|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یورپ اور عالم اسلام میں تصادم
لیکن یہ سازش کیا ہےاور اس کا نشانہ کون ہے‘اس کا مقصد کیا ہی‘ بین الاقوامی حالات اور واقعات کو مدنظر رکھتےہوئےان کا تجزیہ کیا جائےتو ہمیں یہ سازش کافی حد تک سمجھ میں
آجاتی ہی۔افغانستان اور عراق کےبعد واحد عالمی سپرپاور امریکہ کا مستقبل قریب میں نشانہ ایران ہی۔ بہانہ ایران کا جوہری پروگرام ہےاور یہ کہا جا رہا ہےکہ چونکہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے جا رہا ہےاور چونکہ اس کاایٹمی طاقت بننا عالمی امن کےلیےخطرہ ہےاس لیےاس کو اس ارادےاور اس کوشش سےباز رکھنا ضروری ہے۔ ایران سےخطرہ اگر ہوسکتا ہےوہ تو اسرائیل کو ہوسکتا ہےجبکہ اسرائیل خود بھی غیر اعلانیہ ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہےاس سےتو عالمی امن کو خطرہ نہیں تو پھر ایران سےکیسے‘ یہ بھی ایک بہانہ ہےاصل مقصد تیل سےمالا مال خلیج کےتمام وسائل کو اپنےتصرف میں لانا ہےاور اس پر قبضہ جمانا ہی۔ عراق پر قبضہ کرنےکےبعد خلیج کےعلاقےمیں تیل سےمالا مال واحد ملک ایران ہی ہےجو امریکی دسترس سےباہر ہی۔ لیکن چونکہ عراق کی جنگ کےبعد اب یورپی ممالک ایران پر حملےکےحق میں نہیں ہیں۔ امریکہ کا قریب ترین اتحادی برطانیہ بھی ایسا کرنےکےخلاف ہےلہٰذا یورپ اور ایران کےدرمیان دوری پیدا کرنےاور یورپ کو اپنا ہمنوا بنانےکےلیےمسلمانوں کےجذبات سےیہ گھنائونا کھیل کھیلا گیا ہی۔ اس سلسلےمیں مغربی خبرساں ادارےکے حوالےسےروس کےلبرل ڈیموکریٹ لیڈر ولاد میر زور و نوسکی کا تجزیہ کافی قرین قیاس نظر
آتا ہےکہ امریکہ کےپاس ایران کو ایٹمی طاقت بننےسےروکنےکےلیےحملےکےسوا کوئی دوسرا
آپشن نہیں ‘ ان کےمطابق امریکہ جو دنیا میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہےاس لیےاسےاپنا یہ قائدانہ کردار برقرار رکھنےکےلیےجنگیں لڑنی پڑیں گی۔ انہوں نےیہ بھی دعویٰ کیا ہےکہ امریکہ 28 مارچ کو ایران پر حملہ کر دےگا جس روز اسرائیل میں عام انتخابات ہونے ہیں ۔تاریخ کےبارےمیں کچھ کہنا تو قبل از وقت ہےلیکن مسٹر میرزرونوسکی کا یہ کہنا صحیح ہےکہ امریکہ دنیا کےوسائل کو اپنےتصرف میں لانےکےلیےجنگ کرتا رہےگا۔اگرچہ روسی لیڈر نےیہ بھی کہا ہےکہ دنیا بھر میں ہنگاموں کےپیچھےامریکہ کا ہاتھ ہےتاکہ فوجی حملےکےلیےیورپ کی حمایت حاصل کی جاسکےاور توہین
آمیز خاکوں پر مظاہرےامریکہ نےاس لیےشروع کروائےہیں کہ یورپ اور اسلامی دنیا میں جھگڑا شروع ہوسکےلیکن ان کا یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں کےاحتجاج اور ہنگاموں کےپیچھےامریکہ کا ہاتھ ہی۔ البتہ اس بات کو اس طرح اگر کہا جائےتو درست ہوگا کہ ڈنمارک اور اس کےبعد دیگر یورپی ممالک کےاخبارات میں توہین رسالت پر مبنی کارٹونوں کی اشاعت میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔ ڈنمارک کےایک اخبار میں کارٹون شائع ہونےکےبعد اسلامی دنیا میں احتجاج کی وسعت اتنی زیادہ نہ تھی اور معاملہ دبتےہوئےدیکھ کر یہ مذموم کارٹون دیگر یورپی ممالک کےاخبارات میں وقفےوقفےکےساتھ شائع کرائےگئےتاکہ اسلامی دنیا سراپا احتجاج بن جائی۔ اور ان مظاہروں کےاندر تشدد کا عنصر شامل ہوسکی۔
اس طرح سازش کا پہلا مقصد تو حاصل کر لیا گیا اور دنیا بھر کےمسلمانوںکو یورپ کےساتھ صف ارا تو کر دیا گیا مگر ابھی دیکھنا یہ ہےکہ سازش کا حتمی مقصد حاصل ہوتا ہےیا نہیں کیا امریکہ اپنی اس سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچا پاتا ہےیا نہیں۔
اس بین الاقوامی سازش کا ایک مقصد یورپ کی اقتصادیات پر بھی حملہ کرنا ہےکیونکہ
یورپی یونین کےقیام کےبعد یورپی کرنسی یورو کی قدر ڈالر کےمقابلےمیں کہیں زیادہ
ہےاور یورو عالمی منڈی میں ڈالر کو برار مات دیتا جا رہا ہےاس لیےاس سازش کا ایک
مقصد یورو کی قدر کم کرنا اور ڈالر کی قدر بڑھانا بھی ہےیعنی جب اسلامی ممالک یورپی
ممالک کا اقتصادی بائیکاٹ کریں تو یقینا یورو کی قدر کم ہوجائےگی اس طرح یورپ اور
اسلامی دنیا کےدرمیان بڑھتےہوئےاقتصادی تعلقات کو ختم کرنا اس سازش کا ایک بڑا مقصد
ہوسکتا ہی۔ یہ بات بھی بڑی معنی خیز ہےکہ ڈنمارک کےوزیراعظم کےساتھ امریکی صدر بش
نےٹیلی فون پر اس مسئلےپر بات چیت کرتےہوئےآزادی صحافت کےتحفظ کےلیے اظہار یکجہتی
بھی کیا ۔ صدر بش کےٹیلی فون سےقبل ڈنمارک کےوزیراعظم اس مسئلےپر افہام تفہیم کےموڈ
میں تھےمگر اس کےبعد ان کےلہجےمیں بڑی رعونت سی پائی گئی ۔ انہوں نےاسلامی ممالک
کےسفیروں سےملاقات تک کرنےسےانکار کر دیا۔ حالانکہ امریکہ بظاہر ان توہین آمیز
خاکوں کی اشاعت پر مسلمانوں کےساتھ ہمدردی کا اظہار کر چکا ہےمگر یہ تو ہم سب
جانتےہیں کہ امریکہ بظاہر کہتا کچھ ہےمگر عملاً وہ کرتا کچھ اور ہی۔
|