|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
اہانت رسول اور مغرب
دونوں جذبات سےسرشار رومی ‘ بازنطینی ‘
لاطینی ‘ مسیحی اور یہودی روایات صدیوں سینہ بہ سینہ مسلسل چلتی رہیں۔ افواہوں
کےدوش پر سفر کرتی رہیں اور کبھی کبھار وقائع و اسفار اور تحریر و تصنیف کےقالب میں
ڈھلتی نئی نسل کو منتقل ہوتی رہیں۔ ظہور اسلام کےبعد کوئی پانچ صدیوں تک اسلام اور
بانی اسلام کی مخالفت و مخاصمت کا عام انداز یہی رہا۔ تعصب ‘
سنی سنائی باتوں اور خود ساختہ مفروضات نےانہیں اسلام اور پیغمبر اسلام کی حقیقی
تصویر دیکھنےسےروکےرکھا۔
تحریک استشراق کی تاریخ کو سمجھنےکےلیےاس کےمختلف ادوار کا جائزہ لینا ضروری
ہی۔ اس کےلیےاسےچھ ادوار میں تقسیم کیاجا سکتا ہی۔
٭ پہلےدور کا تعلق اندلس میں مسلمانوں کےدور عروج سےہےجبکہ علم و حکمت اور تہذیب و
تمدن کا مرکز اسپین تھا اور مغرب دور تاریکی سےگزر رہا تھا۔ اہل مغرب نےترقی یافتہ
مسلمانوں سےعلم و تہذیب کا درس لینےکےلیےایک پسماندہ قوم کی طرح ان کےعلمی مراکز کا
رخ کیا کیونکہ وہ مسلمانوں کی قوت و شوکت کا راز معلوم کرنا چاہتےتھی۔ اس دور میں
جن بڑی مغربی شخصیات نےاندلس سےکسب فیض کیا ان میں فرانسیسی راہب حیریری دمی اور
الیاک اشبیلیہ اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم رہا اور پھر ترقی
کرتےکرتےپاپائےروم (999ءتا 1003ئ) کےمنصب تک جا پہنچا۔ جون ثالث ‘ یوحنا بن دائود
رابرٹ تستری ‘یوحنا اشبیلی‘ ہرماں الالمناطی ‘ دیرکلونی ‘ پطرس ‘ مائیکل سکاٹ‘
ریمنڈرل ‘ راجربیکن ‘ فریڈرک ثانی ‘ الفانسو دہم وہ ہیں جنہوں نےاندلس میں اسلامی
چشمےسےفیض یاب ہونےکےبعد ریاضی‘ فلکیات و طب ‘ کیمیا ‘ تاریخ‘ طبعیات ‘ نفسیات اور
سیاست کی اہم کتابوں کےنہ صرف ترجمےکیےبلکہ مغرب کو اسلامی تحریکوں
کےذریعے”روشنی“کی طرف لائی۔ تراجم کا کام ایک طرف مغرب میں روشنی کےلیےاور دوسری
طرف اسلام کی مخالفت کےلیےشروع کیا گیا جس کا اعتراف خود پطرس نےان الفاظ میں
کیاہی۔”میں اسلام کو کفر سمجھتا ہوں ‘ (نعوذ باللہ ‘ نقل کفر کفر نباشد) قرآن
کےترجمےکا مقصد یہ ہےکہ عیسائیوں کو مسلمانوں اور اسلام کےخلاف مضبوط دلائل میسر
ہوں۔“
پطرس نےقرآن مجید کا جو ترجمہ اپنی نگرانی میں کرایا اس میں حقائق کو اتنا مسخ
کیا گیا کہ ”بلاشبہ“ جس نےفرانسیسی زبان میں قرآن حکیم کا ترجمہ کیا ۔ وہ کہتا ہے‘
”لاطینی عبارت چند مقامات کو چھوڑ کر باقی مقامات پر قرآن کی عربی سےکوئی مناسبت
نہیں رکھتی۔“
٭ دوسرا دور صلیبی جنگوں کےطویل محاربات میں مغرب کی عسکری محاذ پر ناکامی نےانہیں
اس راستےپر ڈال دیا کہ ذہنی اور فکری محاذ پر اسلام اور دنیائےاسلام کو زک پہنچائی
جائی۔ اس زمانےمیں مستشرقین نےاسلام اور پیغمبر اسلام کو انہی الزامات کا ہدف
بنایا۔ اس دور میں انہوں نےفرضی تصویری کہانیوں ‘ افسانوں ‘ ناولوں اور ڈراموں
کےذریعےحضور اکرمکی کردار کشی کےلیےکوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اس دور میں جو
کچھ مغرب نےکیا اس کی ایک جھلک مستشرقین ہی کی زبان میں قارئین کےسامنےرکھی جا رہی
ہےتاکہ عام مسلمان خصوصاً لبرل مسلمان یہ جان سکیں کہ مغرب نےاہانت رسول کا عمل اب
نہیں ‘ صدیوں پہلےسےشروع کر رکھا ہی۔ (نقل کفر کفر نباشد)
”منٹگمری واٹ “ اپنی کتاب (Muhammad Prophet and Stateman)لکھتا ہےکہ ”ایک وقت
وہ بھی تھا جب محمد کو ”Mahound“(نعوذ باللہ) کی شکل میں پیش کیا گیا جس کا مطلب
تھا ”برائی کا شہزادہ۔“
فلپ کےہٹی اپنی کتاب "Islam A way of life"میں کہتا ہےکہ ”قرون وسطیٰ
کےعیسائیوں نےمحمد کو سمجھنےمیں غلطی کی۔ نویں صدی عیسوی میں ایک یونانی قصہ گو
نےمحمد() کی تصویر کشی (معاذاللہ) ایک جھوٹےداعی نبوت اور دغاباز کےطور پر کی ‘ اسی
تصویر کو بعد میں جنس پرستی ‘ بدچلنی‘ خون آشامی اور قذاقی کےچمکدار رنگوں سےمزین
کیا گیا۔ یہ تصور بھی پیش کیاگیا کہ محمد() کی (نعوذباللہ)نعش زمین و آسمان
کےدرمیان معلق ہی۔ اس افسانےنےاتنی شہرت حاصل کی کہ جب 1503ء میں ایک اطالوی نومسلم
مدینہ گیا تو وہ محمدکو مذکورہ مقام پر نہ پا کر متحیر ہوا۔ دانتےنےمحمد() کےدھڑ کو
دو حصوں میں تقسیم کرکےیہ دکھانےکی کوشش کی (نعوذباللہ) وہ جسم جہنم کےنویں درجےمیں
پڑا ہی۔
|