توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
خاکوں کےخلاف مسلم اُمہ کےاجتماعی اقدامات
پائنا کےزیر اہتمام رائونڈ ٹیبل کانفرنس
خاکوں کا مکمل پس منظر اور ڈینش مسلمانوں کی داستان عزیمت اسلامی دنیا میں اٹھنےوالےطوفان کےپس منظر میں تجزیوں اور مشترکہ حکمت عملی پر مشتمل رپورٹ
تریب: الطاف حسن قریشی‘ محمد اقبال قریشی
خوش قسمتی سےہمارےدرمیان چند ایسےاصحاب فکرونظر بھی موجود ہیں جنہوں نےاپنی زندگی کا قابل ذکر عرصہ مغرب میں گزارا ہےاور
آج بھی وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سےوابستہ ہیں۔ ڈاکٹر وسیم صدیقی ہوائی یونیورسٹی کےپروفیسر ہیں اور تیس برسوں سےامریکہ میں اقامت پذیر ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر عارفین خاں لودھی ایک سائنس دان ہیں اور ٹیکساس یونیورسٹی میں اعزازی پروفیسر ہیں۔ ان کی گفتگو سےہمیں ایک حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنانےمیں یقینا مدد ملےگی۔ جناب اسماعیل قریشی‘ جنہوں نےتوہین رسالت کےحوالےسےنہایت مستند کام کیا ہےاور ایک انسائیکلو پیڈیا ترتیب دیا ہی‘ وہ ہماری یہ رہنمائی فرمائیں گےکہ مختلف ممالک میں توہینِ رسالت کےحوالےسےکیا کیا قوانین موجود ہیں اور انہیں کس طرح بروئےکار لایا جاسکتا ہی۔
محترمی مواحد حسین شاہ‘ جو اِن دنوں وزیراعلیٰ پنجاب کےمشیر ہیں‘ انہوں نےامریکہ میں قانون کی پریکٹس کی ہےاور امریکی تہذیب ومعاشرت اور نفسیات کا گہرا مطالعہ کیا ہی۔ اُنکےتجزیےسےہم امریکی سرشت کو صحیح پس منظر میں سمجھ سکیں گی۔ میڈیا سےتعلق رکھنےوالےجید اہلِ علم جناب مجیب الرحمن شامی‘ پروفیسر ڈاکٹر مجاہد منصوری اور پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری کےقیمتی مشوروں سےہم سب مستفید ہوں گی۔ اسی طرح پنجاب یونیورسٹی کےڈین پروفیسر ڈاکٹر اکرم چودھری اور شعبہ عربی کےچیئر مین ڈاکٹر مظہر معین امتِ مسلمہ میں اتحاد اور یگانگت پیدا کرنےکی تجاویز دیں گےاور علمی سطح پر مغرب میں اٹھائےجانےوالےفتنوں کا مسکت جواب دینےکےراستےسمجھائیں گی۔ ہم نےپاکستان کےمایہ ناز استاد اور مفکر جناب پروفیسر مرزا منور (مرحوم) کےبیدار مغز نواسےعزیزی متین صلاح الدین سےخاکوں کےبارےمیں پریزیٹیشن دینےکی استدعا کی ہےجس میں واقعات کی پوری زنجیر سامنےآجائےگی۔
اس رائونڈ ٹیبل میں ہمیں بنیادی اہمیت کےچند نکات پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیی۔ پہلی بات یہ کہ عالم اسلام نےخاکوں کا نوٹس قدرےتاخیر سےکیوں لیا اور ہماری حکومت عوامی جذبات کی ترجمانی اور سفارتی اقدامات میں سب سےپیچھےکیوں رہ گئی ہےجس کےباعث عوام کےاندر اشتعال پیدا ہوا۔ دوسرا غور طلب پہلو یہ ہےکہ تحفظ ناموس رسالت کےسلسلےمیں امتِ مسلمہ کوفوری طور پر کیا کیا اجتماعی اقدامات کرنےچاہئیں۔ اس ضمن میں اہم نکتہ یہ ہےکہ
آیا مسلمانوں کےلیےمحاذِ جنگ پورےیورپ اور امریکہ کےخلاف کھول دینا مناسب ہوگا یا ان کےلیےاپنا تمام تر دبائو ڈنمارک پر مرکوز رکھنا زیادہ موثر اور سود مند رہےگا جہاں سےشرارت کا
آغاز ہوا اور جس کےوزیراعظم نےتمام تر سفارتی
آداب کےخلاف اسلامی ملکوں کےسفیروں کےساتھ ملاقات سےانکار کردیا تھا اور وہاں کی ملکہ نےاسلام کےخلاف کتاب لکھی ہی۔ ہمیں یہ بھی جائزہ لینا ہوگا کہ ناموسِ رسالت کےتحفظ کی خاطر قانون کی عالمی برادری سےرجوع کرنا اور عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانا‘ عالمی ضمیر کی بیداری اور مقصد کےحصول میں کس قدر مفید ثابت ہوسکےگا۔
پاکستان کےداخلی حالات اس امر کا تقاضا کرتےہیں کہ آج کی انتہائی کشیدہ فضا میں
ہمیں اس نکتےکو بھی زیر بحث لانا چاہیےکہ ملک میں کیونکر ایک ایسی فضا پیدا کی
جائےجس میں امن وامان قائم رہی‘ قومی مفاہمت فروغ پاسکےاور اصل ہدف تک یقینی طور پر
پہنچا جاسکی۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آزادی اظہار کی بحث میں مسلم میڈیا کا
مو¿ثر کردار کیا ہوسکتا ہےاور اس کےذریعےہم اسلام کا امن‘ سلامتی اور باہمی احترم
پر مبنی پیغام دینا کےگوشےگوشےمیں کس طرح پہنچا سکتےہیں‘ کیونکہ آج کا عہد افکار
اور تصورات کا عہد ہی۔ کیا ہم امت مسلمہ کےاخبار نویسوں اور میڈیا کےنمائندوں کی
ایک عظیم تنظیم قائم کرسکتےہیں؟ عالم اسلام کےاندر بپاہونےوالےہمہ گیر احتجاج
نےیورپ اور امریکہ پر یہ حقیقت واضح کردی ہےکہ محمد کی ذاتِ والا صفات پر فدا ہونا
مسلمان اپنےلیےسعادت محسوس کرتےہیں‘ چنانچہ قدرتی طور پر اہل یورپ کےاندر نبی
آخرالزماں کی شخصیت کےبارےمیں زیادہ سےزیادہ معلومات حاصل کرنےکی جستجو پیدا ہوگی‘
اور یہی سنہرا موقع ہےاُن تک حیات طیبہ کےبارےمیں ذہنوں اور دلوں کو متاثر کرنےوالا
لٹریچر پہنچانےکا۔ ہمیں اس بنیادی سوال کا بھی جواب فراہم کرنا ہوگا‘ کیا دنیا میں
سرور دو عالم کی تصورات اور تعلیمات کےمطابق کسی علاقےمیں اسلامی فلاحی ریاست قائم
ہی۔
|