|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
صلیبی جنگوں کا نیا سلسلہ شروع
آنےوالےدنوں میں یہ تجارت اس قدر بڑھ گئی کہ ڈنمارک حکومت نےاپنےتمام ذبیحہ خانوں میں سعودی عرب کےقصاب ملازم رکھ لیےیوں اس وقت ڈنمارک یورپ کا واحد ملک ہےجس میں تمام حلال جانور اسلامی طریقےسےذبح کیےجاتےہیں۔ ڈینش حکومت کا اعلان ہےآپ ڈنمارک کی کسی مارکیٹ کی کسی دکان سےمرغی‘ گائےاور بکرےکا گوشت خرید سکتےہیں‘ یہ گوشت حلال ہو گا۔ گوشت کےبعد ڈنمارک کی سب سےبڑی تجارت اس کی ڈیری مصنوعات ہیں‘ ڈنمارک یورپ کا واحد ملک ہےجو اربوں ڈالر کا دودھ (خشک اورملک پیک دونوں)‘ دہی‘ پنیر‘ مکھن‘ لسی اور بالائی برآمد کرتا ہی۔ اس کی ڈیری مصنوعات کی سب سےبڑی کمپنی
آرلے(Arly) صرف متحدہ عرب امارات کو ہر سال 3 بلین ڈینش کرائون کی ڈیری مصنوعات فروخت کرتی ہےجبکہ سعودی عرب ہر سال ڈنمارک سے350ملین ڈالر کا مکھن اور دودھ درآمد کرتا ہی۔ اس وقت سعودی عرب کی اسٹورز کی چار بڑی چینز میں ”آرلی“ کےالگ کائونٹر اور شیلفیں بنی ہیں لیکن ائمہ کرام کےاعلان کےبعد
آرلےکی مصنوعات کا بائیکاٹ ہو گیا اور اسٹورز کےمالکان نےاس کی ساری مصنوعات اٹھا کر باہر پھینک دیں۔ سعودی عوام نےبھی اپنےاپنےفریجوں سےیہ ساری مصنوعات نکال کر باہر پھینک دیں۔ ڈنمارک حکومت کےجاری کردہ اعداد وشمار کےمطابق صرف ایک ہفتےمیں ڈنمارک کی کمپنیوںکو اڑھائی سو ملین ڈالر نقصان ہوا جو ایک بہت بڑی رقم ہی۔ تازہ ترین اطلاعات کےمطابق فرانس حکومت کےدبائوپر فرانسیسی اخبارات کےایڈیٹرکو نوکری سےبرخواست کر دیا گیا ہی۔ یورپ کےتمام اخبارات کےدفتر کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہی۔ 59 اسلامی ممالک میں احتجاج اور جلسےجلوسوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہی‘ یورپ کےتمام سفیر اور سفارتی عملےکو اسلامی ممالک میں اپنی سرگرمیاں محدود کرنےکی ہدایات جاری ہو چکی ہیں۔ 22 اسلامی ممالک میں ڈنمارک اور ناروےکےسفارتی عملےنےاپنےاہل خانہ واپس بھجوا دیئےہیں اور ڈنمارک کےمختلف اہلکاروں نےچھٹی کی درخواست دےدی ہی۔ اسلامی ممالک میں ان تمام گستاخ ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری ہےاور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہےیہ معاملہ ابھی
آگےچلےگا۔
اب ہم آتےہیں اس معاملےکی نفسیاتی جہتوں اور پس منظر کی طرف.... اسلام پر رکیک حملوں کا سلسلہ سلطان صلاح الدین ایوبی کےدور سےشروع ہوا تھا۔ اس دور میں یہودیوں اور عیسائیوں نےایک سازش کےتحت شعائر اسلام اور مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کا مذاق اڑانا شروع کیا تھا۔ ان حرکتوں کےردعمل میں صلیبی جنگیں شروع ہو گئیں اور یہ سلسلہ کئی برسوں تک جاری رہا۔ جنگوں کا یہ سلسلہ مسلمانوں نےجیت لیا تھا لیکن سازشوں کا عمل اسی طرح چلتا رہا۔ شدت پسند عیسائی وقتاً فوقتاً گستاخی کےمرتکب ہوتےرہےاور اس کےجواب میں مسلمانوں کےردعمل کا مطالعہ کرتےرہی۔میں نےبرسوں پہلےکسی نومسلم کی ایک کتاب پڑھی تھی۔ یہ صاحب اسلام قبول کرنےسےپہلےیورپ کےکسی چرچ کےپادری رہےتھی۔ انہوں نےانکشاف کیا: ”مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی توہین ایک سازش کےذریعےکی جاتی ہےاور اس کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہوتا ہےکہ مسلمان کس حد تک مغربی تہذیب میں رنگےجا چکےہیں اور ان کی برداشت کا لیول کیا ہی؟ یہ لوگ اس قسم کی توہین کےذریعےمسلمانوں کی برداشت کا امتحان لیتےہیں۔“ میں نےجب یہ چیز پڑھی تو مجھےیورپ کی وہ تمام حرکتیں یاد
آ گئیں جن کےذریعےانہوں نےمسلمانوں کےجذبات سےکھیلنےکی کوشش کی تھی مجھےاس وقت معلوم ہوا: یہ تمام حرکتیں ایک تجربہ‘ ایک ٹیسٹ ہوتی ہیں اور ان کا مرکز عموماً یورپ کےماڈرن معاشرےہوتےہیں او ریہ لوگ اس قسم کی حرکتوں کےذریعہ یہ معلوم کرنےکی کوشش کرتےہیں کہ ان ممالک میں رہنےوالےمسلمانوں کی غیرت کی کیا پوزیشن ہی؟ مسلمان کس حد تک ”روشن خیال“ اور ”اعتدال پسند“ ہو چکےہیں؟
مجھےمعلوم ہوا اس قسم کی حرکتیں ہر پانچ سات برس بعد ایک تواتر کےساتھ ہوتی رہی
ہیں کبھی یہ سازش امریکہ سےباہر بھی جاتی ہی‘ کبھی یہ مشرق بعید چلی جاتی ہےاو
رکبھی اس کا مرکز یورپ ہو جاتا ہےاو رکبھی سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی شکل میں
عالم اسلام میں بھی ایسےگستاخ پیدا کر دیئےجاتےہیں اور اس کےبعد چرچ کےبےشمار
ادارےایسی گستاخیوں کےردعمل کا مطالعہ کرتےہیں۔ گستاخانہ خاکوں کےاس سلسلےکا تعلق
بھی اسی سازش سےہےلیکن اس بارپہلی مرتبہ عالم اسلام میں ایک اتحاد اور نظم نظر آ
رہا ہی۔ پہلی مرتبہ یہ محسوس ہوتا ہےکہ عالم اسلام اس سازش کےخلاف ڈٹ جائےگا اور وہ
عملی طور پر یورپ کی طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کرےگا۔
|