|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
قرآن کریم کی روشنی میں
اطاعت رسول اور اس کی اہمیت
اللہ کو رسول کےاحکام کی نافرمانی قطعی پسند نہیں جیسا کہ سورة النساءمیں ارشاد ہےکہ ”اس دن وہ لوگ جنہوں نے رسول کی نافرمانی کی تھی اوران کا انکار کیا تھا
آرزو کریں گےکہ کاش وہ پیوند زمین ہو جائیں لیکن اللہ سےوہ کوئی بات نہ چھپا سکیں گی۔“
یہیں پر آیت 59 میں ارشاد ہےکہ ”اے لوگو، جو ایمان لائےہو، اللہ کی اطاعت کرو اور اطلاعت کرو رسول کی اور ان کی جو تم سےصاحب امر (صاحب اختیار) ہوں، پس اگر تم میں کسی بات پر
آپس میں تنازع ہو جائی، تو اسےاللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ اور یوم
آخرت پر ایمان رکھتےہو، تو تمہارےلئے یہی بہتر اور عمدہ تاویل (طریقہ کار) ہی“
سورة النساءمیں منافقوں کا تعارف اس طرح کروایا گیا ہےکہ ”پس جب ان سےکہا جاتا ہےکہ اس کی طرف
آئو جو اللہ نےنازل کیا ہےاور رسول کی طرف
آئو تو آپ دیکھتےہیں کہ منافق تجھ سےحددرجہ پہلو تہی کرتےہیں“ اس کےبعد
آیت 64 میں رسول اکرم کی عظمت اس طرح بیان کی گئی کہ ”اور ہم نےہر رسول کو اس لیےبھیجا کہ اللہ کےحکم سےاس کی اطاعت کی جائےاور اگر لوگ اسی وقت، جب انہوں نےاپنےنفسوں پر ظلم کیا،
آپ کےپاس آ جاتےاور اللہ سےمعافی مانگ لیتےاور ان کیلئےرسولکےتوسط سے بھی اللہ سےمغفرت چاہتےتو وہ ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنےوالا مہربان پاتی-“ اس کےبعد اللہ نےفرماں بردار بندوں کا تعار ف
آیت 69 میں اس طرح کروایا ہےکہ جو اللہ کی اور رسولکی اطاعت کرتےہیں، وہی تو ان لوگوں کےساتھ ہوں گےجن پر اللہ نےانعام کیا ہی، نبیوں، صدیقوں، شہداءاور صالحین میں سےاور وہ کیا ہی عمدہ رفیق ہوں گی۔“
اسی طرح سورة النساءکی
آیت 80 میں حضور کی پریشانی کو دور کرنےکیلئےارشاد فرمایا گیا ”جس نےرسول کی اطاعت کی، یقینا اس نےاللہ کی اطاعت کی اور کوئی بھی روگردانی کرےگا، تو ہم نےتجھ کو ان پر کوئی محافظ بنا کر تو نہیں بھیجا ہی۔“ صاف طو رپر بتایا گیا ہےکہ رسول کی مخالفت کرنےوالا واصل جہنم ہو گا
سورة الشعراءمیں بار بار ارشاد ہےکہ بےشک میں تمہارےلیےایک رسول امین ہوں پس اللہ سےڈرو اور میری اطاعت کرو۔“ (آیت 110,109) میں فرمایا گیا ”اور میں اس کیلئےتم سےکوئی صلہ نہیں مانگتا میرا اجر بس اللہ رب العالمین کےپاس ہی، پس اللہ سےڈرو او رمیری اطاعت کرو۔“
|