kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش

 

تمہید

 

 تاریخ گواہ ہےکہ علیم الدین شہید جیسےکروڑوں مسلمان اب بھی روئےزمین پر موجود ہیں جو گستاخ رسول کی گردن کاٹنے کےلئےآج بھی تیار ہیں۔ جنگ بدر کا یہ واقعہ تو آپ کا یاد ہوگا کہ جب دو کمسن اور ننھےمجاہدین اسلام نےنبی کریمسےاجازت لےکر کفر اور اسلام کےمابین ہونےوالی ابتدائی جنگ میں نہ صرف شرکت کی بلکہ انہی کمسن مجاہدوں نےاپنی تلوار کی ضرب سےابوجہل جیسےلعین کا سر تن سےجدا کر دیا۔
جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کےساتھ ساتھ انہیں اذیت بھی پہنچاتا تھا یہ بات تو طےہےکہ ہر مسلمان چاہےوہ مشرق میں بستا ہےیا مغرب میں، وہ جب تک اپنےنبی کی شان میں ہونےوالی گستاخی کا بدلہ نہیں چکا لےگا اسےسکون میسر نہیں آ سکتا۔ کیونکہ اسلام میں گستاخی رسول کی سزا معافی نہیں صرف اور صرف موت ہی۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہےکہ ڈنمارک کےساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات ختم کر دیئےجائیں۔ ڈنمارک کی مصنوعات کا استعمال بند کر دیا جائےتاکہ اس یورپی ملک کو مسلمانوں کےآقا کی شان میں گستاخی کرنےکا مزا چکھایا جاسکی۔ میری نظر میں اگر ایسا کر بھی لیا جاتا ہےتو جب امریکہ سمیت تمام یورپ اور عیسائی یہودی دنیا ڈنمارک کی ہمرکاب ہیں تو اسےاقتصادی اعتبار سےمسلمانوں کےبائیکاٹ سےکوئی فرق نہیں پڑےگا۔ دوسری طرف اس نازک موقع پر مسلمانوں کی صفوں میں آج بھی اتحاد نظر نہیں آتا۔ صرف جلسےجلوس کرنےاور تقریریں کرنےسےصرف یہ فائدہ ہوگا کہ اغیار کو ہمیں پہنچنےوالی تکلیف کا اندازہ ہو سکےگا۔ لیکن میری نظر میں صرف زبانی کلامی احتجاج گستاخی کا کوئی حل نہیں۔ بلکہ تمام مسلم حکومتیں اور عوام اقتصادی، دفاعی اور تجارتی خودانحصاری کا تہیہ کر لیں۔ ایک جانب وہ تمام مشترکہ طور یورپین مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں تو دوسری طرف امریکہ اور یورپ کےبینکوں او رملکوں میں لگایا ہوا سرمایہ نکال کر اسلامی بینک میں جمع کرا کےاقتصادی تجارتی منڈی اور مشترکہ پلیٹ فارم عمل میں لاکر یورپی ممالک سےخرید وفروخت کرنےکی بجائےاسلامی ممالک آپس میں تجارت اور دفاع کو فروغ دیں۔ صرف یہی ایک طریقہ ہےجس سےانتہا پسند‘ متعصب اور نبیوں کےنافرمان یہودیوں اور عیسائیوں کو سبق سکھایا جا سکتا ہی۔
ان حالات میں مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیےکہ انہیں نہ تو دنیا کی واحد طاقت امریکہ سےانصاف مل سکتا ہےاور نہ ہی اقوام متحدہ کےپلیٹ فارم سی۔ اقوام متحدہ کا ادارہ تو اپنےقیام کےبعد ہی سے اپنی خودمختاری اور غیرجانبدارانہ ساکھ کھو چکا ہی۔ ہوتا وہی ہےجو امریکہ چاہتا ہی۔ اقوام متحدہ اوتھ کمشنر کی طرح اس پر اپنی توثیقی مہر ثبت کر دیتا ہی۔ بوسنیا، کوسوو، کشمیر، چیچنیا‘ فلپائن اور فلسطین کےمسلمان آج بھی اقوام متحدہ سےانصا ف کی آس لگائےبیٹھےہیں۔ وہ جس قدر جلد انصاف کی توقع کر رہےہیں انصاف اتنا ہی دور ہوتا جا رہا ہی۔ لاکھوں قربانیوں کےباوجود کشمیر ‘کوسوو، چیچنیا اور فلسطین کےمسلمان آزادی کی منزل سےہمکنار نہیں ہو سکی۔ اس کےبرعکس مشرقی تیمور میں امریکہ کےایماءپر فوری طور پر ریفرنڈم کرا کےوہاں عیسائیوں کی خودمختار حکومت بھی تشکیل دےدی گئی ہی۔
اس وقت ایران کا ایٹمی پروگرام عالمی طاقتوں کےلئےخطرناک قرار دیا چکا ہےلیکن اس کےبرعکس اسرائیل کے درجنوں ایٹم بم عالمی امن کےلئےخطرہ بنےہوئےہیں لیکن ان کی طرف عالمی برادری دانستہ آنکھیں بند کیےبیٹھی ہی۔ سوچنےکی بات یہ ہےکہ اگر اسرائیل کو اپنےدفاع کےلیےایٹم بم بنانےکی ضرورت ہےتو کیا ایران کو اس کی ضرورت نہیں‘ اس پر صرف اس لئےاقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں یلغار کےلیےتیار بیٹھی ہیں کہ وہ مسلمان ملک ہیں۔ یہی اس کا قصور ہی۔ لطف کی بات تو یہ ہےکہ کوئی اسلامی ملک بھی ا س مشکل وقت میں ایران کےساتھ کھڑا نہیں ہو رہا ۔ اور تمام مسلمان اسےتنہا امریکی یلغار کا شکار ہونےکےلیے اس طرح چھوڑ رہےہیں‘ جیسےاس سےپہلے70 ہزار معصوم افغان مسلمانوں کو امریکیوں اور اتحادیوں کےہاتھوں بےدردی سےمرنےکےلیےچھوڑ دیا گیا تھا۔
بہرکیف کہنےکا مقصد یہ ہےکہ ایک جانب عالم اسلام کو یہودیوں اور عیسائیوں کی سازشوں کا باہم متحد ہو کر مقابلہ کرنا چاہیےتو دوسری طرف خود کو اقتصادی فوجی اور تجارتی اعتبار سےاپنےپائوں پر کھڑا کرنا ہوگا۔ میں یہ عرض کرتا چلوں کہ اتنی مختصر مدت میں یہ ممکن نہیں تھا کہ میں یہ کتاب ذاتی طور پر تحریر کروں۔ حالات کی نزاکت اور وقت کی تنگی کی بنا پر میں نےچند ذاتی تحریروں کےساتھ ساتھ اخبارات ورسائل میں مختلف مکتبہ فکر کےلکھنےوالوں کی تحریروں سےاستفادہ کیا ہی۔

 

Go to Page:

*    *    *

tohin-e-risalat, sher angaiz mawad ki ashat, izhar ki azadi ya sher angezi, panja-e-yahood or europe, yahudioN ki sharartain, sazish ke muharrikat, maghrib ki islam mukhalifat, holocaust ka inkar, denark ka khaka, tahziboN ka tasadam, salibi jangoN ka naya silsila, shatim rasool ki saza or muafi, denmark ka boycott, jang, war, pyena round table conference, salahud din ayyubi, talash-e-aman, naqli qurran ki taqseem, pur tashaddud ahtajaj ke muashi muzimmarat, fikri pasmandgi ka shikar europian media

 

Download the PDF version for Offline Reading.(Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is needed for view and read these Digital PDF E-Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)