےمیں ماڈل بننےکا بوجھ ترکی اور پاکستان پر کیوں رہی؟
ہٹلر اور نازی پارٹی کا موقف یہ تھا کہ پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست یورپی
یہودیوں کی جرمن دشمن طاقتوں سےسازباز تھی۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان نژاد امریکی
شہریوں کو ملک بھر سےپکڑ کر کیمپوں میں رکھا گیا تھا ان پر کوئی الزام نہیں تھا کہ
انہوں نےماضی میں کبھی بھی امریکی شہری ہوتےہوئےامریکہ سےاپنی وفاداری پر داغ
آنےدیا تھا لیکن امریکیوں کو شک تھا کہ کیونکہ جاپان سےان کا رشتہ رہا ہےاس لیےان
پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ نازیوں کو بھی یہودیوں پر شک تھا او ربقول ان کےیہودی
پہلی جنگ عظیم میں غداری کر چکےتھےچنانچہ اس دفعہ جنگ میں یہودوں کو پکڑ کر قید کیا
گیا لیکن صدر Franklin Roosevelt کوڈیموکریٹ پارٹی اور ہٹلر کی نازی پارٹی میں یہ
فرق اہمیت رکھتا ہےکہ امریکی صدر نےمعصوم امریکی شہریوں اور عورتوں اور
چھوٹےچھوٹےبچوں کو کیمپوں میں قید رکھا‘ زہریلی گیس کےکمروں میں موت کےگھاٹ نہیں
اتارا جبکہ ہٹلر نےیہ گھنائونا اقدام کیا جس کیلئےاس کی مذمت جائز ہی۔ا مریکیوں
نےاس اقدام پر جنگ کےبعد اس پر اظہار افسوس نہیں کیا تھا۔ ہاں جنگ کےتقریباً 50برس
بعد معافی مانگ لی گئی تھی جو کہ امریکیوں کی فراخدلی کا جیتا جاگتا ثبوت ہےاگر بعض
منکروں کو کسی ثبوت کی ضرورت ہی۔ نازیوں کےظلم ہوئے65 برس ہو گئی۔ میں نےخود تحقیق
نہیں کی ہےلیکن کہا جاتا ہےکہ امریکی اور مغربی میڈیا میں 60لاکھ یہودیوں کی ہلاکت
کا ذکر اس وقت ہوا جب جرمنی پر قبضےکےبعد زہریلی گیس کےکمروں کا انکشاف ہوا جنہوں
نےظلم کیےوہ مر گئی‘ جن پر ظلم ہوئےوہ بھی مر گئی۔ 11 ستمبر کےحملےمیں جو مسلمان
شامل تھےوہ مر گئی۔ ان کا جن ممالک سےتعلق تھا انہوں نےمعافیاں مانگ لیں اور اپنی
تمام سہولتیں امریکیوں کےحوالےکر دیں۔ ان حملوں میںکوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا
لیکن جس طرح آسٹریا کا یہ قصور تھا کہ ہٹلر وہاں پیدا ہوا تھا اسی طرح پاکستان کا
قصور یہ تھا کہ طالبان پاکستان سےگئےتھی۔
|