|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
یورپ کی ذہنی خباثت اور
اُمت مسلمہ کی ذمہ داری
صدر جنرل پرویز مشرف ان گستاخانہ خاکوں
کی اشاعت کی مذمت کر چکےہیں جبکہ وزیراعظم شوکت عزیز نےانہیں تہذیبوں کےمابین جنگ
کےخطرےسےتعبیر کیا ہےلیکن بات اب بیانات سےآگےنکل چکی ہےکوئی مانےیا نہ مانےتہذیبوں
کی کشمکش کا آغاز ہو گیا ہےاور اس کا ذمہ دار یورپ ہےجس کا ثبوت گستاخانہ خاکوں کی
اشاعت ہی۔ یورپ اسےآزادی کا اظہار کا مسئلہ بنا کر پیش کر چکا ہےجبکہ مسلمانوں
اجتماعی ردعمل ظاہر کرنےاور ٹھوس اقدامات میں کامیاب نہیں ہو سکی‘ مشکل یہ ہےکہ
مسلمان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اسی طرح عزت کرتےہیں جس طرح دوسرےپیغمبران کرام
کی۔ وہ بدلہ نہیں لےسکتےلیکن مسلم ممالک کی حکومتیں اس مرحلہ پر بھی سیاسی مصلحتوں
کا شکار ہیں اور انہوں نےیورپ کو واضح طور پر اس طرح کی حرکتوں کےسیاسی‘ سفارتی اور
اقتصادی مضمرات سےآگاہ نہ کیا تو ان کےحوصلےبڑھتےرہیں گےاور جس طرح سلمان رشدی
کےبعد کئی اور سلمان رشدی پیدا ہو گئےہیں اس طرح کےدلآزار گستاخانہ خاکوں اور
مضامین کی اشاعت معمول بن جائےگی۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ او آئی سی کا غیرمعمولی
اجلاس بلا کر مضبوط وموثر لائحہ عمل تیار کیا جائی۔ ڈنمارک کےوزیراعظم اوآئی سی
کےدفتر جا کر وضاحت کرنےکا جو ارادہ رکھتےہیں وہ شلجموں سےمٹی جھاڑنےکےمترادف ہےجب
تک وہ کھل کر یہ نہیں کہتےکہ متعلقہ اخبار اور کارٹونسٹ نےمجرمانہ حرکت کی اور
آئندہ کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ جن دوسرےاخبارات نےیہ حرکت کی اور جن
ممالک اور اداروں نےاسےآزادی اظہار کا مسئلہ بنا کر دفاع کیا وہ بھی مسلمانوں
کےمعافی کےخواستگار نہیں ہوتی۔ اس وقت تک انفرادی معذرت قبول کرنےکا سوال ہی پیدا
نہیں ہوتا۔ دنیابھر میں اسلام کےنام پر وجود میں آنےوالےاداروں اور تنظیموں کو بھی
متفقہ حکمت عملی وضع کر کےکروسیڈ کی اس نئی شکل کا موثر جواب دینا چاہیےتاکہ آئندہ
کسی کو جرات نہ ہو‘ پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیی۔
|