|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
ڈنمارک، تاریخ کےآئینےمیں
سنٹرل ڈیموکریٹک پارٹی‘ کرسیچنن ڈیموکریٹک پارٹی‘ سوشل لبرل پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی
آف ڈنمارک ملک کی اہم سیاسی جماعتیں ہیں۔ حکومت پچھلےکچھ عرصےمیں کسانوں کو بہت زیادہ مراعات دےرہی ہےتاکہ زرعی درآمدات کو کم کیا جاسکی۔ 2.2فی صد
آبادی زراعت‘ 24فی صد صنعت جبکہ 73.8فی صد
آبادی ملازمت کر رہی ہی۔2.9ملین
آبادی لیبر فورس پر مشتمل ہی۔بیروزگاری کی شرح 5.7فی صد ہی۔ پچھلےسال کا بجٹ 48.8بلین ڈالرز پر مشتمل تھا۔ گندم‘
آلو‘ شوگر اور ڈیری پروڈکٹس اس کی مشہور برآمدات ہیں۔ ملک سالانہ 376,900بیرل تیل پیدا کرتا ہےجبکہ 8.38 بلین کیوبک میٹر کی قدرتی گیس پیدا ہوتی ہی۔ موجودہ برآمدات کا حجم 84.95بلین ڈالر ہی۔ ملک میں 3,610,100 ٹیلی فون لائنز ہیں جبکہ 2003ءمیں موبائل فون استعمال کرنےوالوں کی تعداد 4,785,300افراد تک پہنچ گئی تھی۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 2002ءمیں 2.756ملین تک پہنچ گئی۔ ملک میں 26ٹی وی چینلز ہیں۔ ڈنمارک میں کل 97ائرپورٹس ہیں جبکہ ریلوےلائن 2,628کلومیٹر پر مشتمل ہی۔ ڈینش ملٹری
آرمی بحریہ‘ فضائیہ اور بری فوج پر مشتمل ہےاور اس کا موجودہ حجم 955,168افراد ہی۔
ڈنمارک کی حالیہ توہین آمیز کارٹون کی سازش نےاس کو بہت زیادہ تنقید کا نشانہ
بنا دیا ہےحالانکہ اس کا آئین ایسےتمام کاموں سےباز رکھتا ہےجس سےلوگوں کےجذبات
متاثر ہوں۔ ڈنمارک کےآئین کےسیکشن77کےتحت کسی بھی شخص کو غلط چیز شائع کرنےپر عدالت
کا سامنا کرنا پڑسکتا ہی۔ یورپین کنونشن آن ہیومن رائٹس کےتحت بھی ڈنمارک بین
الاقوامی قوانین پر عمل کرنےکا پابند ہی۔ ڈینش پینل کوڈ کا سیکشن140 بھی توہین آمیز
اشاعت پر بحث کرتا ہے‘ اگرچہ 1938ءکےبعد اس قانون پر آج تک عمل نہیں ہوسکا۔ سیکشن
266B بھی رنگ و نسل یا مذہبی جذبات کےخلاف اقدامات سےباز رکھتا ہی۔ ڈنمارک بنیادی
طور پر ایک سازش کا شکار ہوگیا جس کےپیچھےصہیونی لابی کارفرما ہی۔ اسےبہت زیادہ
مزاحمت اور تنقید کا سامنا ہی۔ ترکی میں بھی 50ہزار مسلمانوں نےتوہین آمیز خاکوں کی
اشاعت کےخلاف شدید احتجاج کیا ہی۔ فرانسیسی سفارتخانہ پر بھی پتھرائو کیا گیا جبکہ
سپین اور کینیڈا میں بھی ہونےوالےمظاہرں میں ڈنمارک کےپرچم نذر آتش کیےگئے جبکہ
وزیراعظم ڈنمارک راسموسین کےپتلےبھی جلائےگئی۔ ناروےکی حکومت نےپوری دنیا
کےمسلمانوں سےمعافی مانگ لی ہےمگر ڈنمارک نےکئی ممالک سےاپنا سفیر واپس بلا لیا ہی۔
|