|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یورپی پارلیمنٹ میں
صلیبی جنگ کی باز گشت
ایک اور تنظیم ”برانچ ڈیوڈیان“ ہی۔ ا سکےماننےوالےواکو ٹیکساس سےباہر رہتےہیں۔ اپریل 1993ءمیں وفاقی ایجنٹوں نےان کےاحاطےپر حملہ کر دیا او رمرگ عالم پر عقیدہ رکھنےوالے80افراد موت کےگھاٹ اتار دیئےگئی۔
ایک تنظیم ہونزگیٹ (باب جنت) ہی۔ سین فریگو کےمضافات میں اس کے39 ارکان نےاپنےآپ کو ختم کر دیا اور اپنےپیچھےکاغذات چھوڑ گئےجس میں لکھا تھا کہ یہ دنیا تمام تر شر اور فساد ہےاور اس کا غارت ہو جانا یقینی ہی۔
وائس ان دی ورلڈ نینس (ویرانےمیں
آواز) نامی گروپ ملفورڈ ریاست نیوہمشائر میں رہتا ہی۔ اس کا مشورہ یہ ہےکہ درخت مت لگائو اور
آگےکےمنصوبےمت بنائو کیونکہ اس طرح کےاحمقانہ سرگرمیوں کےلیےمہلت نہیں رہی۔
لٹل راک ریاست ارکانساس کےقریب ایک قلعہ نما ایک قصبہ ہےجہاں تقریباً 100 باشندےمسلح اور کیل کانٹےسےلیس کام کرتےہیں‘ عبادت کرتےاور اس کےساتھ فوجی ڈرل کرتےہیں۔ انہیں یقین ہےکہ کسی بھی وقت تباہیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جائےگا اور انسانی تاریخ ختم ہو جائےگی اور کلائم ماسٹر کےبمبار ٹموتھی میک ویو نےجس کو سزا دی گئی ہی۔ 1995ءمیں اوکلاہاجاکر وفاقی عمارت پر بمباری سےپہلےبلوہم سٹی میں اپنےدوستوں کو فون کر دیا تھا۔
اس عرصےمیں مسیحیت کےتشخص کی تحریک نی‘ جو ریگن اور بش کےزمانےسےابھر کر سامنےآئی‘ عالمگیر نوعیت اختیار کر لی ہےجس میں دائیںبازو کی انتہاپسندی کو بہت فروغ ہوا ہی۔ اس کا مرکزی تصور یہ ہےکہ دوسرےسےنفرت کرو۔ یہ ”دوسری“ کون ہیں؟ یہ ہیں سیاہ فام نسل کےلوگ‘ یہودی عورتیں ‘ڈاکٹر اور لبرل (آزاد طبع لوگ)! پیٹرک منگیز نےاپنی کتاب (Apoalypse Now) میں لکھا ہی: ان کی مذہبیات ایک عجیب طرح کا تہذیبی نظام ہےجس میں نظریاتی اتحاد کی تلقین اور انتہائی دائیں بازو والوں کا ایک نظریاتی سانچہ موجود ہی۔ یہ ہیں کوکلکس کلان‘ نئےنازی سرمنڈےنسل پرست اور
آریانیوں کی مدافعتی تحریکی!
آئڈینٹیٹی (Identity) نامی تنظیم کا ایک ہیرو جو شمالی اڈیہو کا باشندہ ہی‘ وہ اگست 1992ءکے11 روز علامتی مظاہرےمیں شریک تھا۔ وہ ایک افسر کےقتل کےالزام سےبری کیا جا چکا تھا۔ ٹیکساس کےاحاطےمیں اس پر قاتلانہ حملےکا منصوبہ ”امریکن ہولوکاسٹ“ نامی انتہائی دائیں بازو کےارکان نےبنایا تھا۔
گزشتہ 7سال کےاندر مسیحی تشخص (hristian Identity) کی تحریک 3ہزار ارکان سےآگےنکل کر 30 ہزار ارکان تک پہنچ گئی ہی۔ ایک اندازہ ہےکہ اس کی مستقل رکنیت سےقطع نظر اس کےمقلدین کی تعداد تقریباً اڑھائی لاکھ ہی۔
امریکہ میں انتہائی تیزی سےپھیلنےوالا عقیدہ نظریہ
آخری جنگ عظیم ”آرمیگاڈون“ کیا ہی؟
What is Armageddon?
امریکہ میں ایک نئےمذہبی عقیدےنےظہور کیا ہی۔ اس کےماننےوالوں میں سبھی نام
نہاد ”جنونی“ شامل نہیں بلکہ متوسط سےبالائی متوسط طبقےکےامریکی شامل ہیں۔ یہ لوگ
ٹی وی کےپادریوں یا مسیحی مبلغوں کو سنتےہیں اور ہر ہفتےلاکھوں ڈالر ان کو نذر
کرتےہیں۔ یہ مبلغ اس عقیدےکی مبادیات بیان کرتےہیں۔ یہ لوگ ہال لنڈسے(Hal Lindsey)
اور ٹم لاہائی (Tim Lahayee) کو پڑھتےہیں۔ ان کا ایک ہی مقصد ہےیعنی خدا کےہاتھوں
کو سہولت فراہم کرنا ہے(یعنی Foring God's Hands تاکہ وہ ہاتھ اٹھا کر جنت میں
پہنچا دیں جہاں کوئی مصیبت نہیں کوئی مصیبت نہیں ہو گی اور جہاں سےوہ ارمیگڈن یعنی
خیر وشر کا آخری معرکہ اور کرہ ارض کی تباہی کا منظر دیکھیں گی۔ یہ نظریہ
(Assemblies of Pentiostal, God) اور دوسرےکرشمہ ساز کلیسائوں اور مزید یہ کہ
(Southern Baptisal) تک پھیل گیا ہی۔ یہ نظریہ Baptisal میں اور لاتعداد
چھوٹےبڑےگرجائوں میں پہنچ گیا ہے(آج کی مسیحی دنیا میں تیزی سےپھیلنےوالی تحریک
ہی)۔
|