|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یورپی پارلیمنٹ میں
صلیبی جنگ کی باز گشت
اس سےمعلوم ہوتا ہےکہ ایسی کتابیں ہمارےکلچر پر حاوی ہو گئی ہیں۔“
بائبل چرچ: ڈلاس کی مذہبی درسگاہ (Dallas Theologial Seminary) اس کا سرچشمہ ہےکہ خدا کی ہدایت کےبموجب ہمیں اس دنیا کو ختم کر دینا چاہیی۔ بہت سےپادریوں نےاس نظریےمیں اپنےدرس کی تکمیل کی ہےاور اب تقریباً ایک ہزار بائبل چرچوں میں اس دینی نظریے(Armageddon Theology) کی تبلیغ کر رہےہیں۔ حالیہ برسوں کےدوران میں پورےامریکہ کےاندر ایسےبائبل چرچ کھل گئےہیں جو کسی بھی بڑےچرچ سےوابستہ نہیں بلکہ
آزاد ہیں تاہم بائبل چرچوں کی انٹرنیشنل فیلوشپ کےاندر وہ
آپس میں رابطہ رکھتےہیں۔
ایک ویب سائٹ کےمطابق نئےبائبل چرچوں کی سب سےزیادہ تعداد مشی گن‘ نیوجرسی اور پین سلوانیا میں ہی۔ ٹیری ایسٹ لینڈ نےوال اسٹریٹ جرنل (12فروری 1999ئ) میں لکھا ہےکہ بہت سےبائبل چرچ ”قدامت پرست ڈلاس ایتھولوجیکل سیمناری سےروحانی رشتہ رکھتےہیں جس نےبراہ راست یا بالواسطہ طور پر بائبل چرچوں کےبیشتر پادری پیدا کیےہیں-“
امریکہ میں بنیادپرست تقریباً 5کروڑ ہیں۔ وہ لاتعداد مذہبی تنظیموں میں بٹےہوئےہیں۔ Armageddon کےمذہبی نظریےکےسب سےپرجوش وکیل مبشراتی چرچ اور دوسری پرکشش تحریکوں کےارکان ہیں۔ وہ شمالی امریکہ کےمسیحیوں میں بنیادپرستی کی سب سےتیزی سےمقبول ہونےوالی شاخ کی نمائندگی کرتےہیں۔
مسیحیت کےاس بڑھتےاو رپھیلتےہوئےشعبوں میں محترم عالم مذہبات‘ پادری اور دینی درسگاہوں کےسربراہ ایک ہی مسلک کی تعلیم دیتےہیں جیسا کہ ایک مسلک کےرہنما جم جونز نےموت کےدہانےتک پہنچاتےہوئےاپنےپیچھےآنےوالوں سےکہا تھا دنیا ختم ہوا چاہتی ہےلہٰذا ہمیں اس کا ساتھ دینا ہو گا‘ ہمیں اس ہجوم سےآگےنکلنا چاہیی۔
یہ دنیا کےخاتمےاور
آخری جنگ عظیم (Armageddon) کےنظریےکی مقبولیت ”سرپھرےافراد“ سےلےکر اعلیٰ ترین ارباب حکومت تک میں دیکھی گئی ہی۔ رابرٹ شیر نےایک کتاب لکھی ہی‘ جس کا نام ہے(With Enough Power Reagan Bush & Nulear War) کتاب میں لکھا ہےکہ وزیر دفاع کیسپر وائن برگر نے1983ءمیں Armageddon کےبارےمیں ایک سوال کا جواب دیتےہوئےکہا تھا: جی ہاں! میں نے”انکشاف کی کتاب“ (Book of Revelation) پڑھی ہی۔ میرا یقین ہےکہ دنیا ختم ہو رہی ہی۔ میرا خیال ہےکہ ایسا حکم الٰہی سےہو گا‘ ہر روز مجھےخطرہ محسوس ہوتا ہےکہ وقت تیزی سےنکلتا جا رہا ہی۔
تاریخ کےایک محقق ڈیومیکفرسن نےکہا ہےآرمیگڈون تھیوری میں خطرہ یہ ہےکہ یہ یقینی موت پر مبنی اور چھوت کی طرح پھیلتی ہی۔ایک مثال اس کی یہ ہےکہ 60ویں کی دہائی کےآخری دنوں میں جبکہ 70ءکی دہائی شروع ہونےوالی تھی‘ ہربرٹ ڈبلیو
آر مسٹرانگ نےاپنےسینکڑوں مقلدوں کو باور کرا دیا تھا کہ اپنی ساری املاک ورلڈ وائڈ چرچ
آف گاڑ کےحوالےکر دیں۔ اس لیےکہ دنیا ختم ہونےوالی ہی۔
ملینئم پروفیسی رپورٹ کےایڈیٹر ٹیڈڈینیل نےجن کا تعلق فلاڈلفیا سےہےکہا: وہ لوگ جنہیں یہ امید ہوتی ہےکہ دنیا عنقریب ختم ہو جائےگی‘ عجیب وغریب حرکتیں کرتےہیں۔ ڈینیل کےپاس اس طرح کے12 سو سےزائد عقیدہ رکھنےوالوں کےمتعلق کوائف موجود ہیں۔ ان گروہوں کا تعلق امریکہ سےاور اس سےباہر کےممالک سےہی۔
دنیاکےیقینی خاتمےکےعقیدہ رکھنےوالا ایک گروہ کوریا میں ہی۔ اس کا نام ہویوگو (Hyoo-Go) ہی۔ اس کےارکان کو توقع تھی کہ 1992ءمیں تمام حق پرستوں کو دنیا سےاٹھا کر جنت میں پہنچا دیا جائےگا اور پھر باقی دنیا کےلیےآخری موت کےدور کا
آغاز ہو گا۔
ایک اور گروہ (The Order of Solar Temple) ہی۔ یہ ایک خفیہ فرقہ ہی۔ 1994ءمیں
اس نےاجتماعی خودکشی کا عمل کیا‘ چنانچہ سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا کےلوگوں نےاپنی
جانیں دےدیں۔ 50افراد نےاس طرح خودکشی کی کہ بڑےبڑےتمغےان کےسینوں پر سجےہوئےتھےجس
میں ”یقینی موت“ کی علامت ”چار گھوڑ سوار‘ بنےہوئےتھی۔
|