kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش

 

اسلام کےخلاف سرگرم ناسا


 

شروع شروع میں یہ ادارہ امریکہ میں غیرملکی سفارتکاروںاور امریکہ میںممکنہ غیرملکی ایجنسیوں کےساتھ تعلق رکھنےوالےاعلیٰ عہدیداروں کی سرگرمیاں اور بات چیت کو ریکارڈ کیا جانےلگا۔ اس کےبعد امریکہ کےنزدیک حساس ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں اور ان سےتعلق رکھنےوالےافراد کی باہمی گفتگو این ایس اےکی زد میں آگئی۔ ان اد اروں کی گفتگو اور معلومات عام ٹیلی فون موبائل فون‘ فیکس‘ ٹیلیگراف اور انٹرنیٹ کےذریعہ حاصل کی جانےلگیں۔ این ایس اےکا دائرہ مختلف ملکوں کےصدور‘ وزرائ‘ سیاسی جماعتوں کےقائدین اور کاروباری حضرات تک پھیل چکا ہی۔ اس کام کےلیےاین ایس اےدنیا بھر میں قائم امریکی سفارت خانی‘ قونصل خانی‘ امریکی فوجی اڈی‘ بحری جنگی جہاز‘ آبدوزیں‘ جنگی طیارےاور مصنوعی سیارےاستعمال کرتی ہی۔
1952ءمیں این ایس اےکےقیام کےتھوڑےعرصےبعد ہی این ایس اےاور سی آئی اےکےدائرہ عمل کی حدود وضع کر دی گئیں تاکہ دونوں ایجنسیاں کسی متوقع تصادم سےبچ سکیں اور ایک دوسرےکےامور میں مداخلت نہ ہو ایسی ہی حد بندی ایک سال بعد سی آئی اےاور ایف بی آئی کےدرمیان بھی کی گئی۔ بشرطیکہ اس کی سرگرمیاں ایف بی آئی سےمتصادم نہ ہوں۔ اس کےفوراً بعد ہی سی آئی اےکو گفتگو سننےیا ریکارڈ کرنےکےلیےالیکٹرانک آلات استعمال کرنےکی اجازت ملی۔ ٹرومین کےدور میں امریکہ کی سیاسی صورتحال میں اس وقت ہلچل مچ گئی تھی جب بہت سےامریکی مصنفین اور دوسری سرکردہ شخصیات پر کمیونزم کی حمایت کا الزام لگایا گیا جس کےفوراً بعد ٹرومین نےایف بی آئی کو امریکی قومی سلامتی کےپیش نظر کسی بھی شخصیت کی گفتگو ٹیپ کرنےکا اختیار دےدیا۔1972ءمیں جب اپوزیشن نےویت نام کی جنگ سےمتعلق امریکی پالیسیوں پر کھل کر تنقید شروع کر دی تو اس ہنگامےمیں بہت سےدوسرےاعتراضات بھی اٹھائےگئےجس میں ایف بی آئی کےان اقدامات کی کھل کر مخالفت کی گئی جس میں وہ امریکہ کی کسی بھی شخصیت کی گفتگو ٹیپ کر سکتی تھی۔ ایف بی آئی کےاس اقدام کےخلاف امریکہ میں اتنی شدت کےساتھ مخالفت ہوئی کہ بعد میں کسی حد تک اس پر پابندی عائد کی گئی کہ اس کا کوئی بھی رکن بغیر محکمےکی اعلیٰ قیادت کی اجازت سےکسی بھی شخص کی گفتگو ریکارڈ نہیں کر سکےگا۔ ورنہ اس سےپہلےایف بی آئی کےعام رکن کو بھی یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ قومی مفاد کےمعاملےمیں کسی بھی شخص کی گفتگو ریکارڈ کرسکتا ہےمگر اس قرارداد کی وجہ سےگفتگو سننےکا عمل رک نہیں سکا۔ 1973ء تک نو سو امریکیوں کی گفتگو ریکارڈ کی گئی جبکہ اس وقت چھ ہزار غیرملکی امریکا میں مقیم تھےجن امریکیوں کی گفتگو اس دوران ریکارڈ ہوئی ان میں سینئر رابرٹ کینڈی کا نام بھی شامل ہےجو اپنے زمانےکےمشہور مافیا لیڈر رسوم جینکاتا کےساتھ 1988ءمیں قتل کر دیاگیا۔
