|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
کیا تہذیبوں کا تصادم ناگزیر ہی؟
انتہاپسندی اور استعمار کی جبلت میں
تعصب وتشدد ہی‘ ہم صلح کل اور تشدد سےنفرت کےراستےپر گامزن ہیں۔ استعمار اور
انتہاپسندی فرقہ بندی اور تقسیم درتقسیم کا راستہ اختیار کرتےہیں‘ ہ نہ صرف ملت
اسلامیہ بلکہ پوری انسانیت کو متحد دیکھنا چاہتےہیں۔ استعمار عوام کوپس ماندہ رکھنا
چاہتا ہی‘ انتہاپسندی کےجذباتی ایجنڈےمیں عوام کی فلاح کا کوئی پروگرام نہیںہی‘
ہمارا بنیادی پروگرام اور مقصد عوام کی فلاح وبہبود ہی۔ استعمار اور انتہاپسندی
ریاستوں کےزیادہ سےزیادہ وسائل تصادم اور جنگ میں برباد کرنا چاہتےہیں۔ ہم چاہتےہیں
کہ ریاستیں اپنےزیادہ سےزیادہ وسائل غربت‘ بھوک اور جہالت کےخاتمےپر خرچ کریں۔
استعمار اور انتہاپسندی تہذیبوں کےتصادم کےراستےپر گامزن ہیں وہ جب مذاہب کےدرمیان
گفتگو کی بات بھی کرتےہیں تو اس نظریےکو مستحکم کر رہےہوتےہیں کہ جنگی وسائل کی
نہیں بلکہ عقائد کی ہی۔ ہم قومی وسائل پر قوموں کےاختیار کو مرکزیت دیتےہیں اور رسد
وطلب اور دولت کو چند ہاتھوں میں محدود اور منجمد کرنےکےاستحصالی نظریات کی جگہ
دولت کی عادلانہ تقسیم اور سرمائےکےمسلسل گردش کرتےرہنےکےحامی ہیں۔ ہم تہذیبوں
کےتصادم کو نہ تو ناگزیر سمجھتےہیں او رنہ ہی استعمار اور انتہاپسندی کی طرح اس کی
جانب گامزن ہیں۔ ان دونوں طاقتوں میں جو دنیا کو تہذیبوں کےتصادم کی جانب دھکیل رہی
ہی‘ ہمارےنزدیک اگر فرق ہےتو اتنا ہےکہ استعمار چالاک دشمن ہےاور انتہاپسندی نادان
دوست۔ ہمیں یقین ہےکہ چالاک دشمن شکست سےدوچار ہو گا کیونکہ تاریخ کا بہائو
ہمارےساتھ ہےلیکن اس کیلئےایک ابتدائی ضرورت یہ ہےکہ نادان دوست حقیقتوں کا درست
ادراک کریں۔
|