|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
فکری پسماندگی کا شکار یورپی میڈیا
اس ہرزہ سرائی کی جتنی بھی مذمت کی
جائےکم ہےاپنےاس کالم میںراقم نےکسی مسلمان فلاسفر‘ محقق‘ عالم اور استاد کی
بجائےیورپ کےاہم دانشور‘ فلسفی اور ادیب ومحققوں کےمضامین وافکار سےیہ بات ان
”بےخبر“ یورپیوں تک پہنچانےکی اپنی سعی وکوشش کی ہےجنہیں مغرب میں آج بھی عزت
واحترام کی نظر سےدیکھا جاتا ہےاگر ”روسو“ اور ان کےہم عصر یورپی مفکروں کی باتیں
سمجھنےمیں انہیں کوئی دشواری پیش آ رہی ہےتو وہ ذرا ماضی سےنکل کر حال میں آ جائیں
اور دیکھیں کہ ”مکمل اظہار رائےکی آزادی“ کسےکہتےہیں؟ ذرائع ابلاغ کی آزادی کےمتن
میں ملکی قوانین کےساتھ ساتھ کچھ بین الاقوامی ضابطےبھی ہوتےہیں‘ جن کا خیال رکھا
جانا انتہائی ضروری ہی‘ ذرائع ابلاغ کی آزادی کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ عالمی اخلاقی
ذمہ داریوں کو بالائےطاق رکھ دیا جائےترقی یافتہ ممالک ”آزادی اظہار رائی“ کےنام
پرجس طرح چھوٹی قوموں کےدلی اور مذہبی احساسات کا بیدردی سےمذاق اڑایا ہےاسےجدید
ذرائع ابلاغ کی دنیا میں ”وحشت وبربریت“ سےہی یاد کیا جائےگا‘ یہاں ہم مغرب کی
یاددہانی کیلئے1947ءمیں جاری کردہ ”انسائیکلو پیڈیا آف برٹینکا“ کی ایک کمیشن رپورٹ
کا تذکرہ ضرور کریں گےجس کمیشن کی سربراہی اس وقت کےشکاگو یونیورسٹی کےوائس چانسلر
مسٹر رابرٹ ہچنز نےکی تھی‘ اور اس کمیشن نےاپنا سروےمکمل کرنےکےبعد یہ رپورٹ جاری
کی تھی کہ ”ترقی یافتہ پریس نےاپنےذاتی اغراض ومقاصد کیلئےطاقت کا بےدریغ استعمال
کیا ہی۔ اخبارات کےمالکوں نےاپنےنظریات کو عوام پر مسلط کیا ہوا ہی۔ سیاست اور
معاشیات میں اپنےموقف کو آگےبڑھایا ہےاور ان حقائق اور خیالات کو جو اس موقف سےہم
آہنگ نہیں تھےاس طرح پیش کیا ہےکہ وہ دبےرہیں‘ غیراہم اور کمزور نظر آئیں‘ مغربی
پریس ہمیشہ اہل ثروت کےزیردست رہا ہی‘ مغربی پریس حالات حاضرہ کےباب میں محض فروعی
اور ہیجان خیز مواد کی طرف زیادہ وسائل کو اس طرح استعمال کرتا رہا ہےکہ نئےعناصر
کو اس میں داخل ہونےسےروکا جائےاور اگر وہ داخل ہو بھی جائیں تو انہیں پنپنےنہ دیا
جائی‘ یہ وہ اہم تاریخی حقائق ہیں جن سےآنکھیں چرا کر عالمی سامراجی تشہیر کےان
یورپی مہم برداروں نےکھلم کھلا کر مسلم دنیا کو ”تنگ آمد بجنگ آمد“ کےمصداق اب ان
کےصبر واستقلال کو بھی للکارنےکی خطرناک پالیسی اپنا لی ہےاور یہ جانےبغیر کہ چودہ
سو سالہ سےلےکر آج تک مسلم دنیا نےکبھی غیرمسلموں کی مذہبی شخصیات یا ان کےمذہبی
افکار خیالات کی دل شکنی نہیں کی۔ بنی اسرائیل کےسبھی ہادرگی وعظمت کو قرآن مجید
میں بیان کیا گیا نجانےمذہبی آفاقیت کا کوئی کوئی ایسا روح پرور ایمانی تصور ان
یورپیوں کےذہنوں میں بھی موجود ہےیا نہیں‘ اسلام کےآفاقی پیغام امن پرانگشت نمائی
کی جسارت کرنےاور ایسی جسارت کرنےوالوں کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی کرنےوالوں کو
اب تو سمجھ لینا چاہیی۔ آپ انسانیت کےعظیم محسن انسانیت کی بقاءاس کی حرمت کےواحد
پاسبان تھی‘ قرآن پاک کی کھلی تعلیمات آج پوری دنیا کےسامنےہیں‘ آپ نےواضح یہ پیغام
دیا تھا ”تم صرف ان سےلڑو گےجو ظلم وفساد کےخوگر ہوں‘ عورتوں‘ بچوں اور ضعیفوں کی
جان ومال کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچائو گی“ قیامت تک پوری دنیا میں ”امن اور ہمیشہ
امن“ کےقیام کا یہ کتنا آسان سا فارمولا مسلمانوںکےآخری نبی برحق نےدیا ہی۔ اب یہ
سوچنا یورپ کےدانشوروں‘ صحافیوں اور امن کےنام نہاد علمبرداروں کا کام ہےکہ وہ
دیکھیں کہ موجودہ ٹکرائو کو کم کرتا ہےتاکہ دنیا میں امن آشتی قائم ہو سکےیا اس کو
مزید ہوا دینا ہی۔
|