kitab ghar website logo





Don't Like Unicode ?  Read in Nastaleeq from Image Pages or Download the PDF File

 

Kitaabghar Blog:
Kitaabghar launched a Blog for discussion of urdu books available online on kitaabghar.com or any other website. Readers can also share views and reviews of books of their choice and promote their favourite writers. This is not limited to urdu books.



توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش

 

یہ تہذیبوں کی نہیں ‘ ثقافتوں کی جنگ ہے؟


 

لیکن اصل سوال یہ ہےکہ سب سےپہلےڈنمارک کےجس اخبار (Jyllands Poslen نےیہ خاکےشائع کیی‘ اس نےیہ بےہودہ حرکت کن مقاصد کےتحت کی؟ اس اخبار کےایڈیٹر کا نام فلیمنگ روز (Flemming Rose)ہی۔ امریکہ سےشائع ہونےوالےمشہور ہفت روزہ جریدے”نیوزویک “ (اشاعت 13فروری2006ءصفحہ58) نےفلیمنگ روز سےانٹریو کرتےہوئےمذکورہ بالا سوالات کیے‘ لیکن فلیمنگ نےجو جوابات دیئے ان سےاندازہ ہوتا ہےکہ مسلمانوں کےتمام تر احتجاجات کےباوجود اس کےکانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور نہ ہی وہ یہ ماننےاور تسلیم کرنےکو تیار ہےکہ اس نےتوہین رسالت کا ارتکاب کیا ہی۔ اس کی بدتہذیبی اور دریدہ د ہنی کا یہ عالم ہےکہ بقول اس کے”میں نےیہ کارٹون شائع کرکےآزادی اظہار کا ثبوت دیا ہی“ اس ایڈیٹر سےکی جانےوالی گفتگو اب نذر قارئین ہی:
سوال: گزشتہ ستمبر میں آپ نےاپنےاخبار میں یہ کارٹون شائع کیی۔ اس (حرکت) کےپیچھےکیا مقاصد کارفرما تھی؟
جواب: مجھےاس بات کی تشویش تھی کہ یورپ کےآرٹسٹ اور کلچرل دائروں میں خود اختیار کردہ سنسر شپ میں اضافہ ہو رہا ہی۔ اسی وجہ سےمیں نے(یہ توہین آمیز) کارٹون شائع کرنےکا فیصلہ کیا تاکہ اس رجحان کی ماہیت کا اندازہ لگایا جاسکی۔ یہ بھی خیال تھا کہ ان کارٹونوں کی اشاعت سےایک نئی بحث کا آغاز ہوگا۔ میں نےیہ کام سنجیدگی سےکیا۔ اس کا اندازہ اس سےلگایا جاسکتا ہے کہ میں نےڈنمارک میں رہنےوالےمختلف کارٹونسٹوں سےخود رابطہ کیا اور ان سےکہا کہ محمد() کےبارےمیں تم لوگوں کےذہنوں میں جو خیالات ہیں‘ اس پس منظر میں ان کی تصویر کشی کرو‘لیکن میں نےکارٹون بنانےکی بات نہیں کی تھی اور جب انہوں نےیہ بنا دیئےتو میں نےشائع کر دیئی۔
سوال: لیکن جو کارٹون بنائےگئے‘ وہ غیر مناسب نہیں تھی؟ (اس سوال پر انٹرویو نگار چارلس فیرو نےحضور کےبارےمیں ایسی باتوں کا اعادہ کیا جن کا ذکر کیا جانا بھی ہم حضور نبی کی شان مبارکہ میں گستاخی سمجھتےہیں اس لیےانہیں حذب کر دیا گیا ہی۔)
جواب: ہم نے(جو توہین آمیز کارٹون) بنائےہیں ‘ ان سب کا یہ مطلب نہیں ہےکہ دنیا کےسارےمسلمان دہشت گرد ہیں۔ ہم تو یہ کہتےہیں کہ بعض مسلمانوں نےاسلام کو یرغمال بنا کر دہشت گردوں اور شدت پسندوں کو یہ اجازت دےدی ہےکہ وہ یہ اقدام کریں۔ اس ملک (ڈنمارک) میں رہنےوالےمسلمانوں کےساتھ ہم وہی سلوک کرتےہیں جو دوسرےشہریوں سےکیا جاتا ہی۔ ہم ان سےبرابری کا سلوک کرکےثابت کر رہےہیں کہ وہ اور ہم مساوی اور یکساں درجےکےشہری ہیں۔
