|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
اسلام کےخلاف سرگرم
ناسا
اسی قسم کی ایک ویب سائٹ پر ایک امریکی یرغمالی نیکولس بیرج کوذبح کرتےدکھایا گیا تھا۔ اسی طرح عراق میں مبینہ طور پر القاعدہ کےرہنما ابو مصعب الزرقاوی اور ایک تنظیم التوحید والجہاد کےاعلانات جاری کرنےوالی ویب سائٹ بھی امریکی شہر ہوسٹن سےجاری ہوئی ہی۔ یہی حال دیگر مغربی ممالک کا ہےجہاں یہ کاروبار منظم انداز میں جاری ہی۔ ایسا ممکن ہےکہ مبینہ طور پر القاعدہ کےارکان کسی اور ذرائع کےذریعہ ای میلز تک رسائی حاصل کرکےاپنےپیغامات باہر کی دنیا تک پہنچاتےہوں مگر سائٹوں کی حد تک اتنا اہتمام
آسانی کےساتھ سمجھ میں نہیں
آتا۔ اس کےعلاوہ امریکی صحافت میں ہی اس بات کا انکشاف کیا گیا ہےکہ عراقی اخبارات میں شائع ہونےوالےعرب صحافیوں سےمنسوب مقالات اصل میں پینٹاگون میں تیار کیےجاتےہیں۔
ان کےکیا عوامل ہوسکتےہیں ‘ ایک دردمند مسلمان مشکل کےبغیر سمجھ سکتا ہی۔ کیا دنیا کی سخت ترین الیکٹرانک جاسوسی کےدوران اس قسم کا کھیل کھلم کھلا کھیلا جاسکتا ہی؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنےکےلیےامریکہ کی ایک مواصلاتی جاسوسی تنظیم این ایس اےجسےدنیا کی خطرناک ترین مواصلاتی ایجنسی قرار دیا جاسکتا ہےکےبارےمیں جانناضروری ہی۔ امریکہ کا ارادہ برائےقومی سلامتی (این ایس ای) تمام دنیا میں ہونےوالی سرگرمیوں کا ریکارڈ جمع کرنےمیں منہمک ہی۔ این ایس اےکا شمار دنیا کےلیےامریکہ کی خطرناک ترین قومی ایجنسیوں میں ہوتا ہےجس کا احوال بڑی حد تک پردہ اخفاءمیں رکھا گیا۔ اس کا بنیادی کام دنیا بھر میں ہونےوالےواقعات‘ حادثات مختلف عالمی تنظیموں ‘ شخصیات حتیٰ کہ مختلف ممالک کےدرمیان ہونےوالے روابط کا مکمل ریکارڈ ہی۔1975ءتک اس ادارےمیں کام کرنےوالےافراد کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی مگر اب کوئی نہیں جانتا کہ اس ادارےکےافراد کتنی تعداد میں ہیں۔ اس ادارےکےبین الاقوامی اہمیت کےپیش نظر ایک اندازےکےمطابق اس سےوابستہ افراد کی نفری 12لاکھ سےتجاوز کر چکی ہی۔ امریکہ کی مختلف ایجنسیوں کےلیےمختص کیا جانےوالےسالانہ بجٹ یعنی 27بلین ڈالر کا 80فی صد حصہ اس خطرناک ترین ادارےاین ایس اےپر صرف ہوتا ہی۔ اس ادارےکےکام کی نوعیت کیا ہی۔ اس کا اندازہ ایک مثال سےلگایا جاسکتا ہےکہ لیڈی ڈیانا سےمتعلق اس ادارےنےہلکی سےہلکی معلومات اور گفتگو ریکارڈ کر رکھی تھی۔ برطانوی اخبارات ڈیلی مرر‘ اور دی ڈیلی ریکارڈر کےمطابق شہزادہ چارلس سےتعلقات کی ابتداءکےساتھ ہی لیڈی ڈیانا نےجیسےہی شہرت کےمیدان میں قدم رکھا ‘ این ایس اےکی زد میں
آگئی۔ اس وقت سےلےکر اس کی موت تک اس ادارےنےڈیانا کی ہر ٹیلی فون کا کال‘ کمیونیکیشن کےدوسرےذرائع اور معاملات ریکارڈ کرنےشروع کر دیئےمگر اس راز سےپردہ اس وقت اٹھا جب نیویارک میں قائم انٹرنیٹ کےمرکز نےامریکی قانون کےمطابق معلومات طلب کیں تو اس ادارےاین ایس اےنےاسےامریکی قومی مفادات کےخلاف تصور کرتےہوئےانٹرنیٹ کی درخواست مسترد کر دی۔
این ایس اےنےانٹرنیٹ کو جو
آفیشل جواب دیا وہ اس طرح تھا کہ ”اس قسم کی درخواست منظور کر لینےمیں امریکہ کےقومی مفاد میں نقصان کا احتمال ہی۔ ڈیانا کا موضوع اس ادارےکےلیےاتنا اہم نہیںہےاور نہ ہی اس کی ذات کو اہمیت دےکر یہ معلومات اکٹھی کی گئیں۔ یہ معلومات 1056 صفحات پر مشتمل ہیں۔ اس سےاندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ ایک ایسا موضوع جو اس ادارےکےنزدیک اتنا حساس نہیں ہےاس پر معلومات کا ذخیرہ اس قدر زیادہ ہےاور وہ معاملات جو ادارےکےنزدیک حساس ہوں گےان تک رسائی کا کیا عالم ہوگا۔
امریکا میں داخلی اور خارجی سطح پر جاسوسی اور معلومات کےحصول کےتین
بڑےادارےہیں جن میں جدید مواصلاتی والیکٹرانک آلات کےذریعہ دنیا بھر کی حکومتوں‘
تنظیموں اور افراد کےدرمیان ہونےوالےگفتگو اور معاملات کو ریکارڈ کرنےکی ذمہ داری
این ایس اےکےسپرد ہےاس کےبعد سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اےاور فیڈرل بیورو
انویسٹی گیشن ایف بی آئی آتی ہی۔ ذمہ داری کےلحاظ سےان میں حساس ترین ادارہ این ایس
اےہی۔ جس کا قیام امریکی صدر ہیری ٹرومین کےحکم سے24اکتوبر 1952ءمیں عمل میں آیا
تھا۔ اس ادارےکی تشکیل کےوقت امریکا میں کوئی بھی اس کےقیام اور اس کےمقاصد
کےبارےمیں نہیں جانتا تھا حتیٰ کہ اس سلسلےمیں امریکی کانگریس کو بھی بےخبر رکھا
گیا تھا۔ اس وقت کےامریکی صدر کےاحکامات کےمطابق یہ ادارےعالمی سطح پر امریکی
مفادات میں سننےکی ذمہ داری ادا کرےگا۔
|