|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یورپ اور عالم اسلام میں تصادم
امریکہ نےبظاہر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائےموت ختم کرنےکی بھی اپیل کی تھی مگر دنیا جانتی ہےبھٹو صاحب کو جسمانی طور پر ختم کرنےکےدرپےکون تھا اور کیوں تھا یہ بھی لمحہ فکریہ ہےکہ اگر ان توہین
آمیز خاکوں کی اشاعت کا معاملہ
آزادی صحافت کا معاملہ ہےتو یہ مذموم کارٹون اور خاکےامریکی اخبارات میں بھی شائع ہوتےمگر ایسا نہیں ہوا۔امریکہ نےاپنےاخبارات میں تو یہ کارٹون شائع نہیں ہونےدیئےتاکہ مسلمانوں کو یہ باور کرایا جاسکےکہ وہ مسلمانوں کا ہمدرد ہےلیکن یورپ مسلمانوں کےخلاف ہی۔ یہ تو ہم سب جانتےہیں کہ
آج کی دنیا میں میڈیا کتنا بااثر ہتھیار ہےلہٰذا اسی میڈیا کو استعمال کرتےہوئےعالمی طاقتیں اپنا مقصد حاصل کرتی ہیں لہٰذا اس سازش کو منطقی انجام تک پہنچانےکےلیےبھی یورپ کےبعض اخبارات کےایڈیٹروں کو شائد خریدا گیا ہو اور ان کےذریعےاس سازش کو
آگےبڑھایا گیا ہو۔
یہ سازش تو اپنی جگہ اب ہمیں دیکھنا یہ ہےکہ کیا ہم نادانستہ طور پر اس سازش میں
آلہ کار تو نہیں بن رہی۔احتجاج کرنا ہمارا حق بھی ہےاور دینی فرض بھی۔ ناموس رسالت مآب پر مرمٹنا ہمارا ایمان ہی۔ ہم حضور کےنام پر اپنی جان بھی قربان کر سکتےہیں لیکن کیا ہم اپنا احتجاج بذریعہ تشدد‘ اپنےہی بھائیوں کی اور اپنی ہی قومی املاک کو نقصان پہنچا کر ‘ انہیں جلا کر اور توڑ پھوڑ کرکےہی ریکارڈ کرا سکتےہیں۔ کیا ناموس رسالت مآب پر اپنےجذبات کا اظہار کرنےکا ذریعہ یہی ہی۔ ایسا کرنا کہاں تک اسلامی تعلیمات سےمطابقت رکھتا ہی‘ کیا لاہور میں گاڑیوں غریبوں کی موٹر سائیکلوں ‘ بنکوں اور پنجاب اسمبلی کی عمارت اور دیگر عمارتوں کو نذرآتش کرکےاور نقصان پہنچا کر ہم اپنا دینی فریضہ ادا کر رہےہیں۔ میں سمجھتا ہوں ایسا کرکےہم اپنےدینی دشمن کےہاتھوں میں کھیل رہےہیں۔ مسلمانوں کےپرامن احتجاج کو تشدد کی راہ دکھانا بھی اس سازش کا حصہ ہےتاکہ مغرب میں مسلمانوں کےبارےمیں یہ تاثر پیدا کیا جاسکےکہ تشدد مسلمانوں کی سرشت میں شامل ہےاور وہ اپنےجذبات کا اظہار تشدد کےبغیر نہیں کر سکتی۔ ہمیں اپنےجذبات کا اظہار ضرور کرنا چاہیے‘ احتجاجوں‘ جلسوں‘ جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر شرکت کرنی ہےمگر پرامن رہ کر اپنےآپ کو ایک مہذب قوم کا مہذب شہری ثابت کرکے دنیا پر یہ واضح کرنا چاہیےکہ ہم ناموس رسالت پر مرمٹ سکتےہیں ‘لیکن تہذیب ‘ اخلاق اور اسلامی تعلیمات کا دامن ہاتھ سےچھوڑ نہیں سکتی۔
اس بین الاقوامی سازش کا مقابلہ کوئی بھی ملک اکیلا نہیں کرسکتا۔ صرف پاکستان
یا ایران یا کوئی اور اسلامی ملک اس سازش کو تن تنہا ناکام نہیں بناسکتا۔ اس
کےلیےہمارےپاس اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) کا ایک ادارہ موجود ہےاس مسئلےپر
اسلامی امہ کی اسی تنظیم کےپلیٹ فارم سےہی نمٹا جانا چاہیی۔ یہ کہہ دینا کہ پاکستان
ان یورپی ممالک سےسفارتی تعلقات ختم کرےجن کےاخبارات نےیہ ناپاک جسارت کی ہےکافی
نہیں اس سےکوئی فرق نہیں پڑےگا۔اگر سفارتی تعلقات ختم کرنےکا فیصلہ بھی کرنا ہےتو
اسلامی امہ کی اجتماعی تنظیم او آئی سی کےپلیٹ فارم سےہی کیا جانا چاہیی۔کم از کم
ڈنمارک کی حکومت کو سبق سکھانا ضروری ہےکہ جو اس ناپاک جسارت پر معافی طلب کرنےکی
بجائےرعونت کےساتھ مسلمانوں کےجذبات کو نظر انداز کر رہی ہےلیکن اس ضمن میں بھی
کوئی بھی قدم مسلم امہ کا اجتماعی ہونا چاہیےاس لیےاسلامی کانفرنس تنظیم کاہنگامی
اجلاس طلب کرنا ضروری ہےاور اس سلسلےمیں مزید دیر نہیں ہونی چاہیےجس میں اس ساری
صورتحال کا تجزیہ کرکےٹھوس اور بھرپور قدم اٹھایا جائی۔اگر ہم اسلامی دنیا کےاس اہم
ترین موقع پر بھی کوئی اجتماعی قدم اٹھانےمیں ناکام ہوگئےتو پھر بین الاقوامی سازش
کامیاب ہوجائےگی اور اس کےذمہ دار ہم سب ہوں گی۔
|