|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یورپی پارلیمنٹ میں
صلیبی جنگ کی باز گشت
جس کےنتیجےمیں ترکوں کا نام ہی یورپ
کےلئےہوا بن گیا اور یورپی مسیحی، مسلمانوںکو”ترک“ ہی کہنےلگی، تاہم یورپ کا مرکزی
شہر وی آنا(آسٹریا) ترکوں کےدو تین بار کےمحاصرےکےباوجود فتح نہ ہو سکا، حتیٰ کہ وی
آنا کا آخری محاصرہ(1686ئ) بھی ناکام رہا۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کےاواخر میں ترکوں
کی پسپائی کا آغاز ہوا اور یکےبعد دیگرےیورپ کےمقبوضہ ممالک ان کےہاتھ سےجاتےرہی۔
چیچنیا، یونان،رومانیہ، بلغاریہ ،بوسنیا ہر زیگوینا، اور البانیہ سوا صدی کےعرصےمیں
ترکوں سےچھن گئے، بلکہ ہندوستان ، ترکستان ، مصر، قبرص، لیبیا، سوڈان، تیونس،
الجزائر، کویت بحرین ، یمن اور عمان اور مغربی و مشرقی افریقہ کےمسلم ممالک بھی
یورپی استعماری طاقتوں نےہتھیا لئے۔آخر کار پہلی جنگ عظیم(1914-18ئ) کےدوران
فلسطین، شام ، اردن، لبنان اور عراق بھی صلیبوں کےتسلط میں چلےگئے، حتی کہ انگریز
فاتح جرنیل ایلن بی نےبیت المقدس میں داخل ہوکر نعرہ مارا”میں آخری صلیبی ہوں“۔ اس
کا مفہوم یہ تھا کہ اس نےآخری صلیبی جنگ جیت لی ہی۔ لیکن نہیں، صلیبی جنگوں کا
تسلسل آج بھی جاری ہی۔ اکیسویں صدی کی صلیبی جنگ جارج واکر بش اور ٹونی بلیئر
نےچھیڑ رکھی ہی۔ یہ دونوں شاہ رچرڈ اور جنرل ایلن ہی کےوارث ہیں اور پورےصلیبی جوش
و جذبےسےعالم اسلام کےخلاف برسرپیکار ہیں۔ عالم اسلام کےحکمران بھی نام نہاد دہشت
گردی کےنام پر لڑی جانےوالی اس صلیبی جنگ میں آئمہ‘ کفر کےاجیر بن گئے ہیں۔ اور تو
اور عالم اسلام کی واحد”ایٹمی طاقت“ بھی واشنگٹن کی ظالمانہ خواہشات پر سر تسلیم خم
کر چکی ہی۔ ایک ایران سر اٹھائےکھڑا ہی، مگر یہودو نصاریٰ اس کےکس بل نکالنےکا تہیہ
کئےہوئےہیں اور ایرانی ایٹمی پروگرام کا معاملہ اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل
میں لےجانےکی تیاری ہو رہی ہی، جو علامہ اقبال کےالفاظ میں ”کفن چوروں کی انجمن“ کی
وارث ہی۔ یہ بش و بلیئر کی صلیبی جنگ کا شاخسانہ ہی ہےکہ یورپ توہین رسالت کا
ارتکاب کرکےعالم اسلام کی اجتماعی قوت اور غیرت کو للکار رہا ہی۔ سب سےپہلےتوہین
رسالت کا ارتکاب کرنےوالےملک ڈنمارک کےوزیر خارجہ نےمعافی مانگنےسےانکار کردیا۔
یورپی پارلیمنٹ کےمذکورہ اجلاس میں جب صدر آسٹریا ہائنز فشر نے”کسی مذہب کےبنیادی
عقیدےکےسلسلےمیں میڈیا کےخود پر بندشیں عائد کرنی“ پر زور دیا تو اکثر ارکان
نےمخالفت کی۔ کیرن ریس جارجن سن نامی خاتون رکن تو پھٹ پڑیں:”اگر ہم آزادی ءاظہار
کو کچلنےلگےتو کسی مذہب کا تنقیدی تجزیہ کرنےکےہمارےحق اور آزادانہ اظہار
رائےکےہمارےحق کی خلاف ورزی ہوگی“۔ اب اس عورت کو کون سمجھائےکہ تم ہر مذہب کا
”تنقیدی تجزیہ“ شوق سےکرو، مگر انبیاءکی توہین کرنےکا حق تمہیں کس نےدیا ہی! ڈینش
اخبار جےلینڈرز پوسٹن کےجس ایڈیٹر نےنبی اکرام کےتوہین آمیز خاکےچھاپی، اس
نےیہودیوں کےنازیوں کےہاتھوں قتل عام کےجھوٹےفسانی”ہولوکاسٹ“کےبارےمیں کارٹون شائع
کرنےکا اعلان کیا تو تم نےاسےچھٹیوںپر بھیج دیا ۔ گویا ڈیڑھ دو کروڑ یہودیوں
کےجھوٹےنظریےکو تو مقدس جانتےہو، مگر پیغمبر اسلام کےتقدس کی تمہیں کوئی پرواہ نہیں
، جو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کےدلوں میں بستےہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کےاجلاس میں یورپین
پیپلز پارٹی کےلیڈر ہانس جرٹ پوئٹرنگ نےمطالبہ کیا کہ یورپین یونین اور تنظیم
اسلامی کانفرنس ماہرین کا ایک کمیشن مقرر کریں، جو سکولوں کی کتابوں میں نسلی اور
مذہبی تعصب کا جائزہ لی۔ انہوں نےمسلم ممالک میںشائع ہونےوالےبعض جرائد
لہراتےہوئےکہا: ”ہمارےپاس سینکڑوں کارٹون اور خاکےہیں ۔ ایسےکارٹون اسلامی ممالک
میں بھی چھپتےہیں“۔یہ مسٹر پوئٹرنگ کا صریح جھوٹ اور خلط مبحث ہی۔ مسلمان یہود و
نصاریٰ کی غلیظ وسماجی قدروں مثلاً اغلام بازی(Gay ulture) اور بےمحابا حرامی
بچےپیدا کرنےکا تو مذاق اڑاتےہیں، لیکن کوئی مسلمان کسی نبی کی توہین کرنےکا تصور
تک نہیں کر سکتا۔ انہوں نےماہرین کےجس کمیشن کےتقرر کی بات کی ہی، اس کی زد سب
سےپہلےتو اسرائیل پر پڑےگی، جس کا نصاب دنیا میں سب سےزیادہ زہریلا ہی، اس نےایک
کروڑ فلسطینی مسلمانوں کےحقوق غصب کر رکھےہیں۔ اور اقوام متحدہ کی کوئی قرار داد
کبھی تسلیم نہیں کی۔ پھر اس کمیشن کےدائرہ کار میں تمام درجوں کا تدریسی نصاب،
مطبوعات اور میڈیا بھی شامل ہونا چاہیی، کیونکہ یہ مغربی میڈیا ہی ہی، جس نےدنیا
بھر میں شر انگیزی اور قوموں کےدرمیان نفرت اور مخاصمت پھیلانےکا ٹھیکہ لےرکھا ہے!
ڈنمارک کےسابق وزیر اعظم پول نائرپ راس مسن نےیورپی پارلیمنٹ میں بےحد صدمہ ظاہر
کیا کہ لوگ کس طرح (ڈنمارک و امریکہ کے) جھنڈےجلا رہےاور سفارتخانوں پر حملےکر
رہےہیں۔
|