سوال: آپ یہ کیوں کہہ رہےہیں کہ ان کارٹونوں کی اشاعت سےمسلمان ضرورت سےزیادہ ردعمل کا اظہار کر رہےہیں‘ حالانکہ اس سےقبل دوسرےمذاہب کےبارےمیں بھی کارٹون شائع کیےگئےہیں؟
جواب: اس سوال کا جواب دو حصوں میں دیا جاسکتا ہی۔ اس کا ایک حصہ تو یہ ہےکہ ہمارا مقصود بحث کا آغاز تھا ‘ سو یہ بحث گزشتہ چار ماہ سےجاری ہی۔ مذہبی آزادی کا یہ مطلب نہیں ہےکہ میں دوسرےمذاہب کا بھی احترام کروں۔ یہ بڑی پریشان کن بات ہوگی کہ کوئی مذہب ‘ خواہ وہ اسلام ہو یا عیسائیت‘ یہودیت ہو یا بدھ مت ‘ اپنےنظریات و افکار دوسروں پر زبردستی مسلک کرنےکی کوشش کری۔ جب میں مسجد میں جاتا ہوں تو اس مقدس جگہ کے اندر جو اصول اور قوانین مروج ہیں‘ میں ان کی پاسداری کرتا ہوں۔ میں وہاں بیٹھ کر اس قسم کےکارٹون نہیں بنائوں گا۔ لیکن میرا خیال ہےکہ کوئی مذہب اور اس کےماننےوالےاگر یہ چاہتےہیں کہ میں ان کےخیالات و نظریات کےسامنےسرنگوں ہوجائوں‘ انہیں بلاچوں و چرا تسلیم کر لوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس مذہب کےماننےوالےمیرا احترام نہیں کر رہی۔ یہی بات میں ایک غیر مسلم ہونےکےناطےسےمسلمانوں سےکہوں گا۔ مسلمان مجھ سےیہ بات منوانا چاہتےہیں کہ میں ان کےنظریات کےسامنےسرتسلیم خم کردوں۔ اس بحث کا یہی مرکزی نقطہ ہی۔ سعودی عرب اور دوسرےممالک میں جو لوگ احتجاج کر رہےہیں‘ انہوں نےیہ کارٹون سرےسےدیکھےہی نہیں۔ وہ افواہوں اور غلط خبروں پر شور مچا ر ہےہیں۔

 

Go to Page:

*    *    *

tohin-e-risalat, sher angaiz mawad ki ashat, izhar ki azadi ya sher angezi, panja-e-yahood or europe, yahudioN ki sharartain, sazish ke muharrikat, maghrib ki islam mukhalifat, holocaust ka inkar, denark ka khaka, tahziboN ka tasadam, salibi jangoN ka naya silsila, shatim rasool ki saza or muafi, denmark ka boycott, jang, war, pyena round table conference, salahud din ayyubi, talash-e-aman, naqli qurran ki taqseem, pur tashaddud ahtajaj ke muashi muzimmarat, fikri pasmandgi ka shikar europian media

 

Download the PDF version for Offline Reading.(Downloads )

(use right mouse button and choose "save target as" OR "save link as")

A PDF Reader Software (Acrobat OR Foxit PDF Reader) is needed for view and read these Digital PDF E-Books.

Click on the image below to download Adobe Acrobat Reader 5.0


[ Link Us ]      [ Contact Us ]      [ FAQs ]      [ Home ]      [ FB Group ]      [ kitaabghar.org ]   [ Search ]      [ About Us ]


Site Designed in Grey Scale (B & W Theme)