|
توہین رسالت: غیرت ایمانی کی آزمائش
اظہار کی آزادی یا شرانگیزی
پسِ پردہ مقاصد:
یورپی ممالک کےاخبارات میں توہین
آمیز کارٹون کی اشاعت کوئی عام یا معمول کا واقعہ نہیں ہی۔ خاص طور پر 9/11 کےبعد اسلام اور پیغمبر اسلام کےبارےمیں دنیا نےجتنا جانا ہے‘ شاید اس سےقبل اس قدر علم غیر مسلموں کو نہیں تھا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ یورپ کےان اخبارات میں ایسی اشاعت معمول کا حصہ ہی‘ یہ بات ہضم ہونےوالی نہیں ہی۔ یورپ جہاں اسلام پر بہت زیادہ تحقیق ہو رہی ہے‘ اس تحقیق میں یہ بات بھی کھل کر سامنےآچکی ہےکہ مسلمان اپنےمذہب کےمعاملےمیں کس قدر جذباتی ہیں۔ اس امر اور حقیقت کے باوجود کہ ایک عام مسلمان جو نماز اور روزےکا پابند نہیں ہی‘ لیکن جب کبھی بھی مسلمان اور اسلام کےحوالےسےکوئی منفی بات سامنےآتی ہےتو مسلمان بھی خاموش نہیں رہتا۔ اس تحقیق کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہےکہ جان بوجھ کر یہ کوشش کی گئی ہےجس کی تصدیق اس امر سےہوتی ہےکہ 30دسمبر2005ءکو ڈنمارک کےاخبار میں شائع ہونےوالےکارٹون کو تسلسل کےساتھ یورپ کےدیگر ممالک جن میں فرانس ‘ اٹلی‘
آئرلینڈ ‘سپین اور دیگر شامل ہیں‘ انہوں نےبھی شائع کیا۔ بظاہر ان کا کہنا ہےکہ انہوں نےاس کارٹون کی دوبارہ اشاعت اپنےساتھی اخبار کےساتھ اظہار یکجہتی کےطور پر کی ہی۔ لیکن حقیقت میں ایسا نظر نہیں
آتا کیوں کہ صحافت کا پہلا اصول یہ ہےکہ کسی افراد کی دل
آزاری نہ ہو۔ جب کہ اس صورت حال نےایک فرد تو کیا دنیا کی
آبادی کے25فی صد سےزائد حصےکی دل
آزاری کی ہی۔ ان کےایمان اور اعتقاد پر حملہ کیا ہی۔ جس کی کوئی قانون‘کوئی معاشرہ‘ کوئی تہذیب اجازت نہیں دیتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ ان اخبارات نےکیوں ایسےکارٹون شائع کیےاور کیوں بعض ممالک ان کا تحفظ کر رہےہیں۔
کہا جاتا ہےکہ 9/11 کےبعد جہاں عالمی سطح پر مسلمانوں اور اسلام کےحوالےسےمنفی پروپیگنڈہ کیاگیا‘ وہاں اسلام پر بڑےپیمانےپر تحقیق بھی شروع ہوئی‘ ساتھ ہی مسلم امّہ میں بھی یہ احساس شدت کےساتھ پیدا ہوا کہ ملک قوم ‘ نسل اور علاقےسےقطع نظر اہل مغرب نےمسلمانوں اور اسلام کو مطعون کرنا شروع کر دیا ہی۔ ان کےلیےخود ان کےممالک میں زندگی کو مشکل بنایا جا رہا تھا‘ لہٰذا ضرورت محسوس کی گئی کہ مسلم امّہ نےاگر اب بھی مشترکہ اور ٹھوس اقدامات نہ کیےتو پھر وقت ہاتھ سےنکل جائےگا۔ اس ضرورت اور احساس نےمسلمانوں کو متحد ہونےکی ترغیب دی۔ ان کوششوں میں جہاں مسلم ممالک نےآگےبڑھ کر کردار ادا کیا‘ وہاں امریکہ اور یورپ میں رہنےوالےمسلمان بھی اپنی عیش و عشرت کی زندگی سےباہر نکل کر سامنےآکھڑےہوئی۔ کیوں کہ یہ حقیقت سب پر
آشکار ا ہوچکی تھی کہ مسلمان خواہ کتنا ہی یورپی اور امریکی انداز اپنا لے‘ ان کی تہذیب میں ڈھل جائےان کی زبان کو اپنالےلیکن جب بھی کبھی تعصب کی لہر اٹھی تو سب مسلمان (چاہےوہ پانچ وقت کا نمازی ہو یا کلبوں میں جانےوالامسلمان) ایک صف میں کھڑےہوجائیں گی۔ ان کی شناخت پھر امریکی یا یورپی کی حیثیت سےنہیں ہوگی بلکہ مسلمان کی حیثیت سےہوگی۔ جب یہ صورت حال ہےتو پھر کیوں نہ بحیثیت مسلمان ہی اپنی شناخت کو مستحکم کیا جائےاور اپنا دفاعی حصار مضبوط کیاجائی۔
یوں مسلم امّہ جو سرد جنگ کےدوران کمیونزم کےمقابلےمیں اہل مغرب کی فرنٹ لائن تھی اس نے9/11 کےواقعےسےسبق حاصل کیا اور اپنی طاقت ‘ اپنےوسائل اپنےلوگوں پر خرچ کرنےکی سوچ اپنائی۔ یہ صورت حال اہل مغرب کو پسند نہیں ہےوہ حسب سابق مسلم دنیا کو اپنا مطیع و فرمانبردار رکھتےہوئےاس کےوسائل پر قبضہ چاہتےہیں۔ لیکن 9/11 کےبعد مسلم امہ نےاپنا جرا¿ت مندانہ روشن خیال اور اعتدال پسند کردار دنیا کےسامنےاجاگر کیا تو مغرب کےاہل دانش پریشان ہوگئی۔ لہٰذاانہوں نےروایتی رجعت پسندی اور بنیاد پرستی کو اپنایا اور مسلمانوں کےایمان و اعتقاد کو نشانہ بنانےکی سازش تیار کی‘ کیوں کہ وہ جانتےہیں کہ مسلمان اپنےمذہب کےمعاملےمیں دیگر مذاہب کےلوگوں سےزیادہ جذباتی ہیں۔ وہ مشتعل ہوکر پھر کوئی ایسا قدم اٹھائیں گےجسےبنیاد بنا کر ایک بار پھر مسلم امّہ کو پستی میں دھکیل دیا جائی۔ لہٰذا مغرب کےدانشوروں کی جانب سےایک سوچی سمجھی اور شعوری کوشش اس طرح کی گئی کہ توہین
آمیز کارٹونز کی تسلسل کےساتھ اشاعت کو جاری رکھاجائی۔
مسلم اُمّہ:
21ویں صدی‘ تیز رفتار ترقی کی صدی قرار دی
گئی ہی۔ گزشتہ دو ہزار برسوں میں جتنی ترقی نہیں ہوئی‘ وہ 21 ویں صدی کےابتدائی چند
برسوں میں ہوئی بلکہ مسلسل ہور ہی ہی۔ ترقی کےاس دور میں تبدیلیوں کا عمل بھی تیز
رفتاری سےجاری ہے‘ اس نےمسلم امّہ کو بھی اپنی روش تبدیل کرنےپر مجبورکر دیا ہی۔
21ویں صدی کا آغاز مسلمانوں الزام تراشیوں کےساتھ شروع ہوا۔
|