|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
مسلمانوں کو ناقابل تسخیر بننا ہوگا
اس انگریز صحافی کی بات کےجواب تو یہی کہا جاسکتا ہےکہ اگر انہوں نےمذہب کواپنی زندگی سےالگ کرکےخود کو اس دنیا کی رنگینوں میں غارت کر لیا ہےتو مسلمانوں کو نہ صرف خوف خدا ہےبلکہ یہ بات ان کےایمان کا حصہ ہےکہ انہیں ایک نہ ایک دن اپنےخالق کےرو برو پیش ہونا ہےجہاں ہر اچھےعمل کی جزا اور برےعمل کی سزا ملےگی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا انگریز اپنی تمام تر ترقی کےباوجود موت کےفرشتےکو روح قبض کرنےسےروک سکتےہیں جس طرح وہ موت کےفرشتےکو نہیں روک سکتےاسی طرح اپنی ذہنی گراوٹ ‘ اخلاقی اور معاشرتی زوال کو نہیں روک سکتےبلکہ وہ ایسےتوہین
آمیز کارٹونوں کو شائع کرکےخود پر دوزخ کو لازم قرار دےرہےہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کارٹونوں کی اشاعت کےحوالےسےاہانت
آمیز یہ کام غیر دانستہ یا بھول چک سےنہیں ہوا بلکہ ڈنمارک کےایک اخبار یا سند پوستن میں گزشتہ برس 30 ستمبر کو کارٹون شائع کیےگئےتھی۔ جس پر مقامی مسلمان تنظیموں نےاحتجاج کی کوشش کی جسےڈنمارک کی حکومت نےسختی سےیہ کہتےہوئےمسترد کر دیا کہ
آزادی اظہار کو روکا نہیں جاسکتا حالانکہ وہ
آزادی جوکسی دوسرےکےلیےدلآزاری کا باعث بنےہر گز نہ تو تسلیم کی جاسکتی ہےاور نہ ہی اسےکسی بھی معاشرےمیں برداشت کیا جاسکتا ہی۔ انسانی حقوق کےعلمبرداران یورپی ممالک نےیہ کام صرف اور صرف مسلمانوں کےتحمل اور برداشت کو جانچنےکےلیےکیا ہےکہ ان کی اس حرکت سےمسلمانوں کا ردعمل کیا ہوتا ہی۔
میری ذاتی رائےمیں دنیا کےترقی یافتہ اور طاقت ور ممالک ایسی حرکت ہرگز نہ کرتےاگر انہیں مسلمانوں کی جانب سےامریکہ اور اتحادی ممالک کےطرح جوابی حملوں کا خوف ہوتا انہیں اس بات کا مکمل احساس ہےکہ مسلم حکمران تو اپنےاقتدار کو قائم و دائم رکھنےکےلیےپہلےہی ان کےزرخرید غلام بنےہوئےہیں۔ رہی بات مسلم عوام کی ‘ تو وہ چند دنوں بعد جلسےجلوس نکال کر خاموش ہوجائیں گےکیونکہ ان کی اپنی حکومتوں نےانہیں اندرونی طور پر بےپناہ مسائل‘ بےحیائی‘ بےراہ روی کےایسےگرداب میں پھانس رکھا ہےکہ اگر کوئی اس گرداب سےبغاوت کرتےہوئےنکلنا بھی چاہےتو مقامی حکومت اس پر دہشت گردوں کےساتھ تعاون کا الزام عائد کرکےگرفتار کر لیتی ہےپھر اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔مقامی حکومت خود اسےجیل کی کال کوٹھڑی میں ڈال دےیا کیوبا کےامریکی اڈےمیں اذیتیں برداشت کرنےکےلیےبھجوا دیا جائی۔
سوچنےکی بات تو یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کو ہر قسم کی دولت اور قوت سےنواز رکھا ہی۔ تیل کی صورت میں مسلمانوں کےپاس سب سےبڑا ہتھیار ہےجو انہوں نے1973ء عرب اسرائیل جنگ میں استعمال بھی کیا تھا جس کےنتیجےمیں امریکہ سمیت پورا یورپ اندھیرےمیں ڈوب چکا تھا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ وہاں لوڈشیڈنگ ہوئی جس پر یورپی ممالک تلملا اٹھی۔
چنانچہ ان ممالک نےاجتماعی طور پر فیصلہ کیا تھا کہ یا تو تیل کےتمام ذخائر بھی جبراً قبضہ کر لیا جائےیا پھر مسلمانوں کواس قدر معاشی عسکری اور سیاسی اعتبار سےاپنا غلام بنالیا جائےکہ
آئندہ انہیں تیل کا ہتھیار استعمال کرنےکی جرات نہ ہو پھر دنیا نےدیکھا کہ انہی طاقتور ملکوں نےسازش کےتحت سگےبھتیجےکےہاتھوں تیل کا ہتھیار استعمال کرنےوالےعظیم مسلم رہنما شاہ فیصل کو شہید کروا کےدوسرےمسلم حکمرانوں کو بھی پیغام دےدیا کہ اگر کسی اور نےاس قسم کی جسارت یا جرات کی تو اس کا انجام بھی مختلف نہیںہوگا‘
آپ کو یاد ہوگا کہ پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نےبھی تیسری دنیا کےعظیم لیڈر بننےکی کوشش کی تھی اور وہ اپنےاقتدار کےآخری ایام میں ایک بڑےجلسہ عام میں یہ کہتےہوئےبھی سنےگئےتھےکہ وائٹ ایلیفنٹ یعنی سفید ہاتھی انہیں مار دےگا‘ بھرےجلسےمیں یہ کہنےکےباوجود بھٹو کو پھانسی کےتختےپر لٹکنےسےکوئی نہ بچا سکا جس کرسی کو کچھ عرصہ پہلےانہوں نےانتہائی مضبوط قرار دیا تھا وہی کرسی ان کےلیےپھانسی کا پھندا بن گئی۔
بہرکیف اس اہانت آمیز جسارت پر دنیا بھر کےمسلمان تواحتجاج کرتےنظر آ رہےہیں
لیکن کسی بھی مسلم حکمران نےذاتی طور پر احتجاج کی ضرورت کو محسوس اس لیےنہیں کیا
کہ اس سےامریکہ یعنی ان کاآقا ناراض نہ ہوجائےکیونکہ مسلم حکمرانوں کےنزدیک امریکہ
جس سےناراض ہوجاتا ہےاقتدار سمیت اسےجان سےہاتھ دھونا پڑتا ہی۔ ان حالات میں
آئیےدیکھتےہیں کہ مسلمان کس طرح ان طاقتور اور ترقی یافتہ عیسائی اور یہودی ممالک
کا مقابلہ کر سکتےہیں۔
|