امریکہ کا یہ حساس ادارہ این ایس اےبرطانیہ‘ کینیڈا‘نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کےتعاون سےبھی اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتا رہتا ہی۔ امریکہ کےعلاوہ مذکورہ بالا ممالک میں بھی چھوٹےپیمانےپر ایسی ایجنسیاں کام کرتی ہیں جو داخلی سطح پر ریکارڈ نگ کےعلاوہ دوسری سرگرمیوں کا ریکارڈ بھی رکھتی ہیں۔ این ایس اےایک خاص سطح پر ان سےروابط استوار کرتی ہےجسےاس کی اصطلاح میں Ehelonکہا جاتا ہی۔ اس نےدوست مغربی ممالک کی ایجنسیوں کےساتھ مل کر ساتھ سوویت یونین اور وار سا پیکٹ میں شامل ممالک میں ہونےوالےمذاکرات اور ان ممالک سےتعلق رکھنےوالےحکومتی و عسکری عہدیداروں کا بھرپور ریکارڈ جمع کیا اور اس سےسلسلےمیں اتنا آگےبڑھ گئی کہ حلیف ممالک کو بھی نہیں بخشا۔1960ءکی دہائی میں این ایس اےنےاٹلی اور فرانس کےحساس اور حکومتی شعبوں میں ہونےوالی گفتگو بھی ریکارڈ کی ۔1975ءتک این ایس اےکی سرگرمیوں کےمتعلق خودامریکہ میں زیادہ لوگوں کو علم نہیں تھا مگر اس عرصےکےبعد اس کی سرگرمیوں کےمتعلق کچھ خبریں اخبارات میں شائع ہونےلگیں۔ خاص طور پر 1975ءمیں جب این ایس اےکےڈائریکٹر جنرل نےکانگریس کی تفتیشی کمیٹی کےسامنےاعتراف کیا تھا کہ انہوں نے1967ءسے1973ءتک ہزاروں امریکی شہریوں کی گفتگو ریکارڈ کی ہی۔ ایسےہی انکشافات مشہور امریکی مصنف جیمس باسفورڈ نےاین ایس اےکےمتعلق اپنی کتاب Puzzle placeمیں کیےہیں۔ اس ادارےکا قیام کس مقصد کےتحت عمل میں لایاگیا۔ کس طرح یہ ادارےسیاسی و عسکری شخصیات کی گفتگو ریکارڈ کرتا ہی۔ یہ رپورٹیں مختلف ممالک کےسربراہوں‘ وزرائ‘ عسکری قیادت‘ اپوزیشن لیڈروں‘ بڑےاخبارات کے مالکوں سےلےکر حساس شعبوں کےصحافیوں کی گفتگو پر مبنی ہوتی ہیں۔

 

Go to Page:

*    *    *

tohin-e-risalat, sher angaiz mawad ki ashat, izhar ki azadi ya sher angezi, panja-e-yahood or europe, yahudioN ki sharartain, sazish ke muharrikat, maghrib ki islam mukhalifat, holocaust ka inkar, denark ka khaka, tahziboN ka tasadam, salibi jangoN ka naya silsila, shatim rasool ki saza or muafi, denmark ka boycott, jang, war, pyena round table conference, salahud din ayyubi, talash-e-aman, naqli qurran ki taqseem, pur tashaddud ahtajaj ke muashi muzimmarat, fikri pasmandgi ka shikar europian media

 

Download the PDF version for Offline Reading.(Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is needed for view and read these Digital PDF E-Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)