|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
صلیبی جنگوں کا نیا سلسلہ شروع
یہ نوجوان وہاں پہنچےتو پولیس نےکےکمانڈوز نےانہیں روک لیا.... یہ لوگ غیرمسلح تھےلیکن اس کےباوجود محسوس ہوتا تھا ان کےاندر
آگ لگی ہےاور یہ کسی بھی وقت شعلےبن سکتےہیں۔ حالات کو یوں خراب ہوتےدیکھ کر اخبار کا ایڈیٹر فرار ہو گیا جبکہ پولیس نےاس اخبار سےوابستہ تمام کارٹونسٹوں کی نقل وحرکت محدود کر دی۔ پولیس کا خیال ہےمسلمان نوجوان تمام
آرٹسٹوں کو ہدف بنا سکتےہیں۔ یہ
آگ اگلےدن سویڈن اور ناروےپہنچ گئی اور وہاں کی مسلمان کمیونٹی نےبھی احتجاج شروع کر دیا۔ دس جنوری کو ناروےکےایک جریدے”میگزنیت“ نےبھی یہ سارےخاکےشائع کر دیئےجبکہ وہاں کےایک بڑےاخبار ”راگ بلادت“ نےانہیں انٹرنیٹ پر جاری کر دیا جس کےردعمل میں وہاں بھی ڈنمارک جیسی صورتحال پیش
آ گئی او رپولیس کو اس میگزین اور اس اخبار کی عمارت کےسامنےبھی مورچےلگانا پڑ گئی۔ ڈنمارک اور ناروےکی صورتحال کو عالمی نشریاتی اداروں نےاٹھایا۔ ان کا خیال تھا وہ اس صورتحال کی مدد سےعالم اسلام کو مزید بدنام کر سکیں گےلیکن جوں ہی بی بی سی‘ سی این این‘ اےپی سی‘ واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائم میں یہ خبر شائع ہوئی‘ یہ ایشو پورےعالم اسلام تک پہنچ گیا اور تمام اسلامی ممالک میں یورپ اور امریکہ کےخلاف احتجاج شروع ہو گئی۔ اس دوران 11 اسلامی ممالک کےسفیروں نےڈنمارک کےوزیراعظم سےملاقات کی کوشش کی لیکن انہوں نےملنےسےانکار کر دیا۔ جنوری کےوسط تک دنیا کےکسی تجزیہ نگار کو اس شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ امریکہ اور یورپ کےدانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا خیال تھا اس ایشو پر عالم اسلام معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرےگا اور ان لوگوں کو انہیں مزید دہشت گرد ثابت کرنےکا موقع مل جائےگالیکن اس کا ردعمل اس قدر شدید اور خوفناک تھا کہ یورپ گھبرا گیا اور اس نےصورتحال کےتدارک کی کوشش شروع کر دیں لیکن
آنےوالےدنوں میں صورتحال مزید بگڑتی چلی گئی۔ تقریباً تمام اسلامی ممالک نےاپنےاپنےممالک میں موجود ڈنمارک کےسفیروں کو طلب کیا اور ان کےسامنےتحریری طور پر احتجاج کیا۔ سعودی عرب ‘لیبیا او رشام نےڈنمارک سےاپنےسفیر واپس بلا لیےاور او
آئی سی کےسیکرٹری جنرل اکمال الدین احسن ادغلو نےڈنمارک کےوزیراعظم کو خط لکھا اور اس خط میں ان سےشدید احتجاج کیا۔ انہوں نےلکھا: ”اخبارات میں حضورکی توہین پر مبنی کارٹونوں کی اشاعت سےتنائو اور انتشار پھیل سکتا ہی۔ ڈنمارک کےحکام کو چاہیےشان رسالت میں گستاخی کرنےوالوں کو باز رکھیں اور ان کی مذمت کا بیان جاری کریں۔“ سیکرٹری جنرل نےکہا کہ شان رسالت میں گستاخانہ اقدامات سےدنیابھر کےمسلمانوں کےجذبات مجروح ہوئےہیں اور مسلمانوں نےسمجھ لیا ہےکہ ڈنمارک او رناروےکےحکام نےگستاخانہ اقدامات کرنےوالوں کو روکنےکی بجائےان کا دفاع کیا ہی۔ سیکرٹری جنرل نےڈنمارک کےحکام سےکہا کہ وہ مسلم دنیا کےجذبات کو مدنظر رکھتےہوئےفوری طور پر معافی مانگیں۔
یورپ کیلئےیہ ایک غیرمتوقع صورتحال تھی۔ اسی دوران یورپ کا چرچ اس صورتحال میں داخل ہوا اور اس نےیورپ کےمختلف ممالک کےمختلف اخبارات کو ڈنمارک اور ناروےکے”متاثرہ“ اخبارات کی مدد کیلئےابھارنا شروع کر دیا۔ ان کا خیال تھا: ”عالم اسلام ان ایشو پر تیزی سےاکٹھا ہو رہا ہےلہٰذا ہمیں بھی اس وقت اتحاد اور نظم وضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیی۔“ چرچ کی یہ کوششیں یہ رنگ لائیں اور جنوری کےآخر میں اٹلی‘ فرانس‘ جرمنی اور اسپین کےاخبارات نےبھی یہ گستاخانہ خاکےشائع کر دیئی‘ اس کےبعد عیسائیوں اور مسلمانوں میں کھلی جنگ شروع ہو گئی۔
27 جنوری کو جمعہ تھا۔ اس دن حرمین شریفین کےآئمہ کرام نےاپنی تقریروں میں
مسلمانوں سےدرخواست کی کہ وہ ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں۔ ان تقریروں
کےردعمل میں سب سےپہلےسعودی عرب میں بائیکاٹ شروع ہوا۔ ڈنمارک عرب ممالک کو
بڑےپیمانےپر دو اشیاءسپلائی کرتا ہی: ایک حلال گوشت اور دوسری ڈیری مصنوعات۔ عربوں
نے1960ءمیں پہلی بار ڈنمارک سےگوشت خریدنا شروع کیا تھا۔ اس دور میں ڈنمارک یورپ کا
واحد ملک تھا جو بڑےپیمانےپر گائےاور دنبےپالتا تھا۔ ان کےجانور مخصوص ماحول میں
پلنےکےباعث بہت صحت مند اور لذیذ ہوتےتھےلہٰذا عربوں نےڈنمارک حکومت کےساتھ سمجھوتہ
کیا اگر وہ انہیں حلال گوشت فراہم کرنا شروع کردیں تووہ ان کےساتھ کھلی تجارت شروع
کر سکتےہیں۔ ڈینش گورنمنٹ مان گئی چنانچہ سعودی عرب نےکوپن ہیگن میں مذبح بنائےاور
وہاں مسلمان قصاب تعینات کر دیئےجو خود اپنےہاتھ سےجانور ذبح کرتےاور اس کےبعد اپنی
نگرانی میں جانوروں کو صاف کر کےپیک کراتی۔
|