|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
توہین رسالت کےخلاف عالمی حکمت عملی
دریں اثناءاو
آئی سی کےرکن ممالک کےمستقل نمائندوں کا اجلاس چند ہفتےپہلےجدہ میں ہوا تھا جس میں تازہ ترین صورت حال پر غور کیا گیا۔ ان نمائندوں نے موجودہ بحران سےنمٹنےاور
آئندہ ایسےواقعات کو روکنےکےلیےاحسان اوگلو کےتجویز کردہ پانچ نکات کی بھی منظوری دی۔
اسلامی ممالک میں عوامی سطح پر ہونےوالےردعمل سےاس بات کا اندازہ لگانا مشکل
نہیں کہ مسلم عوام حضور خاتم المرسلین کی ذاتِ اقدس کی توہین و تضحیک برداشت
کرنےکےلیےتیار نہیں بلکہ وہ آپ کی ذات بابرکات سےعقیدت و محبت کا مظاہرہ
کرتےہوئےجان و مال اور اپنا سب کچھ قربان کرنےکےلیےہر وقت تیار ہیں اس لیےکہ حضور
نبی کریم کی ذات اقدس سےمحبت ہر مسلمان کےایمان کا جزو لاینفک ہےاور اس کےبغیر
تکمیل ایمان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایمان کا یہی پہلو پوری امت مسلمہ کی طرف
سےسامنےآنے والےردعمل کا ثبوت اور جواز فراہم کرتا ہی۔ لیکن اس سارےمعاملےکا ایک
توجہ طلب اور افسوسناک پہلو یہ ہےکہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر جہاں یورپی یونین
میں شامل اکثر ممالک اور کئی دوسرےملکوں کی طرف سےان خاکوں کی اشاعت کو آزادی صحافت
کا ایک لازمی جزو اور اظہار رائےکی آزادی کا نام دیا گیا وہاں بعض مسلمان ممالک میں
عوامی سطح پر ہونےوالےردعمل کو بھی ہدف تنقید بنایاگیا ہی۔ اسےانتہا پسندی اور
قدامت پرستی کا نام دیاگیا۔ یہ گویا یورپی یونین اور بعض دوسرےمغربی ملکوں کی طرف
سےتوہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی تائید و حمایت ہی تو ہی۔ اب تک ان خاکوں کی اشاعت
کےحوالےسےمغربی ممالک کی اکثریت کا جو ردعمل سامنےآیا ہےوہ پوری امت مسلمہ کو لاحق
خطرات کی نشاندہی کےلیےکافی ہی۔ یہ اعزاز بھی صرف پاکستان کو حاصل ہےکہ اس نےاسلامی
شعائر کےاحترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کےفروغ کےلیےتجاویز پیش کرنےمیں پہل کی۔
امت مسلمہ کو اس امر کا احساس کرنا ہوگا کہ ڈنمارک کےایک اخبار کا یہ اقدام محض
اتفاق یا غیرارادی غلطی پر مبنی نہ تھا بلکہ یہ ایک دانستہ اقدام تھا۔ اگرچہ بعض
مغربی اخبارات نےمسلمانوں سےمعذرت کی ہےلیکن کسی بھی حلقےکی طرف سےآئندہ امت مسلمہ
کےجذبات کو مجروح کرنےوالےایسے واقعات کے رونما نہ ہونےکی کوئی ٹھوس یقین دہانی
نہیں کرائی گئی۔ اگر ان خاکوں کی اشاعت کےفوراً بعد اسلامی کانفرنس کی تنظیم کےپلیٹ
فارم سےایک مشترکہ اقدام کیا جاتا ‘ تمام مسلمان ممالک اپنےاپنےعوام کےجذبات اور
ردعمل کو سامنےرکھتےہوئےڈنمارک سےاپنےسفیر واپس بلا کر اس سےتجارتی لین دین ختم کر
دیتےتو یہ جذبہ ایمانی کا ایسا مظاہرہ ثابت ہوتا جس سےنہ صرف پوری امت مسلمہ کو
اطمینان و سکون حاصل ہوتا بلکہ ڈنمارک سمیت دوسرےاسلام دشمن حلقوں کو بھی معاملےکی
سنگینی کا پوری طرح احساس ہو جاتا اور آئندہ اخبارات سمیت کسی کو بھی آزادی صحافت
یا کسی اور آزادی کےنام پر ایسی مذموم حرکت کےارتکاب کی جرا¿ت نہ ہوتی۔ یورپ ‘
امریکہ اور کئی دوسرےممالک کی طرف سےڈنمارک کےساتھ اظہار یکجہتی اور مسلمان ممالک
بالخصوص اسلامی کانفرنس کی نمائندہ تنظیم کا اس معاملےمیں تساہل صدر جنرل پرویز
مشرف کےاس موقف کی تائید کرتا ہےکہ اس کی تنظیم نو کی جائے‘ اس کےکمزور ڈھانچےکو
مضبوط مو¿ثر بنایا جائی۔ ہمیں مسلمان ہونےکی حیثیت سےاس امر کا احساس کرنا ہوگا کہ
ہماری بقاء‘ سلامتی اور نجات آخروی صرف محمد عربی کےنام نامی سےہی۔ لہٰذا یہ ضروری
ہےکہ نہ صرف ڈنمارک کےاخبار کی اس مذموم حرکت کےخلاف اسلامی کانفرنس کی تنظیم
کےپلیٹ فارم سےفوری اقدام کیا جائےبلکہ آئندہ کسی بھی اسلام دشمن حلقےیا ادارےکی
طرف سےایسی مذموم حرکت کا فوری اور مو¿ثر جواب دینےکےلیےایسا ادارہ تشکیل دیا
جائےجو ایسی کسی صورت میں ازخود قدم اٹھا سکی۔ اگر اسلام دشمن قوتیں اسی طرح ہمارا
امتحان لیتی رہیں اور ہم ان کا جواب دینےمیں لیت و لعل اور تاخیر کا مظاہرہ
کرتےرہےتو دشمن اپنےمقاصد میں کامیاب ہوگا اور دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی ہمارا
مقدر بن کر رہ جائےگی۔
|