|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یہ تہذیبوں کی نہیں ‘ ثقافتوں کی جنگ
ہے؟
سوال: اس تنازعےسےیورپ میں بسنےوالے(مسلمان) تارکین وطن کےبارےمیں یہ خدشہ پیدا نہیں ہوگا کہ وہ اپنےنئے(اختیار شدہ) ممالک کی روایات کےساتھ خود کو منسلک کرنےمیں ناکام ہو رہےہیں؟
جواب: میرا خیال ہےکہ یہ تہذیبوں کا نہیں بلکہ ثقافتوں کا تصادم ہی‘ اب دیکھنا یہ ہےکہ تارکین وطن یورپ کےساتھ کس انداز میں خود کو یک جہت کرتےہیں!
سوال: آپ کا اخباراشاعت کےاعتبار سےایک چھوٹا روزنامہ ہےلیکن اس ردعمل نےاسےدنیا بھر میں مشہور کر دیا ہی۔آپ اس سےکیا نتیجہ اخذ کرتےہیں؟
جواب: میں یہ منظر پہلی بار دیکھ رہا ہوں کہ میرا اخبار صرف ڈیڑھ لاکھ کی تعداد میں شائع ہوتا ہی‘لیکن (اتنی تھوڑی اشاعت رکھنےکےباوجود) اس نے(کارٹونوں کی وجہ سی) ساری دنیا کےلیےایک مسئلہ کھڑا کر دیا ہی۔ یہ ایک چیلنج بھی ہی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہےکہ یورپ کےایک سیکولر اور جدید جمہوری ملک میں
آپ جو کچھ کرتےہیں ‘ اس سےدنیا کےبعض ممالک
آپ سےناراض بھی ہوسکتےہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہماری سوسائٹی کی اقدار کا علم نہیں ہی۔ یہ بدقسمتی کی بات ہوگی کہ ہم ڈنمارک میں اگر کوئی بات کریں تو اس سےسعودی عرب یا کوئی دوسرا ملک متاثر ہوجائےیا ان کےردعمل سےہم بدک جائیں۔
سوال: لیکن آپ نےکارٹون بنا کر سعودی عرب (عالم اسلام) پر اثرانداز ہونےکی بہرحال کوشش کی؟
جواب: نہیں ‘ میں نےیہ حرکت نہیں کی۔ میں نےتو وہ کام کیا جو ڈنمارک اور شمالی یورپ میں پہلےہی سےہو رہا تھا۔
سوال: آپ سنسر شپ اور
آزادی¿ اظہار کےدرمیان خط تفریق کہاں اور کیسےکھینچیں گی؟
جواب: میرےاخبار کی اپنی حدود و قیود ہیں‘ کسی بھی ہمہ رنگ سماج میں ‘ جہاں واقعی
آزادی اظہار کا چلن ہو ‘ میری حدود
آپ کی حدود کی مطابقت اور اتباع میں نہیں ہوسکتیں۔ ہمارےہاں بھی نسل پرستی اور کفر کےخلاف قوانین ہیں۔
سوال: محمد() کےبارےمیں (توہین
آمیز) کارٹون شائع کرکےآپ نےکفر اور اہانت کا ارتکاب نہیں کیا؟
جواب: ڈنمارک کےقانون دانوں نےایک ماہ قبل کہہ دیا تھا کہ ان کارٹونوں نےکفر اور اہانت کا ارتکاب نہیں کیا۔
سوال: کیا آپ کا اخبار Jylland Posten(مسلمانوں اور عالم اسلام سے) معافی مانگےگا؟
جواب: معافی؟ وہ بھلا کیوں اور کس لیی۔
|