|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
پنجہ یہود اور یورپ
1945ءمیں رہا ہونےوالےان قیدیوں میں
سےدو نےاپنی رام کہانی سنائی مزید دو نےاپنےقیدی نمبر بھی دکھائےان میں سےایک کا
نمبر 4423اور دوسرےکا 000 44یعنی چوالیس ہزار کچھ تھا جس کیمپ میں مبینہ طور پر
12لاکھ لوگ قتل ہوئےوہاں سےآخر میں آزاد ہونےوالےکا زیادہ سےزیادہ قیدی نمبر45 ہزار
سےکم تھا حالانکہ یہ نمبر 6بلکہ 7ہندسوں میں ہونا چاہیےتھا یوں اگر یہ فرض بھی کر
لیا جائےکہ 27 جنوری 1945ءتک اس کیمپ کےتمام قیدیوں کو قتل کر دیا گیا تھا تو بھی
باقی ساڑھےگیارہ لاکھ سےزیادہ قیدی کدھر گئی۔ یہ تو ایسٹ انڈیا کمپنی والے لارڈ
کلائیو کےبلیک ہول والی کہانی ہی۔ یقینی طور پر سکرپٹ تیار کرنےاور پروگرام پیش
کرنےمیں بہت ہی غلطیاں ہوگئی ہیں ۔عام طور پر ایشوچ میں ہلاک ہونےوالوں کی تعداد
بارہ لاکھ بتائی جاتی ہےلیکن اس تقریب میں یہ تعداد پندرہ لاکھ کر دی گئی جن میں
سےدس لاکھ یہودی تھی۔ یہ تقریب صرف یہودیوں کی یاد میں منعقد ہوئی تھی باقی پانچ
لاکھ کا ذکر نہیں ہوا کیونکہ وہ یہودی نہیں تھی۔ اس تقریب میں برطانیہ سےآنےوالےایک
صاحب نےیہ بھی بتایا کہ برطانیہ کےنصاب تعلیم میں 27 جنوری ‘ ہولو کاسٹ اور ایشو چ
کےبارےمیں اسباق شامل کیےجائیںگی۔ اس صاحب علم نےیہ بھی بتایا کہ یہ اسباق شامل
کرنےکا مقصد کسی کےخلاف نفرت پھیلانا نہیں بلکہ یورپ کو یہ احساس دلانا ہےکہ ان
سےغلطی تو ہوئی ہےلیکن اس کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اتفاق سےآسٹریا میں قید
ہونےوالےڈلوڈارونگ کا تعلق بھی برطانیہ سےہی ہےجس روز یعنی 27جنوری کی تقریب ایشوچ
میں ہو رہی تھی اسی شام ملکہ برطانیہ نےایشوچ میں زندہ بچ جانےوالوں کےاعزاز میں
عشائیہ ترتیب دیا یہ عشائیہ شاید اس لیےبھی ضروری تھا کہ 1917ءسےاب تک جنہیں یا کسی
اور وجہ سےبرطانیہ پر ہر برےوقت اور مشکل میں دنیا کےامیر ترین یہودی خاندان راتھ
شیلڈزRothhields سےہی سہارا ملتا رہا۔ اس تقریب کےدوران وقتا فوقتاً برلن میں دو
بلین ڈالر کےخرچ سےزیر تعمیر ہولوکاسٹ کی یادگار بھی دکھائی گئی اس کےمتعلق یہودیوں
کا خیال ہےکہ اس سےان کی مظلومیت اجاگر ہوگی‘جس وقت ملکہ الزبتھ دوم یہودیوں
کےاعزاز میں عشائیہ دےرہی تھیں ۔ عین اسی وقت سویڈن کےصدر مقام سٹاک نام میں کسی
ستم ظریف نےیہودیوں کےقبرستان میں موم بتیوں سےنازیوں کا نشان سواستیکا بنا دیا۔
اگلےروز یعنی 28جنوری کو بی بی سی اور سی این این کےمبصروں نےاس پر تبصرہ
کرتےہوئےکہا کہ یہ ایک مذہبی گروپ کےخلاف مظاہرہ ہےاور جرم ہی۔ اس سےنفرت ختم نہیں
ہوسکتی۔ یورپ کی گردن پر پنجہ یہود اس قدر سخت ہےکہ وہ اپنےعیسائی بھائیوں کی موت
کا ماتم کریں نہ کریں یہودیوں کی ہر کہانی تسلیم کرنا اور اس پر معذرت کرنا ان پر
لازم ہی۔ ستمبر 2005ءمیں ڈنمارک کےایک اخبار Jyllands Postenپلندس پوسٹ میں رسول
اکرم کےمتعلق 12توہین آمیز کارٹون شائع ہوئی۔ یہی دلآزار کارٹون دوبارہ ناروےکےایک
رسالےمیں بھی شائع ہوئی۔ چونکہ یہ اخبار پاکستان میں نہیں آتے‘ اس لیےاحتجاج کی لہر
عرب ملکوں اور یورپ کےاندر مسلمان تنظیموں کی طرف سےاٹھی۔ ہم نےیہ کارٹون نہیں
دیکھےلیکن اگر ان کےخلاف احتجاج مصر اور سعودی عرب جیسےٹھنڈےدماغ والوں سےشروع ہوا
ہےاور اگر اسلامی کانفرنس جیسا ادارہ باضابطہ طور پر احتجاج کرنےپر مجبور ہوا ہےتو
یقینا معاملہ بہت سنگین ہی۔ مصر‘ خلیجی ممالک ‘فلسطین اور سعودی عرب کی مارکیٹوں
میں ڈنمارک اور ناروےکی مصنوعات کا بائیکاٹ ہوگیا ہےہےاور سعودی عرب کےسخت سرکاری
موقف کےجواب میں یورپین کمیشن نےدھمکی دی ہےکہ ڈنمارک کی مصنوعات کےبائیکاٹ کےخلاف
یورپی پولین میں سخت ردعمل ہوگا اور ڈبلیو ٹی اوقوانین کےتحت سعودی عرب کےخلاف
کارروائی ہو سکتی ہی۔ ڈنمارک کی حکومت نےان کارٹونوں پر معذرت کی بجائےیہ موقف
اختیار کیا ہےکہ ہم آزادی¿ رائےپر پابندی نہیں لگا سکتی۔ڈنمارک وہی ملک ہےجس
نےاسرائیل کےنامزد سفیر کو قبول کرنےسےاس لیےانکار کر دیا تھا کہ وہ قاتل اور دہشت
گرد ہےلیکن بعد میں اس سفیر کو نہ صرف قبول کرنےپر مجبور ہوا بلکہ اس وقت کو پن
ہیگن میں اسرائیل سفارت خانہ ہولو کاسٹ "Holoast"پر مواد جمع کرنےوالا دوسرا بڑا
مرکز ہی۔ حال ہی میں ”انتقال فرمانےوالی“ ویزن تھال(WIESENTHAL)جن کےنام پر
بننےوالےویزن تھال سنٹر جس کا مشن ہولو کاسٹ پر تحقیق کرنا ہے‘ جرمنی میں واقع ہی‘
جسے”فلاحی“ تنظیموں سےلاکھوں ڈالر چندہ ملتا ہی۔ امریکہ میں کسی یونیورسٹی
کےپروفیسر کو نوکری سےنکلوانےکےلیےیہ الزام لگانا ہی کافی ہےکہ وہ Anti Semite ہی۔
اسرائیل کےآئین کےتحت دنیا کا ہر یہودی جوکسی بھی ملک میں رہتا ہے
|