|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یورپی پارلیمنٹ میں
صلیبی جنگ کی باز گشت
اب پول نائر پ جیسے صلیبی عیسائیوں کے”اظہار صدمہ “پر کیا کہا جائی، جنہیں خرابی بسیار کےبعد بھی حضرت محمد کی توہین کےارتکاب کی مذمت کرنےکی توفیق نہیں ہوئی ! الٹا یورپی کمیشن کےصدر بروسو نےایک انٹر ویو میں اعلان کیا ہےکہ ”نہ کارٹونوں کی اشاعت کوئی غلطی ہی، نہ ہم معافی مانگیں گی۔ یورپ میں ایسےمواد کی اشاعت کوئی بڑی بات نہیں ، جس پر ہم شرمندگی کا اظہار کریں۔ میں جانتا ہوں کہ ایسےمواد کی اشاعت سےدنیا بھر کےمسلمانوں کےجذبات مجروح ہوئےہیں، مگر یہ آزادی اظہار رائےاور جمہوریت کےلئےبہت ضروری ہی“۔ ادھر اٹلی کےایک وزیر رابر ٹوکارڈولیِ جس نےاعلان کیا تھا کہ ”وہ توہین آمیز کارٹونوں سےآراستہ ٹی شرٹس خود بھی پہنےگا اور لوگوں میں بھی تقسیم کرےگا“..... اسےمستعفی ہونا پڑا ہی۔ صلیبی عیسائیوں کی یہ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی عالمِ اسلام کےلئے لمحہ فکریہ ہےاور امتِ مسلمہ سےاجتماعی عملی اقدام کا تقاضا کرتی ہی!
بوسٹن نےرابرٹسن کی سوانح عمری ”امریکہ کا خطرناک ترین
آدمی“ (The Most Dangerous Man in Ameria) کےعنوان سےلکھی اور یہ بتایا کہ مذہبی پروگراموں کی
آمدنی سےجس پر کوئی ٹیکس نہیں‘ دوسرےمنصوبوں میں سرمایہ کاری کی جاتی تھی جن میں سیاسی نوعیت کےمنصوبےبھی شامل تھی‘ خاص طور پرکرسچن کولیشن (hristian oalition) کی سرمایہ کاری 2کروڑ 50لاکھ ڈالر سالانہ بجٹ کےساتھ تھی کرسچن کولیشن کا دعویٰ ہےکہ اس کےارکان کی تعداد 17 لاکھ ہےاور اس کی الحاقی اور مقامی شاخیں امریکہ کی 50 ریاستوں میں موجود ہیں۔ بوسٹن کےبیان کی رو سی‘ کرسچن کولیشن امریکہ کی سیاسی تنظیموں میں واحد سب سےزیادہ بااثر سیاسی تنظیم ہی۔
رابرٹسن زائرےکےسابق صدر اور ڈکٹیٹر موبوتو کےمستقل طرفدار اور حمایتی تھی‘ چنانچہ زائرےمیں ان کی ہیرےکی ایک کان بھی ہی۔ ا س کےعلاوہ وہ ایک ”آپریشن بلیسنگ“ نامی ادارہ چلاتےہیں۔ یہ ایک خیراتی ادارہ ہےجس پر کوئی ٹیکس نہیں۔ اس میں دنیابھر کی سیاحت کا انتظام ہی۔ 1999ءمیں ورجینا کےسینٹر جینٹ ڈی میوول نےچیلنج کیا کہ
آپریشن بلیسنگ کو ٹیکس میں چھوٹ نہیں ملنا چاہیےکیونکہ اس کےطیارےدراصل ہیرےکی کان میں استعمال ہونےوالےآلات لاد کر لےجاتےہیں اور یہ کان رابرٹسن کی ہی۔
رابرٹسن 1988ءمیں صدارتی انتخاب کیلئےکھڑےہوئےتھی۔ 1999ءمیں وہ ایک بڑےبینک کےچیئرمین بننےجا رہےتھی۔منصوبےکےمطابق ان کا نیا نیشنل بینک‘ بینک اسکاٹ لینڈ سےملحق ہو گا۔ اس کی شاخیں نہیں ہوں گی‘ اس کی بجائےوہ اپنےگاہکوں سےٹیلی فون اور ڈاک کےذریعےرابطہ رکھیں گی۔ کرسچن براڈکاسٹنگ ورک اور اس کی سیاسی تنظیم کرسچن کولیشن میں بھی عطیات کی وصولی کا یہی طریقہ اس نےاپنا رکھا تھا۔ نیویارک ٹائمز مطبوعہ 3مارچ 1999ءکےمطابق اس بینک کا نہایت اہم اقلیتی حصہ دار ہو گا اور اس کی امریکن ہولڈن کمپنی کا صدر ہو گا۔
قطر میں امریکہ کےسابق سفیر اینڈ ریوکل گور نےکہا کہ اگر کوئی غیرملکی کمپنی رابرٹسن کےطریقہ پر کام کرنا چاہتی ہو تو اس کا کام اس لیےآسان ہو جائےگا کہ رابرٹسن کےپاس ایک غیرالحاقی بینک ہی۔ کل گوراب امریکن ایجوکیشن ٹرسٹ کےصدر ہیں۔
آخری معرکے(Armageddon) پر کتابیں جان گریشم کےناولوں سےاگر زیادہ نہیں تو اس کےبرابر ضرور فروخت ہوتی ہیں۔ ہال لینڈ سےکی کتاب ”آنجہانی عظیم کرہ ارض“ (The Late Great Planet Earth) کی 2 کروڑ 50لاکھ سےزیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ 1970ءکی پوری دہائی میں یہ سب سےزیادہ فروخت ہونےوالی کتاب تھی اور بائبل کےسوا ہر کتاب سےزیادہ فروخت ہوئی۔ اس نام سےاس پر فلم بھی بنائی گئی جس میں اور سن ویلس نےتبصرہ کیا ہی۔ لنڈ سے4اور ناول لکھےجن میں سےایک کا نام ”جہان نو ہو رہا ہےپیدا“ (There is a New World oming) بالکل سامنےہےاور یہ دنیا تباہ ہو جائےگی۔
1990ءکی دہائی کےآخری زمانےمیں ٹم لاہائی (Time Lahaye) نےایک سلسلےکی 4 کتابیں
”پیچھےرہ جانےوالی“ (Left Behind) کےنام سےلکھیں۔ وہ مبشراتی کلیسا
کےماننےوالے(Evangelist) ہیں۔ ان کا موضوع ”دوبارہ مسیحی پیدا ہونےکی نوید“
(Rapture of Born Again hristains) ہی۔ ان کی کتاب کی 30 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔
پبلشر ویکلی کےایڈیٹر نےبتایا کہ ”ان کتابوں کی مقبولیت سےمعلوم ہوتا ہےکہ مسیحیوں
سےنکل کر وہ سیکولر لوگوں میں بھی پہنچ گئی ہیں اور ایسےکمرشل بازاروں مثلاً ”وال
مارٹ“ اور ”کےمارت“ میں بھی خوب فروخت ہوئی ہیں۔
|