|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
شاتم رسول کی سزا اور اس کی معافی
ایک اور شاتم رسول یہودی ابورافع کو اس
بدگوئی کو سزا دینےکیلئےرسول اکرمنےعبداللہ بن عتیق کی سرکردگی میں ایک گروپ بھیجا۔
یہ ملعون ایک محفوظ قلعہ میں رہتا تھا، مگر عبداللہ بن عتیق اپنی جان کو خطرہ میں
ڈال کر اس کےسر پر جا پہنچےاور اسےواصل جہنم کیا۔ جلدی میں واپسی کیلئےمڑےتو ایک
سیڑھی سےگر کر ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اسےاپنےعمامہ سےباندھا اور قلعہ کےدروازےسےباہر
نکل آئےمگر انتہائی تکلیف کےباوجود وہیں بیٹھ کر اپنےمشن کی تکمیل کی خوشخبری
ملنےکا انتظار کرتےرہےجب ابورافع کی موت کا اعلان سنا تو اطمینان ہوا اور واپس خدمت
اقدس میں حاضر ہوئی، آپ نےساری بات سن کر ٹوٹی ہوئی ٹانگ پردست شفقت پھیرا تو وہ اس
طرح درست ہو گئی جیسےکبھی ٹوٹی نہ تھی۔ (بخاری)
ابوعفک اور کعب بن اشرف دو اور بدبخت یہودی تھی، جو مسلسل نبی کریم کی شان میں
گستاخی کرتی۔ ابوعفک کو سالم بن عمیر نےقتل کیا اور کعب بن اشرف کو آپ کی اجازت اور
حکم سےمحمد بن مسلمہ نی۔ (بخاری ومسلم) جب یہودیوں نےکعب کےقتل کی شکایت کی توآپ
نےفرمایا، اس نےجو تکلیف دہ گستاخیاں کی تھیں، اگر تم میں سےکوئی اور کرےگا تو اس
کی بھی یہی سزا ہو گی۔
عہد نبوی میں شاتمان رسول کےبھیانک انجام کی ان متعدد مثالوں کےپیش نظر ہر دور
کےمسلمان علماءکا فتویٰ یہی رہا ہےکہ نبی اکرمکی شان میں گستاخی کرنےوالےکی سزا قتل
ہی۔ موجودہ حالات میں بھی عالم اسلام کےعالمی وروحانی مرکز سعودی عرب کےمفتی اعظم
کےعلاوہ متعدد مسلمان ملکوں کےعالی مرتبت علماءنےبھی شاتم رسول کےقتل کا فتویٰ دیا
ہےحالانکہ صحیح یہ ہےکہ شاتم رسول جب معاشرےمیں اپنی گندگی پھیلا چکےتو قتل کےسوا
اس کا کوئی علاج نہیں ہی۔ سچی توبہ کرنےسےوہ آخرت کی سزا سےبچ سکتا ہی، مگر دنیا
میں بہرحال اسےاپنی جان سےہاتھ دھونا ہی پڑیں گی۔
بعض لوگوں کیلئےشاید یہ امر باعث حیرت ہو کہ اسلام نےبڑےسےبڑےگناہ گار
کیلئےتوبہ کا دروازہ بند نہیں کیا پھر شاتم رسول توبہ کےباوجود کم از کم دنیاوی سزا
سےکیوں نہیں بچ سکتا؟ امام ابن تیمیہ نےاس موضوع پر اپنی مبسوط کتاب ”الصارم
المسئول علی شاتم رسول” میں خوب روشنی ڈالی ہی۔ وہ فرماتےہیں کہ اہلحدیث امام احمد
اور امام مالک کےنزدیک شاتم رسول کی توبہ اسےقتل کی سزا سےنہیں بچا سکتی جبکہ امام
شافعی سےاس سلسلہ میں توبہ کےقبول وعدم قبول کےدونوں قول منقول ہیں البتہ امام
ابوجعفر کےنزدیک اگر وہ سزا سےپہلےتوبہ کرلےتو سزا سےبچ سکتا ہی۔ خود امام ابن
تیمیہ اکثر محدثین وفقہاءکی طرح اس بات کےقائل ہیں کہ شاتم رسول توبہ کےباوجود قتل
کی سزا کا مستحق ہی۔ انہوں نےاس سلسلہ میں اپنی کتاب کےمختلف مقامات پر جو زوردار
دلائل دیئےہیں ان کا خلاصہ اور وضاحت حسب ذیل ہی:
-1 شاتم رسول فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہےاور اس کی توبہ سےاس بگاڑ اور فسادکی
تلافی اور ازالہ نہیں ہوتا جو اس نےلوگوں کےدلوں میں پیدا کیا ہی۔
-2 اگر توبہ کی وجہ سےسزا نہ دی جائےتو اسےاور دوسرےبدبختوں کو جرات ہو گی کہ وہ جب
چاہیں توہین رسول کا ارتکاب کریں اور جب چاہیں توبہ کر کےاس کی سزا سےبچ جائیں۔ اس
طرح غیروں کو موقع ملےگا کہ وہ مسلمانوں کی عزت ایمان کو بازیچہ اطفال بنا لیں۔
-3 نبی کریمکی گستاخی کےجرم کا تعلق حقوق اللہ سےبھی ہےاور حقوق العباد سےبھی حقوق
اللہ تو اللہ چاہےتو خود معاف کر دیتا ہی، مگر حقوق العباد میں زیادتی اس وقت تک
معاف نہیں ہوتی جب تک متعلقہ مظلوم اسےمعاف نہ کردی، نبی اکرماپنی حیات مبارکہ میں
اگر کسی کا یہ جرم معاف کرنا چاہتےتو کر سکتےتھی، مگر اب اس کی کوئی صورت نہیں، امت
مسلمہ یا مسلمان حکام آپ کی طرف سےاس جرم کو معاف کرنےکا حق نہیں رکھتی۔
-4 قتل، زنا، سرقہ جیسےجرائم کےبارےمیں بھی اصول یہی ہےکہ ان کا مجرم سچی توبہ
کرنےسےآخرت کی سزا سےبچ سکتا ہی، مگر دنیاوی سزا سےنہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ قاتل،
زانی یا چور گرفتار ہو جائےاور کہےکہ میں نےجرم تو کیا تھا، مگر اب توبہ کر لی ہےتو
اسےچھوڑ دیاجائی، اسی طرح شاتم رسول بھی ارتکاب جرم کےبعد توبہ کا اظہار کرےتو
دنیاوی سزا سےنہیں بچ سکتا اور اس کا جرم مذکورہ جرائم سےبدتر اور زیادہ سنگین ہی۔
|