|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تہذیبوں کا تصادم
(Clash of Civilizations)
مجھےغور سےسنو!
جبیں پہ عزم کی تلوار سجائےہوئی
میں اپنےہاتھ میں اپنا ہی سر اٹھائےہوئی
چلا ہوں پھر سرمقتل یہ گنگنائےہوئی
مجھی سےدہر میں رسم وفا ہےتابندہ
کسی میںدم ہو تو
آئےکر لےشکار مجھی
اڑا کےخون زمانےمیرا نکھار مجھی
میں بےخطر کبھی
آتش میں کود جاتا ہوں
دہکتی ریت سےداغا گیا ہےمیرا بدن
میں مسکرا کےکبھی جھولتا ہوں سولی پر
میں کربلا میں سبھی کچھ لٹا کےزندہ ہوں
میں مثل آگ ہوںکشمیر کےچناروں میں
میں نخل سبز ہوں مشرق کےریگزاروں میں
زمین روس پر رقصاں ہوں کہساروں میں
غزنوی کی تڑپ گرم ‘ برف زاروں میں
مجھےمٹانےچلےہیں بتان و ہم و گماں
میرےنمو کی ضمانت خودی کا سرنہاں
مرےجنوں سےہےروشن ازل سےتیرہ جہاں
میرےہی دم سے ہےقائم وجود کون و مکاں۔
|