|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تہذیبوں کا تصادم ہےکیا؟
آزادی پسند فرانس کا ہیرو اور ”یورپ کا ضمیر“ والٹیئر صرف اسلام یا پیغمبر اسلام ہی کو اپنی تنقید او رطعن وتشفیع کا نشانہ نہیں بناتا‘ بلکہ عیسائیت کےتمام روایتی نظریات سےاختلاف رکھتا ہی۔ وہ ”ابتدائی گناہ“ تثلیث‘ تجسیم‘ عدم برداشت‘ نفرت اور مذہبی جنونیت کےبھی سخت خلاف ہی۔ والٹیئر کےخیال میں اگر امن عامہ میں خلل نہ
آتا ہو توہر شخص اظہار رائےکا حق رکھتا ہی۔ وہ کہتا ہی: ”تم نےہمیں یہ دل نفرت کرنےکیلئےعطا نہیں کیی۔ ہمارےدرمیان موجود ذہنی اختلافات کو نفرت او رظلم وتعدی کی علامتوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہیی۔ دنیابھرکےانسانوں کو یاد رکھنا چاہیےکہ وہ
آپس میں بھائی بھائی ہیں۔“ لہٰذا رسول اکرم کی توہین کا جوا زپیش کرتےوقت ہمیں والٹیئر کےخیالات کا سہارا نہیں لینا چاہیی۔ اس بحث سےاسےالگ ہی رکھیں تو بہتر ہی۔
میں 50 برس قبل ڈنمارک گیا تھا۔ اس وقت یہ ملک اپنی روایات اور اخلاقی قدروں پر فخر کیا کرتا تھا۔ تارکین وطن سےمتعلقہ ملکی پالیسیوں کےحوالےسےبھی یہ ریاست مثالی تھی۔ میں نےڈنمارک کےڈیرہ فارمز بھی دیکھی‘ مختلف مکاتب فکر سےتعلق رکھنےوالےاحباب سےملاقات کا اتفاق ہوا۔ معاشرہ بھی کشادہ دل تھا اور یہ ایک فیاض فلاحی مملکت تھی‘ خدا جانےنصف صدی پہلےوالاڈنمارک کہاں گیا۔
جب آپ کا ہمسایہ
آپ جیسا ہوا‘ آپ ہی کی زبان بولتا ہو‘
آپ ہی جیسی عادات کا مالک ہو‘ تو اس کےساتھ گزارہ کرنا حددرجہ سہل ہی۔ اس کےساتھ
آزاد خیال ہو کر بھی رہا جا سکتا ہےاور قوت برداشت کو بھی کسی امتحان میں نہیں ڈالنا پڑتا۔
آج کا ڈنمارک فلاحی ریاست کی قیمت ادا کرنےپر تو تیا رہی‘ لیکن اس محمدحسین‘ احمد علی یا عبداللہ کو برداشت نہیں کرنا‘ جو پاکستان یعنی 5000 میل دور سےآیا ہی۔ نصف صدی کےدوران بہت کچھ بدل چکا ہی۔
”جلینڈز پوسٹن“ نام کےجس اخبار نےقابل اعتراض اور مذموم گستاخانہ خاکےشائع کیی‘ اس نےمعذرت کی ہےکہ اس کےفعل نےدنیابھر کےمسلمانوں کےجذبات کو ٹھیس پہنچائی‘ تاہم وہ اس بات پر مصر ہےکہ اس کا فعل باجواز اور
آزادی اظہار کےتقاضوں کےعین مطابق تھا۔
وزیراعظم ڈنمارک فوگ ریمسن نےایک بار پھر زور دےکر کہا ہےکہ وہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر معذرت نہیں کریں گی۔ ڈنمارک کےاخبار کےساتھ یک جہتی کےاظہار کےطور پر دیگر یورپی اخبارات نےبھی اس کی تقلید میں گستاخانہ خاکےشائع کیےاور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پریس کی
آزادی کےدفاع میں مزید ”سخت اقدامات“ کرنےچاہئیں۔ برائی کےارتکاب کیلئےآزادی کو
آزادی نہیں کہا جا سکتا۔
آزادی تقریر وتحریر کی ہم بھی قدر کرتےہیں‘ لیکن حکومت ڈنمارک کا فرض ہےکہ وہ ان نفرت انگیز اور پراز تعصب خاکوں کی اشاعت کی بھرپور مذمت کری۔
اسلامی دنیا کا کوئی فرد یہ تسلیم کرنےکو تیار نہیں کہ ڈنمارک مسلمانوں کا دوست ملک ہی۔ ڈنمارک کو دروغ گو سےکم کوئی خطاب نہیں دیا جا سکتا‘ جب وہ کہتا ہےاسےمسلمانوں‘ اسلام یا پیغمبراسلام کا دشمن ثابت کرنےکیلئےحالیہ گستاخانہ خاکوں کو ثبوت کےطور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ ڈنمارک کی حکومت ”ڈینش پیپلز پارٹی“ کےایک ووٹ کےسہارےپر قائم ہی‘ جس کےرہنما برملا اور کھلم کھلا مسلمانوں کو ”سرطان کےخلیات“ (aner ells) قرار دیتےہیں۔
”ڈینش پیپلز پارٹی“ عوام کو سرعام بتاتی ہےکہ اسلام ایک دہشت گرد مذہب ہےاو رپیغمبر اسلام (نعوذباللہ) ”دھو کےباز“ ہیں۔ ڈنمارک کا دعویٰ ہےکہ دنیا کی فی کس
آمدنی میں ان کا حصہ قابل ذکر ہی‘ دوسری طرف حال ہی میں ڈنمارک کی پارلیمنٹ نےایک قانون منظور کیا ہی‘ جس کےتحت کسی ”تشددزدہ“ شخص کیلئےڈنمارک کی شہریت کا حصول تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہی۔ ”ڈینش پیپلز پارٹی“ کےایک رہنما پیاگاارسگارڈ نےحال ہی میں اپنےایک مضمون میں لکھا کہ ”مسلمان ہماری صفوں کےاندر ہمارےدشمن ہیں‘ وہ ہمارےخفیہ غنیم ہیں‘ ہم انہیں اسلامی مافیا کہہ سکتےہیں۔“
کیرن آرمسٹر انگ کےمطابق: ”مغرب میں ہم اسلام کےساتھ ہم آہنگی کبھی پیدا نہیں
کر سکی۔ اس عقیدے(عقیدہ اسلام) کےخلاف ہمارےنظریات کرخت ہیں‘ ہم اسےپسند نہیں
کرتےاور اس کےبارےمیں شدید تعصب کا شکار ہیں‘ لیکن اب ہم انہیں مزید نظرانداز نہیں
کر سکتےاور نہ ہی اپنےتعصب کو طول دےسکتےہیں۔
|