|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
اسلام کےخلاف سرگرم
ناسا
اسپیشل کولیکشن پروگرام کےتحت استعمال ہونےوالے
آلات میں دوسرا اہم
آلہ (TX)کےنام سےجاناجاتا ہی۔ اس
آلےکےایجاد ہونےکےبعد اب ٹیلی فون ٹیپ کرنےکےلیےٹیلی فون سیٹ میں کوئی
آلہ نصب نہیں کرنا پڑتا بلکہ کافی فاصلےپر مطلوبہ ٹیلی فون کی تار پر یہ چھوٹا سا
آلہ نصب کر دیاجاتا ہےجبکہ بات کرنےوالےکو اس کا احساس تک نہیں ہوتا بلکہ عدم استعمال کی صورت میں یہ ٹیلی فون جس کمرےمیں نصب ہوتا ہےاس کمرےمیں ہونےوالی گفتگو دور کہیں اس ٹیلی فون کےتار کےساتھ منسلک
آلی(TX)کےذریعےمنتقل ہوتی رہتی ہی۔ اس کےعلاوہ یہ
آلہ کسی اور ٹیلی فون کےتار پر نصب کرکےمطلوبہ فون کےنمبر پر رابطہ قائم کر سکتا ہی۔ اس قسم کےآلےاین ایس اےکےذرائع سےدنیا بھر میں سی
آئی اےکےمقامی ایجنٹوں کےپاس موجود ہوتےہیں۔ این ایس اےنےمعلومات کےبڑےبڑےذخائر جدید ترین کمپیوٹروں میں محفوظ کر رکھےہیں۔ مثلاً 1985ء کےبعد دنیا بھر کی اسلامی تنظیموں پر این ایس اےکو بھرپور نظر رکھنےکی ہدایت کی گئی تھی۔ اب اس کےکمپیوٹروں میں مختلف کوڈ نام مثلاً اسلام‘ اسلامی تحریک ‘ قرآن ‘ محمد ‘ سیرت‘ غزالی‘ شافعی‘ حنفی‘ ابن تیمیہ‘ الجنا‘ مودودی‘ سعید التورسی‘اخون المسلمون‘ جہاد‘ الجہاد الاسلامی‘ طلبہ النور وغیرہ کےنام سےفائلیں محفوظ ہیں جن میں روزانہ حاصل کردہ معلومات کا اضافہ کیاجاتاہی۔
1990ءکےبعد دنیا بھر میں موبائل فونز کی بھرمار ہوگئی۔ خصوصاً امریکہ‘ یورپ اور
مشرق وسطیٰ میں اس کا استعمال عام لوگوں میں فروغ پانےلگا۔ شروع شروع میں موبائل
فون کو ریکارڈ کرنےمیں این ایس اےاور اس جیسی دوسری ایجنسیوںکو سخت دشواری پیش آتی
تھی۔ کیونکہ موبائل نظام کو GSMنامی ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہےجسےٹریس کرنا این ایس
اےکےدائرہ اختیار سےباہر تھا اس مشکل کو حل کرنےکےلیےاین ایس اےاور سی آئی
اےسےاعانت طلب کی کہ موبائل فون کی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر اپنی دسترس میں
رکھنےکےلیےموبائل فون سیٹوں میں ایسےباریک آلات کا نصب کرنا لازمی قرار دےدیا
جائےجس کی مدد سےان فونوں کو استعمال کرنےوالےافراد کی گفتگو آسانی سےریکارڈ ہوسکی۔
اس کام کےلیےجرمن کمپنی نےنہ صرف گفتگو ٹیپ کرنےمیں آسانی پیدا کر دی بلکہ اس سسٹم
میں دوسرےروابط کو کیچ کرنےکی سہولت بھی موجود ہی۔ اس کےبعد اس سسٹم میں ایسا
مائیکرو فون نصب کیا جانےلگا جس سےگفتگو کرنےوالےکےاردگرد کےلوگوں کی باتوں کو بھی
با آسانی سنا جاسکتا تھا۔ اس نظام کےوجود میں آنے کےفوراً بعد اسےاین ایس اےاور سی
آئی اےمنتقل کر دیاگیا۔ یہ خطرناک ٹیکنالوجی سب سےپہلے چیچنیا کےمجاہد لیڈر اور
سابق سوویت یونین کی فضائیہ کےسربراہ جوہر دوایف کےسازشی قتل کا سبب بنی۔ روس اور
چیچن مجاہدین کےدرمیان جنگ شروع ہونےسےپہلےامریکیوں کا خیال تھا کہ یہ جنگ زیادہ
سےزیادہ ایک تحریک مزاحمت کی حد تک رہےگی مگر چیچن مجاہدین نےانتہائی قلیل مدت میں
ہزاروں روسی فوجیوں کےساتھ ساتھ متعد روسی جنرل بھی واصل جہنم کر دیئےتھی۔ چیچن
مجاہدین کےاس جارحانہ جہاد میں جوہر دو ایف کی مجاہدانہ قیادت کا زیادہ دخل تھا۔ جو
جنگ بندی کےمعاملےمیں عالمی طاقتوں کےاصرار کےباوجود چیچنیا کی آزادی سےکم پر راضی
نہیں تھے۔ ان عزائم میں امریکہ کےلیےخطرات پنہاں تھی۔ امریکہ نےروس کو جوہر دو ایف
کی نقل و حرکت کےبارےمیں مطلع کرنا شروع کر دیا۔ آخر میں جوہر دود ایف کےموبائل فون
کے ذریعےان کےخفیہ جنگی ہیڈ کوارٹرز کا پتہ چلا کر روسی فضائیہ سےشدید بمباری کرائی
گئی جس میں یہ عظیم چیچن مجاہد شہید ہوگیا مگر ان کی شہادت کےبعد امریکا اور روس
بھی مطلوبہ مقاصد پوری طرح حاصل نہ کرسکےکیونکہ ان کی شہادت کےبعد جنگی قیادت
نوجوانوں کےہاتھ میں آگئی۔ جنہوں نےپہلےسےزیادہ جارحانہ انداز میں جہاد جاری
رکھتےہوئےروس کو گھٹنےٹیکنےپر مجبور کر دیا۔ موبائل فون استعمال کرنےکی غلطی ترکی
کو مطلوب مغرور کرو لیڈر عبداللہ اوجلان نےبھی کی جس کا خمیازہ اسےاپنی گرفتاری کی
شکل میں بھگتنا پڑا۔ اوجلان یونان کےپاسپورٹ پر کینیا فرار ہوچکا تھا۔ ترکی کی مدد
کےلیےامریکا اور اسرائیل میدان میں آچکےتھےمگر اوجلان کی روپوشی کا علم آخری وقت تک
کسی کو نہ ہوسکا لیکن جب اوجلان نےکینیا کےد ارالحکومت نیروبی سےیورپ میں قائم
کردوں کی تنظیم کرد پارلیمنٹ سےموبائل کےذریعےرابطہ قائم کیا تو فوراً اسےنہ صرف
ٹریس کر لیا گیا بلکہ اس کی روپوشی کےمقام کا بھی پتہ چلایا گیا اور صرف چند گھنٹوں
کےبعد عبداللہ اوجلان ترک کمانڈوز کے نرغےمیں استنبول روانہ ہو رہا تھا۔
|