|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
تہذیبوں کا تصادم ہےکیا؟
1956ءمیں کینیڈا کےایک ممتاز اور معروف سکالر ولفرڈکینٹ ویل سمتھ نےلکھا تھا: ”اگر مغرب اور اسلامی دنیا 20ویں صدی کی
آزمائشوں میں ناکام نہیں رہنا چاہتےتو انہیں ایک بڑی کوشش کرنا ہو گی۔
مسلمانوں کو مغربی معاشرت اور اس کی کامیابیوں کےساتھ سمجھوتہ کرنا پڑےگا‘ کیونکہ یہ زندگی کےحقائق ہیں‘ لیکن مغرب کےعوام کو بھی تسلیم کرنا پڑےگا کہ وہ اس سیارے(زمین) پر خود سےکمتر نہیں‘ بلکہ برابری کےحامل افراد کےہمراہ رہ رہےہیں۔ ہم اسےپسند کریں یا نہ کریں‘ ہمیں ایک دوسرےکےہمسائےبن کر رہنا ہی۔
عالمگیریت کی حامل اس دنیا میں مختلف تہذیبوں کےباہمی مراسم فروغ پذیر ہیں۔ کوئی بھی مقامی نوعیت کا واقعہ یا حادثہ عالمی سطح پر اثرات مرتب کر سکتا ہی‘ لہٰذا ضروری ہےکہ ہم پرامن بقائےباہمی‘ باہمی احترام اور تحمل وبرداشت جیسی صفات اور اقدار کی
آبیاری کریں۔ اسلام اور مغرب مشترکہ روایات رکھتےہیں۔ مسلمان مغرب کی
آزادیوں سےحقیقتاً متنفر نہیں ہیں۔ ان کا مغربی طرز زندگی کےساتھ بھی کوئی جھگڑا نہیں۔ اس کو مسلمانوں نےنبی اکرم کی زندگی میں ہی تسلیم کر لیا تھا‘ لیکن مغرب اسےقبول کرنےپر
آمادہ نظر نہیں
آتا۔
توہین رسالت پر مبنی خاکوں کی اشاعت نےدنیابھر میں ارتعاش پیدا کر دیا ہی۔ مسلمانوں کیلئےیہ طوفان ”سونامی“ سےکم شدت کا حامل ہرگز نہیں۔ یہ بحران وسعت پذیرہی۔ ان خاکوں کی اشاعت نےوہ
آگ بھڑکا دی ہےجو تمام خطےکو شعلوں کےحوالےکر سکتی ہی۔
پاکستان اس طرح جاگ پڑا ہی‘ جیسےکوئی سویا ہوا شخص ہڑبڑا کر اٹھتا ہی۔ مسلمانوں کی گنگ زبانیں کھل چکی ہیں او روہ سڑکوں پر نکل
آئےہیں۔ اسی قسم کےواقعات تاریخ کا رخ موڑ دیتےہیں۔
ممکن ہےیہ لوگوں کےذہن میں کوئی اہم موڑ ثابت ہو۔ پاکستان میں لوگوں نےاپنےخوف
پر قابو پا لیا ہےاور سب نفسیاتی رکاوٹوں کو عبور کر لیا ہی‘ وہ غم
وغصےسےبھرےبیٹھےہیں‘ کون خواہش رکھتا ہےاور کس میں اتنی صلاحیت ہی‘ جو ان
غصیلےجذبات کی رہنمائی کا فرض انجام دےسکی؟ یہ وہ تاریخی لمحہ ہےجس کےدوران بعض
اوقات کوئی موزوں شخص منظر پر ابھر کر تاریخ کا رخ بدل دیتا ہی۔
|