|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
ڈنمارک کا بائیکاٹ ......
جس کی پاداش میں ملزم کو جرمانہ بھی
کیا جا سکتا ہےاور اسے4ماہ قید کی سزا بھی سنائی جاتی ہی۔یورپ میں محولہ بالا قانون
سازی کی وجہ یہ ہر گز نہیں کہ مسلمانوں یا اسلام کو تنقید و توہین سےبچایا جائی، نہ
ہی یہ کہ یورپ میں اخلاقیات کی بہت زیادہ خیال کیا جاتا ہی۔ دراصل یہود مخالف
سرگرمیوں سےیورپ کی تاریخ اٹی پڑی ہی۔ دراصل ایک زمانہ تھا کہ وہاں یہودیوں کو
انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ جو قوانین یہودیوں کےحق میں یا انہیں بےجا مخالفت
سےبچانےکےلئےوضع کئےگئی، میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ آج کل صورت حال یہ ہےکہ
یہودیوں کے”ہو لو کاسٹ“سےانکار یا اس پر شبہ کرنےوالےکسی بھی شخص کےلئےجیل یا
ترالازمی ہوجاتی ہی۔ اسی جرم کی پاداش میں برطانیہ کا ایک بےچارہ مورخ آج کل آسٹریا
کی ایک جیل میں بند ہی، بہت خوب ۔ تو پھر ڈنمارک کےوزیر اعظم اینڈرز فوگ راس مسن
بےبسی کا اظہار کیوں کر رہےہیں، انہوں نےکسی کو خود تو جیل نہیں بھیجا، نہ ہی وہ
ایسا کر سکتےہیں، لیکن وہ یہ معاملہ بآسانی اپنےملک کی عدلیہ کےسپرد کر سکتےتھےاور
عدلیہ کوئی نہ کوئی فیصلہ سنا دیتی۔ زیر بحث خاکوں کی اشاعت کو کئی ماہ گزر چکےہیں۔
مسلمانوں کو اپنی توہین ہضم کرنےاور پرُ سکون ہونےکےلئےیہ عرصہ کافی تھا۔ خاکےپہلی
مرتبہ30ستمبر کو شائع ہوئی۔ اکتوبر، نومبر ،دسمبر اور تقریباً جنوری تک کوئی عوامی
ردعمل سامنےنہیں آیا، تاہم سرکاری سطح پر رد عمل کا اظہار ضرور کیا گیا ۔ سعودی عرب
اور لیبیا کی حکومتوں نےڈنمارک سےاپنےسفیر واپس بلوا لئی۔ ڈنمارک کےوزیراعظم جو آج
کل پر امن مذاکرات کی ضرورت پر حد درجہ زور دےرہےہیں، اس وقت تو انہوں نےپریس
کانفرنس تک طلب نہ کی۔ 11اسلامی ملکوں کےسفیر ان سےبات کرنا چاہتےتھی، جسےانہوں
نےاپنی تحقیر پر محمول کیا۔ مسلمانوں کی ناراضگی کی ایک وجہ تو یہ ہےکہ ان کےساتھ
خواہ مخواہ متعصبانہ رویہ روارکھا جاتا ہی۔ ہم برطانیہ کےروزنامہ ”گارڈین“کےشکر
گزار ہیں، جس نےایک سٹوری شائع کی اور ہمیں پتہ چل گیا کہ ڈنمارک کےجس اخبار
نےپیغمبر اسلام کےتوہین آمیز خاکےشائع کئی، اس نےتقریباً 3سال قبل متوقع اور شدید
عوامی ردعمل کےپیش نظر حضرت عیسیٰ کےتضحیک آمیز کارٹون شائع کرنےسےمعذرت کر لی تھی،
کیونکہ وہ کارٹون خاصےجارحانہ نوعیت کےتھی۔ وہ ایک درست فیصلہ تھا۔ جرمنی کےایک
جریدی”ڈائی ویلٹ“(Die Welt)کےایڈیٹر کا ایک بیان ریکارڈ پر موجود ہےکہ”اس طرح
کےخاکوں کی اشاعت ہماری ثقافت کا حصہ ہی“۔ لیکن اسےایک ایسا کارٹون شائع کرنےکی ہمت
نہ ہوئی ، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم کو فلسطینیوں کےبچےکھاتےدکھایا گیا تھا،
حالانکہ وہ کارٹون برطانوی اخبار”انڈی پینڈنٹ“ میں جنوری2003ءمیں شائع ہو چکا تھا۔
ایک صحافی ہونےکےناطےمیں بھی اس قسم کا کوئی خاکہ شائع کرنےسےانکار کردوں گا، لیکن
یوں محسوس ہوتا ہےکہ جیسےیورپ کےایڈیٹر صاحبان کو اچانک کوئی دورہ پڑ گیا ہےاور وہ
اسلام اور پیغمبر اسلام کےخلاف کارٹونوں کی اشاعت پر تنقید کو برداشت ہی نہیں کر پا
رہی۔ حضرت یسوع مسیح، حتیٰ کہ اسرائیلی وزیر اعظم کےخاکےتو شائع نہ کئےجاسکی۔ پریس
کی آزادی کو اس شر انگیز فعل کا جواز تو نہ بنایا جا سکا، پھر اب ایسا کیوں ہورہا
ہی؟یہ سب دھوکےبازی ہےاور کچھ بھی نہیں ۔ ڈنمارک کےاخبار ”جلینڈزپوسٹ“(Jyllands
Posten)جس نےمتنازعہ خاکےشائع کئی، اس کےمدیر ثقافت فلیمنگ روز کا ایک بیان 9فروری
کے”انٹر نیشنل ہیرالڈ ٹریبون“میں شائع ہوا، جس میں اس نےکہا کہ اس کا اخبار”ہولو
کاسٹ“ کےتضحیکی خاکےشائع کرنےکےلئےبھی تیار ہی۔ ایران کا ایک غیر ذمہ داراخبار بھی
ان خاکوں کی اشاعت پر مصر ہی، لیکن دو غلطیوں کو باہم ملا دینےسےایک درست فعل کا
معرض وجود میں آنا ممکن نہیں۔ اس کےفوراً بعد ڈنمارک کےاخبار نےایک وضاحت شائع کردی
کہ وہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، یعنی اس نے”ہولوکاسٹ“ کےخاکےچھاپنےسےانکار
کردیا۔ گزشتہ ہفتےجن دنوں یہ طوفان متشکل ہو رہا تھا، میں برطانیہ میں تھا۔میرےخیال
میں برطانوی اخبارات دیگر یورپی ممالک کےاخبارات کےمقابلےمیں آزادی اظہار کی کم
خواہش نہیں رکھتے، لیکن بہت زیادہ دبائو کےباوجود انہوںنےوہ کارٹون شائع
کرنےسےانکار کر دیا۔ بی بی سی نےاپنےروایتی فریب سےکام لیتےہوئےان خاکوں کی ایک
جھلک دکھا دی اور پھر وہ سکرین سےغائب ہوگئی۔ اس طرح اس نےدونوں فریقین کو خوش کر
لیا، یعنی خاکےکی اشاعت کا مطالبہ کرنےوالےبھی معترض نہ ہوئےاور مخالفت کرنےوالوں
نےبھی اس جھلک پر اعتراض نہ کیا، تاہم بی بی سی کا وہ انداز کسی کو پسند نہ آیا، نہ
ہی اس سےکوئی متاثر ہوا، حالانکہ آبزرور کا تعلق بائیں بازو سےہےاور سنڈےٹیلی گراف
دائیں بازو والوں کا حامی ہی۔
|