|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تہذیبوں کا تصادم
(Clash of Civilizations)
کارٹون کےخلاف مسلمان ممالک میں ردعمل عیسائیوں کےخلاف
آیا مگر اشاعت میں عیسائی ملوث نہیں۔ اس کا ثبوت 9فروری کےاخبار میں چھپنےوالی وہ خبر ہےجس میں یہ بتایا گیا ہےکہ انہی اخباروں میں حضرت عیسیٰ کا کارٹون بھی چھپا ہےاور ظاہر ہےکہ ایسا کوئی عیسائی نہیں کرسکتا اور بات بالکل واضح ہوگئی ہےکہ اس اشاعت میں کون لوگ ملوث ہیں۔
تہذیبوں کےتصادم کی ابتدا ہوچکی‘ ایسا لگتا ہےکہ عیسائیت اس وقت ایک محتاط انداز میں مسلمانوں کو یہودیوں کےخلاف استعمال کرنا چاہتی ہےاور دوسری طرف یہودی بھی اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ وہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوںکی ہمدردیاں جیت کر مسلمانوں کو بطور
آلہ کار عیسائیوں کےخلاف استعمال کرسکیں۔ پچھلےدنوں سفارتی سطح پر پاکستان کا خفیہ طریقےسےاسرائیل کےساتھ رابطہ اور اسرائیلی قیادت کےبیانات اس تجزیےکو تقویت دیتےہیں جسےاجاگر کرنامیرا مقصد ہی۔ اب دیکھنا ہےکہ دنیا کی تین بڑی تہذیبیں اسلام‘ عیسائیت اور یہودیت کس طرح اس تصادم میں اپنےاپنےمفادات کےتحفظ کو یقینی بنانےمیں کامیاب ہوتی ہیں بالخصوص قیادت مسلمہ کےلیےیہ ایک انتہائی نازک اور سنگین چیلنج ہےجسےبطریق نبھانےکےلیےاس اپنی اہلیت کو ثابت کرنا ہی۔ اگرچہ اس کےامکانات کم نظر
آتےہیں مگر مسلمان ممالک کی پٹھو حکومتوں کےامریکہ کےخلاف حالیہ بیانات میں امید کی ایک ہلکی سی کرن بہرحال نظر
آنےلگی ہےاور یہ کہا جاسکتا ہےکہ مردےگھوڑےمیں شاید جان پڑ جائی۔
ایم پی جارج گیلووےکا عیسائیت کےعلم کےساتھ میدان کا ر زار میں اترنا کوئی انفرادی عمل نہیں بلکہ اس کےپس منظر میں عیسائیت کےوہ انتہا پسند عناصر اور حساس ادارےہیں جو دنیا پہ عیسائی تہذیب کا غلبہ دیکھنا چاہتےہیں اور جو مسلمانوں کےنقطہ نظر کےبرعکس یہ یقین رکھتےہیں کہ حضرت عیسیٰ کےہاتھوں میں اس دنیا کی نجات ممکن ہی۔ مسلمانوں کےحق میں جارج گیلووےکا جوش حب علی کا عکاس نہیں بلکہ بغض معاویہ کی وجہ سےہی۔ دونوں یہ سمجھتےہیں کہ شاید وہ مسلمانوں کو ساتھ ملا کر ایک دوسرےکو شکست دےسکیں اور مسلمانوں سےبعد میں نمٹ لیں گی۔ منزل دونوں کی ایک ہے‘ پہلی فیز میںایک دوسرےکو ختم کرنا اور بعد میں اسلام سےنمٹنا۔ مسلمانوں کےخلاف ان دونوں کا ہتھیار وہ لبرل ٹولا ہے جسےدین سےکوئی غرض نہیں۔ اس وقت جبکہ یہودی اور عیسائی ایک دوسرےسےنبردآزما ہوچکےہیں ان دونوں کا ان مشترکہ مفادات پر
آپس میں بھرپور تعاون بھی دیکھنےمیں
آتا ہےجس کےمحرکات بعد میں ان کی راہ کی رکاوٹ بن سکتےہیں۔ انہیں دھڑکا ہےتو اللہ کےاس سپاہی سےجسےقرآن مومن و مجاہد کہتا ہی۔ بغض مومن میں تمام تر ذہانت ‘ وسائل اور عسکری قوت لےکر ایک جھنڈےتلےجمع ہونیوالےاب پورےزور و شور سےپوری دنیا میں اس کےشکار پر نکلےہوئےہیں۔ وہ جہاں کہیں بھی قوت جہاد جو اسلام کی اصل روح ہےکو پھلتےپھولتےدیکھتےہیں اسےفوراً وہیں ختم کرنےکےلیےبرسرپیکار نظر
آنےلگتےہیں۔ وہ اس قوت کو ختم کرنےکےلیےبوسنیا ‘ چیچنیا‘ فلسطین‘ کشمیر اور افغانستان اور کہاں کہاں کی خاک چھانتےنہیں پھر رہی۔ مگر یہ قوت عشق ہےکہ کہیں نہ کہیں پھر خود رو پودےکی طرح نمودار ہوجاتی ہےاور درد کی لہر بن کر قلوب یہودی و ہنود و نصاریٰ میں دوڑنےلگتی ہی۔
ایک بات جو اہل جفا نہیں جانتےوہ یہ کہ لڑائی کسی فرد یا کسی مادی شےسےنہیں بلکہ ایک ایسےجذبےسےہے جس کا سرچشمہ خود اللہ عزو جل کی ذات ہےاور وہی اس کی
آبیاری کی ضمانت بھی۔ یہ جذبہ یہ عشق کبھی چیچنیا میں فخر روس ایٹمی
آبدوز کرسک کوسمندر میں ڈبوتاہی‘ کبھی فلسطین میں بچیوں کےروپ میں
آگ کا بگولا بن کر دشمن کوخاکستر کرتا ہی‘ کبھی کشمیر میں
آتش فشاں بن کر ابلتا ہےاور کبھی ایک کمسن بچےکی شکل میں افغانستان میں امریکی کمانڈوز کےلیےصور اسرافیل بن جاتاہی۔
منصوبہ ساز و نوشتہ دیوار پڑھو‘ جذبہ جہاد دراصل رسم شبیری ہےاور پکار پکار کر کہہ رہا ہےکہ میں لوح تاریخ پر ہمیشہ سےتابندہ ہوں اور ہمیشہ رہوں گے۔ میں یداللہ خیبر شکن ہوں ‘ میں مرادرسول فاتح روم فارس ہوں‘ میں خالد بن ولید ہوں‘ سعد بن ابی وقاص ہوں صلاح الدین ایوبی ہوں‘ طارق بن زیاد ہوں‘ محمود غزنوی ہوں اور سب سےبڑھ کر شہید کرب و بلا ہوں۔
|