|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
دنیا کو تہذیبی تصادم سےبچایا جائی؟
مگر مسلمانان عالم نےکبھی اس عالمانہ بحث مباحثےپر اعتراض نہیں کیا کیونکہ یہ بات بخوبی ان کےعلم میں ہےکہ یہ اسلام پر جاری بحث مباحثےکا حصہ ہےاور یہ
آزادی اظہار کےضابطوں کےزمرےمیں
آتا ہی۔ لاتعداد اخبار مقالوں اور مضامین میں اسلام کو بالکل غلط رنگ میں پیش کیا جاتا ہےیہاں تک کہ صریحاً جھوٹ اور بالغہ
آمیز کہانیوں پر مبنی مواد اسلام کےحوالےسےپریس میں چھاپا جاتا ہےلیکن مسلمانوں نےکبھی تحمل اور برداشت کا دامن اپنےہاتھ سےنہیں چھوڑا‘ اسلام کےعلماءاور محققین نےہمیشہ ایسےاعتراضات کا علمی اور تحقیقی جواب دینےپر ہی اکتفا کیا ہی۔ وہ یہ بات بخوبی جانتےاور سمجھتےہیں کہ وہ ایسےمعاشروں میں رہ رہےہیں جو
آزاد اور حریت پسند جمہوریتوں کا حصہ ہونےکی داعی ہیں تاہم جب کبھی
آزادی اظہارکےحق کا غلط اور بیجا استعمال کیا جاتا ہےاور اسلام کی مقدس ترین ہستیوں کی دیدہ دانستہ توہین کی جاتی ہےتو پھر اس معاملہ پر بےچینی‘ اضطراب اور غم وغصےکا پیدا ہونا ایک فطری اور قابل فہم امر ہی۔ پیغمبر اسلام نبی اکرم کو چاقو لہراتےہوئےدکھانا اور دستار میں بم چھپائےہوئےظاہر کرنا ایک بین گستاخی اور توہین
آمیز اقدام ہےاور اس تنازعہ کو غلط رخ دےکر اس تاثر کو ہوا دینا ہےکہ وہ اور ان کےپیرو کار (معاذاللہ) پرتشدد‘ دہشت گرد او رامن عالم کےدشمن ہیں‘ یہ عمل عدل وانصاف کےتمام مسلمہ ضابطوں کی دھجیاں بکھیرنےکےمترادف ہی۔ ایک دوسرےکےخاکےمیں یوں عکاسی کی گئی ہےکہ وہ مردانہ خودکش بمباروں کی حمایت میں یہ کہہ رہےہیں”ٹھہریئےٹھہریئےہمارےپاس حوریں کم پڑ گئی ہیں“ اسےخاکوں کی تشہیر کو کیسےاور کیونکر
آزادی صحافت اور
آزادی تقریر کی
آڑ میں جائز قرار دیا جا سکتا ہی؟ مزید برآں ان خاکوں کی اشاعت رواداری میں نہیں ہوئی بلکہ وہ مسلمانوں کےخلاف تعصب اورجانبداری کےخاص ماحول میں شائع کیےگئےہیں اور نہ صرف ڈنمارک میں پائی جانےوالی فضا بلکہ یورپ بھر کی
آبادیوں میں مسلمانوں کےخلاف تنائو اور مخاصمت پورےعروج پرہی۔ ابھی کچھ عرصہ پہلےڈنمارک کی ملکہ کےیہ متنازعہ جملےاخبار میں چھپےہیں۔ ”ہمیں اسلام کی مخالفت کرتےہوئےاس امر کی کوئی پروا نہیں اگر ہمارےخلاف ناپسندیدہ لیبل بھی چسپاں کر دیئےجائیں کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کیلئےہمیں تحمل او ربرداشت سےکام نہیں لینا۔“
مزیدبرآں بیشتر ملکوں نےدہشت گردی کےخلاف قانون سازی کرتےہوئےافراد کی شہری
آزادیوں پر سخت ناروا پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ یہ قانون سازی اس طرح کی گئی ہےکہ
ان کا خاص نشانہ وہاں کی مسلمان آبادی کو بنایاگیا ہی۔ اس سےان میں یہ شدید احساس
پایا جاتا ہےکہ ذرائع ابلاغ میں ایک بہت بڑی اقلیت سےمسلسل بلا روک ٹوک زیادتیاں کی
جاتی ہیں اور اس کی ایسی منفی تصویرکشی کی جاتی ہےجس کا حقیقت سےکوئی تعلق نہیں پھر
ان کی شہری آزادیوں کو پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کی روزمرہ زندگی کو اجیرن
بنا دیا گیاہی۔ یہ سب کچھ تقریر کی آزادی اور قومی مفاد کےنام پر روا رکھا جاتا ہی۔
یہ امر موجب حیرت ہےکہ مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کو آزادی تحریر وتقریر کےنام پر
تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہی۔ یہ جانتےہوئےکہ ان کی طرف سےاس کا شدید ردعمل ہو گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا مقصد مسلمانوں کی دل
آزاری‘ ان کےجذبات کو مجروح کرنا اور ان کےمذہب اور ثقافت کو تضحیک کا نشانہ بنانا
ہی۔ آزادی تحریر وتقریر کےبارےمیں اس سوچ کو جگہ دینا کہ اس آزادی کی کوئی حدود
وقیود نہیں ایک غلط مفروضہ ہی۔ کوئی قول اور فعل جو کسی طبقہ کی اخلاقی اور مذہبی
اقدا رکو ٹھیس پہنچاتا ہےاور جس سےاس کی سلامتی‘ بقا اور تقدیس پر ضرب لگانےسےامن
کیلئےسنگین خطرہ پید اہو جاتا ہی۔ اسےآزادی تحریر وتقریر کا حق نہیں گردانا جا
سکتا۔ اسلام تحمل ورواداری‘ بقائےباہمی اور جیو اور جینےدو کےاصول کی تعلیم دیتا
ہی۔ یہ دوسرےمذاہب کےمعبودوں‘ مذہبی علامتوں کو برا کہنےکی حوصلہ شکنی کرتا ہےاور
انسانیت کےاحترام کا سبق دیتا ہے(الانعام8,6 10) اسلامی قانون نےبلاامتیاز دیگر
مذاہب کی سلامتی‘ وقار واحترام اور ان کےعقائد کےاحترام پر بہت زور دیا ہےاگربین
الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بقائےباہمی اور تحمل وبرداشت کےاصولوں کو بالائےطاق رکھ
دیا جائی‘ اخلاقی اور مذہبی اقدار کی توہین وتضحیک کی جائےتواس صورت میں موجودہ
کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا اور تنائو کی فضا اور بھی سنگین ہو جائےگی۔ یورپ
اپنےآپ کو ایک تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ سمجھتا ہےلیکن یہ بات ماورائےفہم ہےکہ
اس کا ردعمل اپنی ایک بڑی اقلیت کےمذہب کےبنیادی حق کی خلاف ورزی کےبارےمیں اس قدر
بےحسی اور بےعملی کا مظہر وعکاس ہو گا۔
|