|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
کیا تہذیبوں کا تصادم ناگزیر ہی؟
تاریخی طور پر ان دونوں نظریات کو مسلم انتہاپسندی اور مسلم قوم پرستی کےدو علیحدہ علیحدہ ناموں سےیاد کیا جاتا ہےاور یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ پورےعالم اسلام میں ان دونوں نظریات میں فکری اختلاف اور بسااوقات تصادم کی کیفیت بھی رہی ہی۔
انتہاپسندی کی جانب سےیہ الزام لگائےگئےکہ جدید علوم کی درسگاہوں سےاستعمار اپنی فکری ہمنوا اور ایجنٹ پیدا کرےگا لیکن ہم نےدیکھا کہ ان ہی درسگاہوں سےوہ فرزندان ملت سامنےآئےجنہوں نےاستعمار سےبھرپور ٹکر لی اور اس کو پیچھےدھکیلا۔ اتاترک‘ محمد علی‘ شوکت علی‘ جناح‘ احمد سوئیکارنو‘ جمال ناصر‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ یاسر عرفات اور کتنےہی دوسرےجنہوں نےبدترین غلامی کےدور میں اور
آزادی کےبعد ملت کی ذمےداریاں سنبھالیں ان ہی جدید تعلیمی اداروں سےنکلےتھی۔ مسلم انتہاپسندی اورجذباتیت کےساتھ استعمار پھر بھی کوئی بقائےباہمی کا راستہ نکال لیتا تھا‘ لیکن مسلم قوم پرستی کےرن رہنمائوں کا وہ خون کا پیاسا تھا پھر یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ پورےعالم اسلام میں تمام ملکوں کی
آزادی کی تحاریک کی قیادت مسلم قوم پرستی نےکی‘ انتہاپسندی کسی بھی تحریک میں صف اول میں نہیں رہی بلکہ بسااوقات ہم دیکھتےہیں کہ اس دلیل پر کہ کیونکہ
آزادی کےبعد ان ممالک میں قرون وسطی کا نظام شریعت لاگو کرنےکی کوئی ضمانت نہیں دی جا رہی تھی مسلم انتہاپسندی کی جانب سےان تحاریک کی مخالفت کی گئی اور انتہاپسندی صرف ان تحاریک کی کامیابی کےبعد نظام شریعت نافذ کنےکےنعرےپر میدان میں
آئی۔ بہرحال تاریخی طور پر مسلم قوم پرستی کا یہ استدلال کہ استعمار سےٹکر لینےکیلئےجدید علوم ونظریات کا حصول شرط اول ہےدرست ثابت ہوا ہی۔
آج بھی جب ہم دیکھ رہےہیں کہ ہمارےاور عالم اسلام کےبہت سےدوسرےممالک میں جبکہ جدید تعلیم صرف طبقہ بالا تک محدود کی جا رہی ہےاور اس کی وجہ سےبہت سی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں تب بھی یہ ادارےنوجوانوں کےقوم وملک سےمحبت کےجذبےکو ختم کرنےاور خودغرضی کو مزاجوں میں ڈھالنےمیں ناکام رہےہیں جس طرح سےان اداروں کےبچوں اور بچیوں نےحالیہ زلزلےکےدوران
آگےبڑھ کر امدادی کاموں میں حصہ لیا ہےوہ میرےلیےخوشگوار حیرت کا باعث ہی۔ ہمیں قومی تعمیر کےکاموں اور قومی جمہوری جدوجہد میں ان نوجوانوں کی شرکت کیلئےبھرپور مواقع پیدا کرنےچاہئیں۔
جی ہاں جمہوریت وہ اگلا موڑ ہےجو عالم اسلام کو اپنی نشاة ثانیہ کےسفر میں مڑتا ہے‘اسلامی دنیا کےکئی ممالک اس منزل سےگزر چکےہیں باقی کی نظروں میں یہ ایک قریبی منزل ہی۔ جب قومیں اور ممالک استعمار کےتھوپےہوئےحکمرانوں کےبجائےاپنےحکمران جمہوری طریقےسےمنتخب کر سکیں گی‘ قومی وسائل جب عوام کےقبضےاور اختیار میں ہوں گےاور یہ وسائل عوام کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنےاور ان کا معیار زندگی بہتر بنانےکیلئےاستعمال ہوں گی‘ مغربی استعمار کتنا ہی جمہوریت پسندی کا دعویٰ کرےاس کی پوری سپورٹ جمہوریت دشمن طاقتوں کو ہی۔ وہ مذہبی انتہاپسندی کےخلاف کتنی ہی باتیں کیوں نہ کریں ان کی زمینی پوزیشن ہر مذہب اور عقیدےکی انتہاپسندی کی سپورٹ یا ان کےساتھ بقائےباہمی کی ہی۔ جمہوریت وہ راستہ ہےجو ہمیں سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط کرنےکےساتھ ساتھ ہر مذہب اور عقیدےکو ساتھ لےکر چلنےکی صلاحیت اور گنجائش رکھتا ہی‘ جس میں فرقہ وارانہ عصبیتوں کےذریعےملت کی تقسیم درتقسیم کی کوئی گنجائش نہیں ہےاور جو تہذیبوں کےتصادم کےاستعماری نظریےکو باطل کر دیتا ہی۔
اس وقت استعمار کےخلاف جدوجہد میں ہمارےسامنےسوال وہی سر سید احمد خاں والا ہےکیا ہم جذباتی تصادم کا راستہ اختیار کریں؟ اگر ہم یہ راستہ اختیار کرتےہیں تو ہم وہی کر رہےہوں گےجو استعمار چاہتا ہےکہ ہم کریں اور تباہ ہو جائیں اور شاید جذباتی اور انتہاپسند راستہ ہماری ناطاقتی کافطری نتیجہ بھی ہےیا ہم اپنےجائز موقف کو پوری صراحت کےساتھ عالمی رائےعامہ کےسامنےرکھتےہوئےزیادتیوں پر شدید احتجاج کرتےہوئےہر ملک‘ مذہب اور عقیدےکےافراد میں اپنےجائز موقف کیلئےحمایت پیدا کرتےہوئےاپنی توجہ اپنی تعمیر وترقی اور اپنےمعاشروںمیں حقیقی جمہوریت کےحصول پر مرکوز رکھیں؟ اگر ہم یہ دوسرا راستہ اختیار کرتےہیں تو دنیائےاسلام کی فلاح وبہبود کےساتھ ساتھ ہم استعماری منصوبوں کو بھی خاک میں ملا رہےہوں گی۔
استعمار جنگ چاہتا ہی‘ ہم امن چاہتےہیں‘ انتہاپسندی کی بنیاد جبر اور اکراہ
کےفلسفےپر رکھی گئی ہی‘ ہم انسانی حقوق اور آزادیاں طلب کرتےہیں۔
|