|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
کیا تہذیبوں کا تصادم ناگزیر ہی؟
سیاسی شعور ایک ایسا ہتھیار ہےجو اگر ایک دفعہ حاصل ہو جائےتو اس کو واپس چھینا نہیں جا سکتا۔
آزادی کےجذبےکو دلوں سےمحو نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی حالت کےبدلنےکی امنگ حالات کو خراب دیکھ کر اور زیادہ بیدار ہوتی ہی۔ اسلامی دنیا اپنی نشاة ثانیہ کےدور سےگزر رہی ہےاور اس کا یہ سفر فکری‘ مادی اور سیاسی ہر ایک جہت پر محیط ہی۔ ظاہر ہےکہ اپنی صورتحال کا تجزیہ ہمیں خود ہی کرنا اور اپنےمسائل کا حل ہمیں خود ہی سوچنا ہی۔ مغربی استعمار کےدماغ بھی اس صورتحال کو دیکھ رہےہیں۔ وہ جانتےہیں کہ یہ موجودہ صورتحال ایک غیرمنصفانہ اور فطرت کےتقاضوں سےمتصادم صورتحال ہےاور جس سمت میں معاملات جا رہےہیں۔ اس سےدنیا اسلام کی مارکیٹوں او ران کےوسائل پر استعماری گرفت کمزور سےکمزورتر ہوتی جائےگی۔ وہ یہ بھی دیکھ رہےہیں کہ خود مغربی ممالک میں عام لوگوں بالخصوص نوجوان نسل میں ان زیادتوں کےخلاف جذبات بیدار ہو رہےہیں۔ مغرب کی نوجوان نسل امن چاہتی ہےجس کی بنیاد صرف اور صرف انصاف پر رکھی جا سکتی ہی۔ میں سمجھتا ہوں کہ غیرمتوازن عالمی نظام کو زیادہ سےزیادہ طول دینےکیلئےاستعمار کےپاس ایک موثر حکمت عملی مذہبی تعصبات کو فروغ دینا اور ایک سیاسی‘ فکری اور مادی مسئلےکو ایک جذباتی مسئلےمیں بدلنا ہےاگر ہم اس نقطہ نظر سےاستعمار کی حکمت عملی کودیکھیں تو ایسا وہ انتہائی چابک دستی سےکر رہےہیں۔ تہذیبوں کےتصادم کےعجیب وغریب فلسفےکو پیش کرنےاو رہوا دینےسےلےکر حالیہ گستاخانہ حرکت تک جس کی ان کےاپنے’آزاد‘ معاشرےتک میں نہ روایت ہےنہ اجازت تمام اقدامات مجھےاس حکمت عملی کا ایک حصہ لگتےہیں۔
ڈنمارک ناروی‘ فن لینڈ انتہائی صلح جو‘ پرامن اور ترقی پسند معاشرےہیں لیکن استعمار کےپالتو کتےکہاں موجود نہیں ہیں۔ مجھےحیرت اس بات پر ہےکہ
آخر وہ کون سےدبائو ہیں جن کی وجہ سےڈنمارک کی حکومت اس
آتش فشاں کو ٹھنڈا نہیں کر رہی۔ شرافت کا دستور تو یہی ہےکہ اجتماعی تو جانےدیجیےاگر انفرادی سطح پر کسی بات سےکسی کےجذبات مجروح ہوئےہیں تو معافی مانگی جائی۔ معافی مانگنےمیں ہیٹی نہیں ہلکہ فضیلت ہےمعلوم نہیں کیا منصوبہ بندی کی جا رہی ہےلیکن ڈنمارک اور دوسرےمغربی ممالک جس طرح کا ردعمل دےرہےہیں اس کا عمومی رخ مذہبی تعصبات کو بڑھانےاور تصادم کو قریب لانےکی جانب ہی۔
سوال پیداہوتا ہےکہ کیا استعمار نےیہ فیصلہ کر لیاہےکہ اس سےپہلےکہ دنیائےاسلام اپنےپیروں پر کھڑےہونےکےقابل ہو عصبیت کےپردےمیں اس پرکاری ضربات لگائی جائیں اور اس کو پچاس ساٹھ سال پیچھےدھکیل دیا جائی؟ تاریخ اور وقت کا رخ ماضی کی جانب نہیں بلکہ مستقبل کی جانب ہی۔
آپ بیرونی طور پر ضربات پہنچاکر اس سفر کی رفتار کو دھیما تو کر سکتےہیں لیکن اس کو پیچھےکی جانب یا اپنی جگہ پر منجمد نہیں کر سکتی۔ ہو سکتا ہےکہ استعمار اس سفر کو منجمد کرنےیا پیچھےکی جانب دھکیلنےکےبارےمیں نہ سوچ رہا ہو‘ لیکن اگر ہمارا یہ مفروضہ غلط بھی ہےتب بھی کوئی وجہ نہیں ہےکہ ہم اس ممکنہ خطرےکو نظرانداز کریں اور اپنی حکمت عملی (اگر ہم واقعی کوئی حکمت عملی بنا رہےہیں) یا ردعمل میں اس سےبچائو کی کوئی تدبیر سامنےنہ لائیں۔
سر سید احمد خان یا اس سےپہلےشاہ ولی اللہ کےدور سےاستعمار کےخلاف جدوجہد میں
ہمارےدو واضح لیکن بالکل مختلف ردعمل سامنےآئےہیں۔ پہلا ایک جذباتی ردعمل ہےوہ یہ
کہ نتائج یا جدوجہد کےطریقہ کار کی پروا کیےبغیر استعمار سےٹکر لےلی جائی۔ 1857ءکی
جنگ آزادی‘ جس میں صرف دہلی کےاطراف میں پانچ لاکھ مسلمانوں کو پھانسی دی گئی‘ اور
جہاں عدالتیں پہلا سوال ہی یہ کرتی تھیں کہ ”ویل تم مسلمان؟“ شاید اس جدوجہد کانقطہ
عروج تھا جس کےفوراً بعد یہ جدوجہد دم توڑ گئی۔ استعمار کےخلاف اس جدوجہد پر کئی
اعتراضات کیےجا سکتےہیں او رکیےگئےہیں لیکن ان شہیدوں کےجذبہ ایمانی اور جذبہ حریت
کےسامنےہم میں سےہر ایک کےسر احترام سےجھک جاتےہیں۔ خدا ان پر اپنی رحمت کرےاور ان
کےدرجات بلند کری۔ دوسرا ردعمل سر سید احمد خاں کا ہےجنہوں نےاپنی دوراندیشی سےاس
بات کو سمجھا کہ مغربی استعمارکا مقابلہ ان تمام چیزوں کےحصول کےبغیر جنہوں نےان کی
عددی قلت کےباوجود ان کو برتری دلائی ہی‘ ناممکن تھا۔ سر سید نےملت کو ایک عملی
پروگرام دیا جس کا نقطہ آغاز جدید علوم کا حصول اور جدید نظریات سےہم آہنگی تھا۔
|